نیویارک، 12مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ اوراس کے اتحادی یوکرین میں جنگ کی وجہ سے روس پر مزید دباؤ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اضافی اقدامات کریں گے۔؎
با ئیڈن نے وائٹ ہاؤس میں ایک بیان میں کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحادیوں کے ساتھ تعاون ضروری ہے۔بائیڈن نے روس سے امریکہ کو سمندری الکوحل والے مشروبات کی درآمدپر پابندی کا اعلان کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ روس کو لگژری اشیاء کی برآمدات پر پابندی لگائے گا۔ صدر بائیڈن نے کہا کہ ہم روسی کاروباری رہ نماؤں پر اضافی پابندیاں عائد کرنے کے لیے گروپ آف سیون کے ساتھ ہم آہنگی بڑھا رہے ہیں۔ ماسکو پر اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے روسی اسٹاک ایکسچینج دو ہفتوں کے لیے بند کر دی گئی ہے۔
بائیڈن نے تصدیق کی کہ واشنگٹن یوکرین کو مزید مدد فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یوکرین کو دفاعی ہتھیاروں کی مزید کھیپوں کی آمد میں سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، سینیٹ نے یوکرین کے عوام کی مدد کے لیے اخراجات کا بل منظور کیا ہے۔
بائیڈن نے خبردار کیا کہ روس اور نیٹو کے درمیان تصادم تیسری عالمی جنگ کا باعث بنے گا۔
ہم یوکرین میں روس کیخلاف جنگ نہیں کریں گے مگر پوتین ناکام ہوں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر یوکرین میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے تو روس کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ آخر میں امریکی صدر بائیڈن نے اعلان کیا کہ روس سے ترجیحی ملک کا درجہ ختم کرکے اسے ایک عام ملک کا کا تجارتی درجہ دیا جائے گا۔
جو بائیڈن نے کہا کہ یہ تبدیلی امریکی اتحادیوں کے ساتھ مل کر کی گئی ہے، امریکہ کے لیے روسی سامان کی وسیع رینج پر محصولات عائد کرنے اور گہری کساد بازاری کے دہانے پر کھڑی معیشت پر دباؤ بڑھانے کا راستہ صاف کر دے گی۔
امریکہ، یورپی یونین اور جی سیون روس سے معمول کی تجارت بھی بند کر دیں گے، بائیڈن
امریکی صدر جوبائیڈن نے اعلان کیا کہ امریکہ، یورپی یونین اور سات ممالک کا گروپ جی سیون یوکرین پرحملے کے ردعمل میں روس کے ساتھ معمول کے تعلقات بھی معطل کردیں گے۔ روس کے لیے سب سے زیادہ پسندیدہ قوم کی تجارتی حیثیت کو منسوخ کرنے سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بہت سی روسی اشیا پر محصولات میں اضافے کا موقع ملے گا ،
جس سے روس کی معیشت مزید کمزور ہو گی، جس کے بارے میں پہلے ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پیشن گوئی کی ہے کہ روس سال رواں میں گہری کساد بازاری کا شکار ہوجائے گی۔
بائیڈن نے وائٹ ہاوس میں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ روس کے لیے امریکہ کے ساتھ کاروبار کرنااور عالمی معیشت کا نصف حصہ بنانے کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔انھوں نے کہا کہ یہ روسی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا، جو پہلے ہی ہماری پابندیوں سے بری طرح متاثر ہے۔
امریکہ اور دیگر اتحادیوں نے اس سے پہلے دباو ڈالنے کے لیے اس کی برآمدات اور بینکنگ پر پابندیاں عائد کردی تھیں، تاکہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن یوکرین کے خلاف اپنی جنگ ختم کرنے کا اعلان کریں جو دوسری جنگ عظیم کے بعد یور پ کی سب سے بڑی جنگ ہے۔
اس سے قبل یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنکسی نے ایک نشریاتی ویڈیو میں کہا تھا کہ ان کی فوج ایک اسٹرٹیجک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کہنا ممکن نہیں کہ ہمیں اپنی زمین کو آزاد کرانے میں کتنے دن لگیں گے لیکن یہ کہنا ممکن ہے کہ ہم اسے آزاد کرائیں گے کیونکہ ہم ایک اسٹرٹیجک موڑ پر پہنچ گئے ہیں۔
نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے رومانیہ کے حالیہ دورے میں کہا تھا کہ پوٹن تنازع کے سفارتی حل کے لیے کوئی آمادگی ظاہر نہیں کررہے، جبکہ پوٹن نے جمعہ کو ہیرس کے دعوے کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کے ساتھ بات چیت میں مثبت پیش رفت ہوئی اور یہ کہ مذاکرات اب تقریباً روز انہ کی بنیاد پر ہورہے ہیں۔



