بین الاقوامی خبریں

   چین کی خلیجی ممالک کے ساتھ بڑھتی قربت کیا اشارہ دے رہی ہے؟

لندن،26مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین اور اسلامی دنیا میں ایک ایسے وقت میں قربتیں بڑھ رہی ہیں جب دنیا میں بڑی تبدیلیاں آرہی ہیں۔ چین گلف کوآپریشن کونسل یا جی سی سی کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر تبادلہ خیال کر رہا ہے اور سعودی عرب سے کچھ تیل چینی کرنسی یو آن میں خریدنے کے لیے سرگرمی سیبات چیت میں مصروف ہے۔
یہ وہ باتیں ہیں جو چین کے سرکاری میڈیا گلوبل ٹائمز کے مطابق، چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اسلام آباد میں ہونے والے اسلامی ملکوں کے اجلاس میں کیں، جس کے وہ مہمان خصوصی تھے۔
یہ باتیں کتنی اہم ہیں؟ اگر ان پر عمل ہوتا ہے تو اس کے قلیل المدت اور طویل المدت اثرات دنیا پر، خاص طور پر امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں پر کیا ہوں گے؟ کیا عالمی مالیاتی نظام پر بھی اس کا اثر پڑے گا، اور چین میں مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے سلوک پر بظاہر اسلامی ممالک کیوں خاموش نظر آتے ہیں؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے بارے میں عالمی امور کے ماہرین کی آرا میں تنوع ہے۔ایلان برمن، واشنگٹن میں قائم امریکن فارن پالیسی کونسل کے سینئر نائب صدر ہیں۔ اس بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا سے چین کی بڑھتی ہوئی قربت ایک اہم اسٹریٹیجک شفٹ یا ایک بڑی تبدیلی ہے اور اس کی مختلف وجوہات ہیں۔
ایک تو امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کی نوعیت، جن میں گزشتہ تقریبا 76 برس کے دوران بڑی گرمجوشی رہی لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے وہ گرمجوشی، سرد مہری میں بدل گئی ہے۔دوسرا یہ کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی پالیسی میں بقول ان کے تبدیلی، جہاں امریکہ کی دلچسپی کم ہوئی ہے اور اس خطے میں اس کی زیادہ دلچسپی نہیں رہی ہے اور اس کی زیادہ تر توجہ ایران کو انگیج کرنے پر مرکوز رہی ہے جو سعودی عرب کا حریف ہے۔
اس لیے خطے کے دوسرے ملکوں کی طرح سعودی عرب نے بھی دوسرے اتحادی تلاش کرنے شروع کردیے ہیں۔خیال رہے کہ یمن کی جنگ کے پیش نظر جس میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک اتحاد حوثیوں کے خلاف اور وہاں کی حکومت کی حمایت میں سرگرم ہے اور اتحاد کے طیارے یمن میں حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر مسلسل بمباری کرتے رہتے ہیں جس میں بے گناہ شہری بھی مارے جاتے ہیں۔
اسی کے پیش نظر سعودی عرب کے لیے بعض امریکی ہتھیاروں کا حصول ممنوع کر دیا گیا تھا۔ لیکن حوثیوں کی حالیہ کارروایئوں اور حملوں کے پیش نظر حال ہی میں امریکہ نے سعودی عرب کے لیے ہتھیاروں کے نظاموں کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔
ایلان برمن کا خیال ہے کہ اس دوران چین نے دنیا کے دوسرے ملکوں تک پہنچنے یا گلوبل آوٹ ریچ پروگرام اور اپنے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے دائرے کو وسیع کرکے۔ بیشتر مسلمان ملکوں تک رسائی حاصل کی۔ اور وہ ملک جو پہلے ہی کسی نئے اسٹریٹیجک پارٹنر کی تلاش میں تھے،
اس کے ہمنوا بننے لگے اور جی سی سی ملکوں سے فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے مذاکرات وغیرہ اسی کا حصہ ہیں،جن میں ظاہر ہے ابھی کافی وقت لگے گا۔اس نئی صورت حال کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ یوکرین کی جنگ اور اس کے نتیجے میں روس پر عالمی پابندیوں کے سبب تیل کی عالمی منڈی میں بحرانی کیفیت ہے،
سعودی عرب اور UAE  جیسے ممالک نے جو نئے پارٹنرز کی تلاش میں تھے، تیل کے نئے خریداروں کے لیے آگے آنے کی راہ ہموار کردی، اور چین اس صورت حال سے پورا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے طویل المدت اثرات کیا ہوں گے؟ اس کا انحصار یوکرین کی جنگ کے نتیجے اور امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی آئندہ پالیسیوں پر ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button