بین الاقوامی خبریں

سری لنکا نے بھارت سے ایک ارب ڈالر کا اضافی قرضہ مانگ لیا

کولمبو ، 29مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سری لنکا نے دہائیوں کے بدترین اقتصادی بحران میں ضروری اشیا کی درآمد کے لیے ہندوستان سے ایک ارب ڈالر کا قرضہ مانگ لیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ کی ہمسایہ ملک کی حکومت سے بات چیت کے بعد دو ذرائع نے خبررساں ادارے رائٹرز کو بتائی ہے۔

2 کروڑ بیس لاکھ آبادی کے اس ملک میں گزشتہ دو برسوں میں زرمبادلہ کے ذخائر میں ستر فیصد کمی آئی ہے جس سے اس کی کرنسی کی قدر گرگئی ہے اور ضروری درآمدات کی ادائیگی کے لیے مشکلات کا سامنا ہے ، اس لیے سری لنکا عالمی قرض دہندگان سے مدد لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

غیر ملکی قرضہ واپس کرنے کی اہلیت نہ ہونے کی وجہ سے سری لنکا کی حکومت عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے بھی بات چیت کے لیے تیار ہے،کیونکہ ملک میں ایندھن کی سپلائی میں کمی آئی ہے اور خوراک کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں جس کی وجہ سے مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔

ذرائع کے مطابق نئی دہلی نے اشارتاً کہا ہے کہ وہ قرضہ کی درخواست کو پورا کریں گے اور قرض کی یہ رقم چاول، گندم کا آٹا، دالیں، چینی اور ادویات جیسی ضروری اشیا کی درآمد کے لیے استعمال کی جائے گی۔ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ سری لنکا نے ضروری اشیا کی درآمد کے لیے بھارت سے ایک ارب ڈالر کا اضافی قرضہ مانگا ہے۔ یہ ایک ارب ڈالر کا قرضہ اس کے علاوہ ہوگا جس کا بھارت پہلے ہی وعدہ کرچکا ہے۔

بات چیت ابھی خفیہ ہے اس لیے دونوں ذرائع نے شناخت ظاہر نہیں کی۔ سری لنکا کے وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ کے ساتھ بھارت کی وزارت خارجہ نے بھی فوری طور پر اس خبر پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔بھارت سری لنکا کی تباہ حال معیشت کی مدد ایسے وقت کررہا ہے جب طاقتور راجہ پاکسا کے خاندان کی قیادت میں اس ملک کی سابقہ انتظامیہ گزشتہ دہائی میں جزیرے کو چین کے قریب لے آئی تھی، جس پر نئی دہلی میں بے چینی پیدا ہوئی تھی۔

حالیہ مہینوں میں سری لنکا اور بھارت کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور سری لنکا کے وزیر خزانہ باسل راجا پاکسے نیاہم درآمدات کی ادائیگی میں مدد کے لیے ایک ارب ڈالر کے پہلے قرضے کے معاہدے پر دستخط کے لیے مارچ میں نئی دہلی کا دورہ کیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button