دبئی،30مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)متحدہ عرب امارات کے وزیر توانائی نے روس کے ساتھ تیل کے اتحاد سے وابستگی کا عزم ظاہر کیا ہے۔ جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچنے میں ایسے حالات میں مدد ملی ہے جب کہ یوکرین کے خلاف ماسکو کی جنگ نے عالمی منڈیوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ اور توانائی اور اجناس کی قیمتوں میں بہت اضافہ کردیا ہے۔
وزیر نے کہا کہ روس روزانہ دس ملین بیرل تیل پیدا کرتا ہیاور وہ گلوبل اوپیک توانائی اتحاد کا ایک اہم رکن ہے۔متحدہ عرب کے وزیر توانائی سہیل المزورعی نے کہا ہے کہ سیاست کو الگ ر کھ کر دیکھا جائے تو تیل کی اتنی مقدار کی آج بھی ضرورت ہے۔ ہاں اگر کوئی اور دس ملین بیرل تیل روز نہ فراہم کر سکے تو پھر اس کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ہمیں نظر نہیں آتا کہ اس حوالے سے اس وقت روس کا کوئی نعم البدل موجود ہے۔سعودی عرب اور روس کی قیادت میں یہ اتحاد تیل کی پیداوار میں اضافے کی صلاحیت رکھتا ہے جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہوسکتی ہے جو اس وقت ایک سو ڈالر فی بیرل سے بھی بڑھ چکی ہے۔
امریکہ، یورپی اقوام، جاپان اور دوسرے ملک تیل پیدا کرنے والے خلیجی عرب ملکوں سے تیل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن اس ماہ خود متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب گئے اور اس مسئلے کو اٹھایا۔
وزیر توانائی المزروعی نے کہا کہ اوپیک پلس الائنس قائم رہے گا اور ایسی کسی تجویز کو مسترد کردے گا کہ متحدہ عرب امارات یک طرفہ طور پر تیل کی پیداوار میں اضافہ کرے۔انہوں نے کہا کہ متحد رہتے ہوئے اپنے کام پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے اور سیاست کو اس تنظیم سے الگ رکھتے ہوئے۔
ہم نے ہمیشہ اس بات پر یقین رکھا ہے کہ پیداوار کے بارے میں بہ حیثیت ممالک ہم اپنا فرض ادا کریں، بس سیاست سے دور رہنے کی ضرورت ہے۔اوپیک پلس الائنس اس وقت کے ایک معاہدے کے مطابق تیل کی پیداوار میں بتدریج اضافے کے منصوبے پر قائم ہے، جب کرونا کی وبا کے سبب لاک ڈاؤنز اپنے عروج پر تھے اور توانائی کی مِانگ میں کمی کے سبب پیداوار میں بھاری کٹوتی کا یہ معاہدہ کیا گیا تھا۔
دوبئی میں اٹلانٹک کونسل گلوبل انرجی فورم میں المزروعی نے اپنی تقریر میں آئل اینڈ گیس کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک متحدہ عرب امارات کی سرحدوں کے اندر زہریلی گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور 2050 تک کاربن گیسوں کا اخراج صفر پر لانے کے وعدے کو پورا کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
نیٹو کے بعض رکن ملکوں کی پالیسیوں پر بظاہر نکتہ چینی کرتے ہوئے وزیر توانائی نے کہا کہ یوکرین میں روس کی جنگ کو، جسے انہوں نے ایک بحران کہا، حل کرنے کے لیے سفارت کاری کی ضرورت ہینہ کہ وہاں بے تحاشہ ہتھیار بھیجنے کی۔ کیونکہ ان یتھیاروں کا ہدف بنیادی طور عام لو ہی بنتے ہیں۔
یوکرین پر روس کے حملے کے آغاز ہی سے متحدہ عرب امارات کی اس حوالے سے پالیسیاں مختلف رہی ہیں، یہاں تک کہ اس کے وزیر خارجہ نے اس مہینے کے اوائل میں ماسکو کا دورہ بھی کیا اور تعلقات کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیالات بھی کیا۔



