شنگھائی،30مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین میں کورونا کیسز میں مبینہ طور پر مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے پیش نظر حکومت نے سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ شنگھائی جیسے شہر میں ڈبل لیئر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے۔ کورونا پازیٹیو سامنے آتے ہی لوگوں کو گورنمنٹ قرنطینہ سنٹر بھیجا جا رہا ہے۔ جہاں بہت سے لوگ ان پابندیوں سے راحت محسوس کر رہے ہیں ،جبکہ وہیں بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر اس کے خلاف اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔
زیادہ تر لوگوں کے غصے کی وجہ قرنطینہ سینٹر میں بدانتظامی اور سامان کی ہوم ڈیلیوری کا مسئلہ ہے۔ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ سرکاری قرنطینہ سینٹر میں نہ تو کھانے پینے کا مناسب انتظام ہے اور نہ ہی ادویات کا مناسب انتظام ہے۔ بھیڑ اتنی زیادہ ہے کہ اگر کسی کو ہلکا سا کرونا ہو تو اسے بھی کوئی سنگین بیماری لگنے کا اندیشہ ہے۔
شنگھائی چین کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ یہاں کی آبادی تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ ہے۔ گزشتہ 9 دنوں میں یہاں 13 ہزار سے زیادہ کرونا کے مریض پائے گئے ہیں۔ مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بدھ کو ہی گزشتہ روز کے مقابلے ایک تہائی زیادہ مریض سامنے آئے ہیں۔ یہ تعداد دنیا کے باقی ممالک کے حوالے سے کم ہو سکتی ہے، لیکن چین کرونامعاملہ میں زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپناتا ہے۔



