بین الاقوامی خبریں

شہباز شریف پاکستان کے 23 ویں وزیراعظم منتخب، حامیوں کا جشن

اسلام آباد،11اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان میں سیاسی رسہ کشی اور جمہوری عمل کا اختتام پیر کو پاکستان مسلم لیگ ن کے لیڈر شہباز شریف کے وزیر اعظم چنے جانے کے ساتھ ہوا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد آج نئے قائد ایوان کے انتخاب کے لیے اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں ووٹنگ کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف ملک کے 23 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے۔

شہباز شریف نے کْل 174 ووٹ حاصل کیے۔ شہباز شریف 174 ووٹوں کے ساتھ وزیراعظم منتخب پینل آف چیئر ایاز صادق نے وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کارروائی دوبارہ شروع کی اور ووٹنگ کا عمل کرایا، جس کے نتیجے میں شہباز شریف 174 ووٹوں کے ساتھ وزیراعظم منتخب ہوگئے۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف رہنما اور وزیراعظم کے امیدوار شاہ محمود قریشی کو ایک بھی ووٹ نہیں ملا۔اجلاس تقریباً سوا گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔ پیر کو وزیراعظم کے انتخاب کے لیے بلائے گئے اس اجلاس میں متحدہ اپوزیشن کی جانب سے شہباز شریف جبکہ پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار شاہ محمود قریشی کے درمیان مقابلہ ہونا تھا۔

جو نہ ہو سکا کیونکہ پی ٹی آئی مستعفی ہوتے ہوئے تمام عمل کا بائیکاٹ کر گئی۔اجلاس کا باقاعدہ آغاز قائم مقام اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ مریم نواز، حمزہ شہباز اور کیپٹن صفدر سمیت دیگر اہم شخصیات بھی مہمانوں کی گیلری میں موجود ہیں۔ اس دوران ایوان میں گہماگہمی ہی نہیں/۔

بلکہ کھسر پھسر بھی سنائی دے رہی تھی، جس میں اس وقت کچھ اضافہ دیکھنے کو ملا جب قائم مقام سپیکر نے مائیک وزرارت عظمیٰ کے امیدوار شاہ محمود قریشی کو دیا۔شاہ محمود قریشی نے اپنے مخصوص انداز میں تقریر کا آغاز کیا تو ایسا لگا کہ یہ بھی تحریک عدم اعتماد والے اجلاس کی طرح خاصی طویل ہو گی۔

تاہم ایسا نہیں ہوا، ان کا اجلاس تقریباً 30 منٹ تک جاری رہا جس میں انہوں نے مبینہ دھمکی آمیز خط کا ذکر کیا اور کہا کہ آج کوئی جیت کہ بھی ہارے گا اور کوئی ہار کے بھی جیت گیا۔ ’آج قوم کے سامنے دو راستے ہیں، جن میں سے ایک کو اختیار کرنا ہے۔ ایک راستہ غلامی کا ہے اور دوسرا خودی کا ہے۔

انہوں نے حکومتی بینچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ ایک غیر فطری اتحاد ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں قائد ایوان کے انتخاب میں حصہ لینا ایک ناجائز حکومت کو قانونی حیثیت دینے کے مترادف ہے، اس لیے ہم اس گناہ میں شریک نہیں ہونا چاہتے، میں وزیراعظم کے انتخاب کے عمل کے بائیکاٹ کا اعلان کرتا ہوں، پارٹی کے فیصلے کے تحت ہم سب اسمبلی سے مستعفی ہونے کا بھی اعلان کررہے ہیں۔

اس موقع پر پی ٹی آئی ارکان نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے بھی وزیراعظم کا انتخاب کرانے سے معذت کرلی، ان کا کہنا تھا کہ میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ میں اس کارروائی کا حصہ بنوں، قاسم سوری نے بھی ایوان کی کارروائی ایاز صادق کے حوالے کرتے ہوئے اسپیکر کی نشست چھوڑ دی۔

پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم شہبازشریف نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام ساتھیوں کی کاوشوں سے اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بچا لیا ہے،یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ پاکستان میں کسی وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور باطل کو شکست اور حق کی فتح ہوئی، آج کا دن پوری قوم کے لیے عظیم دن ہے کہ ایوان نے سلیکٹڈ اور جھرلو کی پیدوار وزیراعظم کو گھر کا راستہ دکھایا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button