برازیلی فوجیوں میں ویاگرا کی ہزاروں گولیاں (Viagra pills) کیوں تقسیم کی گئیں؟
حکومتی شفافیت پورٹل سے انکشاف
برازیل، 13 اپریل: (اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) برازیل کی فوج پر اس وقت سخت تنقید کی جا رہی ہے جب ایک نمائندے نے انکشاف کیا کہ فوجیوں کے لیے جنسی محرک دوا ویاگرا (Viagra) کی 35,000 گولیاں خریدی گئی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ملک کے اسپتالوں میں بنیادی ادویات کی کمی ہے، لیکن صدر جائر بولسونارو اور ان کی حکومت عوامی فنڈز کو ویاگرا گولیوں کی خریداری پر خرچ کر رہے ہیں۔
حکومتی شفافیت پورٹل سے انکشاف
برازیل کے مرکز کے بائیں بازو کے رکن پارلیمان، الیاس واز نے انکشاف کیا کہ یہ معلومات حکومت کے شفافیت پورٹل سے حاصل ہوئی ہیں، جو عوامی اخراجات کے ڈیٹا تک آن ڈیمانڈ رسائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستاویزات میں براہ راست ویاگرا کا ذکر نہیں، لیکن ہزاروں گولیاں خریدنے کی منظوری دی گئی ہے جن میں سیلڈینافیل (Sildenafil) موجود ہے، جو ویاگرا میں استعمال ہونے والا بنیادی عنصر ہے۔
وزارت دفاع کا مؤقف
وزارت دفاع نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ یہ خریداری پلمونری ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا مریضوں کے علاج کے لیے کی گئی ہے، کیونکہ ویاگرا جیسی ادویات پلمونری وریدوں کی توسیع میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ تاہم، اس وضاحت کے باوجود حکومت اور فوج پر شدید تنقید جاری ہے۔
حکومت کی دوہری پالیسی پر سوالات
انٹرنیٹ صارفین نے سوشل میڈیا پر اس معاملے پر سخت تبصرے کیے، جبکہ بائیں بازو کے رکن پارلیمنٹ مارسیلو فریکسو نے سوال اٹھایا کہ "کیا انتہائی دائیں بازو کے صدر جیر بولسونارو کی حکومت نے یہ گولیاں خریدی ہیں، جب کہ اسی حکومت نے وہ بل ویٹو کر دیا تھا جو غریب خواتین میں سینیٹری پیڈ کی مفت تقسیم کی اجازت دیتا تھا؟”
رپورٹس کے مطابق، عوامی دباؤ کے بعد، بولسونارو نے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا اور مارچ کے اوائل میں صحت سے متعلق مصنوعات کی مفت تقسیم کی اجازت دیتے ہوئے ایک سرکاری فرمان پر دستخط کر دیے۔



