شاعر: احمد فرازؔخوابِ گُل پریشاں ہےـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ ـ سُنا ہے ـ ـ لوگ اُسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ــــ اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ ربط ہے اُس کو خراب حالوں سے سو ــــ اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ درد کی گاہگ ہے چشمِ ناز اُس کی سو ـــ ہم بھی اُس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ اُسے بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ــــ ہم بھی معجزے اپنے ھُنر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ بولے تو باتوں سے پُھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے ــــ تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ رات اُسے چانـد تکتا رہتا ہے ســـتارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ دن کو اُسے تتلیاں ستاتی ہیں سُنا ہے ـ ـ رات کو جُگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں سُنا ہے ـ ـ اُس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ رات سے بڑھ کر ہیں کلیں اُس کی سُنا ہے ـ ـ اُس کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ اُس کی سیہ چشمگی قیامت ہے سو ــــ اُس کو سُرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ اُس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ــــ ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ آئینہ تمثال ہے جبیں اُس کی جو سادہ دل ہیں ــ اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ جب سے حمائل ہیں اُس کی گردن میں مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں پلنگ زاویے اُس کی کمر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ اُس کے بدن کی تراش ایسی ہے کہ ــــ پُھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں وہ سرو قد ہے ـ ـ مــــگر بے گلِ مُراد نہیں کہ ــــ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں بس اِک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا سو ــــ رہروانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں سُنا ہے ـ ـ اُس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں اُدھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں رُکے تو گردشیں اُس کا طواف کرتی ہیں چلے تو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں کسے نصیب کہ بے پیرہن اُسے دیکھے کبھی کبھی در و دیوار گھر کے دیکھتے ہیں کہانیاں ہی سہی ـ ـ سب مبالغے ہی سہی اگر وہ خواب ہے ــ تو تعبیر کر کے دیکھتے ہہیں اَب اُس کے شہر میں ٹھہریں ـ ـ کہ کوچ کر جائیں