بین الاقوامی خبریں

سری لنکا میں تشدد: مظاہرین میں گھرے مہندا راجا پاکشے کو خاندان کے ساتھ بحری اڈے پر لینی پڑی پناہ

کولمبو ،10مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ملک بھر میں مسلم مخالف پالیسیوں کے تجربات کے بعد نتیجتاً پیدا اقتصادی بحران کے باعث تشدد ، آگ زنی کے درمیان سابق وزیر اعظم مہندا راجا پاکشے اور ان کے اہل خانہ نے ملک کے شمال مشرقی حصے میں واقع ٹرنکومالی میں واقع بحری اڈے میں پناہ لی ہے۔لوگوں نے ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد احتجاج شروع کر دیا کہ سابق وزیر اعظم مہندا راجا پاکشے اور ان کے خاندان کے کچھ افراد کولمبو میں اپنی سرکاری رہائش گاہ چھوڑنے کے بعد ٹرنکومالی نیول بیس پر موجود تھے۔سری لنکا میں پیر کو اس وقت کے وزیر اعظم مہندا راجا پاکشے کے حامیوں کی جانب سے ملک کے سنگین معاشی بحران پر حکومت مخالف مظاہرین پر حملہ کرنے کے بعد تشدد پھوٹ پڑا۔

کولمبو اور دیگر شہروں میں تشدد کے واقعات میں 200 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مہندا راجا پاکشے نے ملک میں معاشی بحران کے درمیان پیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔اسی پیش رفت سے چند گھنٹے قبل دارالحکومت کولمبو میں فوج کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور مہندا راجا پاکشے کے حامیوں کی جانب سے صدر مملکت کے دفتر کے باہر مظاہرین پر حملے کے بعد ملک بھر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

ڈیلی مرر کے مطابق وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ سے نکلنے کے بعد مہندا راجا پاکشے اور ان کے خاندان کے کچھ افراد کے وہاں پہنچنے کی اطلاعات کے بعد ٹرنکومالی نیول بیس کے سامنے احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ ٹرنکومالی ایک بندرگاہی شہر ہے جو سری لنکا کے شمال مشرقی ساحل پر واقع ہے۔ پیر کے روز ہمبن توتا میں راجا پاکشے کی آبائی رہائش گاہ سمیت متعدد سیاستدانوں کے گھروں کو نذر آتش کر دیا گیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button