دبئی ،12؍مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب کی تیل اور گیس کی قومی کمپنی آرامکو امریکہ کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی سب سے قدر و قیمت والی کمپنی بن گئی۔ بدھ کے روز شیئر مارکیٹ بند ہونے پر اس کے حصص کی قیمت کی بنیاد پر کمپنی کی مالیت 2.42 ٹریلین (کھرب) ڈالر تھی۔کہا جاتا ہے کہ آرامکو تیل اور قدرتی گیس پیدا کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے۔ اس کے برعکس گزشتہ ماہ کے دوران ایپل کمپنی نے اپنے حصص کی قیمتوں میں کافی کمی دیکھی، اور بدھ کے روز تجارت ختم ہونے پر اس کی مالیت صرف 2.37 ٹریلین ڈالر ہی رہ گئی۔اس سے پہلے تک ایپل کمپنی اپنے حصص کی قیمت کی بنیاد پر دنیا کی سب سے زیادہ مالیت والی کمپنی تھی اور اس طرح قدر و قیمت کے لحاظ سے اول نمبر پر تھی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ رواں برس کے پہلے تین مہینوں میں صارفین کی جانب سے ایپل کے پروڈکٹ کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور اطلاعات ہیں کہ کمپنی کو توقع سے بھی زیادہ منافع بھی ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود اس کے شیئرز میں گراوٹ درج کی گئی ہے۔ میں کووڈ 19 کے سبب لاک ڈاؤن کی وجہ سے سپلائی چین میں پریشانیوں کا سامنا رہے گا، جس سے جون کی سہ ماہی کے نتائج میں چار سے آٹھ ارب ڈالر تک کے نقصان کی توقع ہے۔
ایپل کے چیف فنانشل افسر لوکا میسٹری نے تجزیہ کاروں کے ساتھ ایک کانفرنس کال پر بات چیت کے دوران کہاکہ کووڈ 19 سے متعلقہ رکاوٹیں اور صنعت میں سیلیکون کی کمی اور سپلائی میں آنے والی دیگر رکاوٹیں، صارفین میں ہماری مصنوعات کی طلب کو پورا کرنے کی ہماری صلاحیت کو متاثر کر رہی ہیں۔کچھ بگ ٹیک ساتھیوں کی ٹھوکر کے بعد نتائج اچھے لگ رہے تھے کیونکہ وبائی بیماری کی سست روی اور کمپنیاں بڑھتے ہوئے آپریٹنگ اور مزدوری کے اخراجات کا سامنا کرنے کے درمیان گھر میں قیام کی مانگ میں اضافہ ہوا تھا۔
دنیا میں تیل کی سب سے بڑی کمپنی ‘سعودی آرامکو’ حال ہی میں گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریبا 124 فیصد منافع میں اضافے کی اطلاع دی تھی۔ حالانکہ کمپنی پر یمن کے حوثی باغیوں نے حملہ کیا تھا جس کی وجہ سے کچھ گھنٹے کے لیے کمپنی کی پیداوار میں ”عارضی” کمی بھی واقع ہوئی تھی۔سن 2020 میں کورونا کی وبا کی وجہ سے آرامکو کی مجموعی آمدنی محض 49 ارب ڈالر ہی رہ گئی تھی لیکن پھر جیسے ہی عالمی معیشت میں بہتری آنی شروع ہوئی، تو کمپنی نے 2020 کے مقابلے میں گزشتہ برس 124 فیصد کے اضافے کے ساتھ 110 ارب ڈالر کا منافع درج کیا۔
سعودی آرامکو خام تیل برآمد کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں سے ایک ہے اور اب جبکہ یوکرین پر روس کے حملے اور اس کے نتیجے میں ماسکو کے خلاف پابندیوں نے توانائی کی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، آرامکو پر پیداوار بڑھانے کا کافی دباؤ ہے۔لیکن اس دوران آرامکو کے صدر اور سی ای او امین ناصر نے خبردار کیا کہ ”جغرافیائی سیاسی عوامل” کی وجہ سے کمپنی کی جزوی حالت غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اپنی خام تیل کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے، گیس کی توسیع کے اپنے پروگرام کو پورا کرنے اور اپنے مائعات کو کیمیکلز کی صلاحیت تک لے جانے کی پیش رفت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔سن 2021 کے منافع کے نتائج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کمپنی کی ”معاشی حالات میں کافی بہتری آئی ہے۔” ان کے مطابق پچھلے سال مضبوط معاشی بحالی کی وجہ سے تیل کی مانگ میں اضافہ ہوا اور 2020 کی کم ترین سطح کی قیمتیں پھر سے بحال ہوئیں۔



