بین الاقوامی خبریں

دنیا میں کورونا محدود ہونے لگا مگر شمالی کوریا میں وبا کا آغاز

شمالی کوریا نے پہلی مرتبہ کووڈ انفیکشن کا اعتراف کیا

دبئی ،12؍مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دنیا سے بڑی حد تک الگ تھلک ملک شمالی کوریا نے کورونا وائرس کے ایک بھی کیس کا کبھی بھی اعتراف نہیں کیا۔ حکومت نے سن 2020 میں اس وبا کے آغاز کے بعد سے ہی اپنی سرحدوں پر سخت ترین پابندیاں عائد کردی تھیں۔شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کی رپورٹ کے مطابق کوروناوائرس کے انتہائی تیزی سے منتقل ہونے والے اومیکرون ویرینٹ کے ذیلی ویرینٹ کے کیس کا دارالحکومت پیانگ یانگ میں پتہ چلا ہے۔جمعرات کوشمالی کوریا نے ملک میں کرونا وائرس کے پہلے انفیکشن کے اندراج کی تصدیق کی ہے۔

اس کیس کے سامنے آنے کے بعد سرکاری میڈیا نے اسے سنگین قومی ایمرجنسی قرار دیا ہے۔سرکاری کورین سینٹرل نیوز ایجنسی نے کہا کہ انفیکشن اومیکرون سے مطابقت رکھتا ہے جو کہ کرونا وائرس کا ایک تبدیل شدہ ورژن ہے جس میں پھیلنے کی اعلی صلاحیت ہے۔ سی این اے کے مطابق کِم نے ملک کے تمام شہروں اور قصبات میں سختی سے لاک ڈاون نافذ کرنے کا حکم جاری کیا ہے تاکہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے اور ہنگامی طبی خدمات کو سرگرم کردیا جائے۔جنوبی کوریا اور چین کے میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق کووڈ 19وائرس کا ذکر کیے بغیر شمالی کوریاکے شہریوں کو مشورہ دیاگیا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں۔

ایجنسی نے مزید کہا کہ رہنما نے ”ہمیں یقین دلایا کہ سیاسی بیداری کی اعلیٰ سطح کی بدولت جس سے عوام لطف اندوز ہو رہے ہیں ہم یقینی طور پر ہنگامی صورتحال پر قابو پالیں گے اور ہنگامی قرنطینہ منصوبے میں کامیاب ہوں گے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی وبائی امراض کے ماہرین نے توقع ظاہر کی تھی کہ آنے والا موسم گرما پُرسکون اور گذشتہ دو سالوں کے موسم گرما سے مختلف ہو گا کیونکہ گذشتہ دو برسوں میں کووِڈ 19 کا شکار ہونے والے افراد سے دنیا بھرمیں اسپتال بھر گئے تھے اور اموات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا تھا۔اگرچہ ماہرین صحت کیسوں میں اضافے کی توقع کرتے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ لہر پچھلی دو گرمیوں کی طرح تباہ کن نہیں ہوگی۔

پچھلی دو گرمیوں کے برعکس بہت سے لوگوں کو کرونا وائرس سے کچھ استثنیٰ حاصل ہوا ہے۔ یہ سب کرونا کی ویکسی نیشن مہم اور بوسٹر خوراک کی بدولت ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں کرونا کے کیسز میں کمی آئی ہے۔شمالی کوریا نے کووڈ 19کے عالمی ویکسین پروگرام کوویکس نیز چین کی ویکسین کمپنی سائنو ویک بایوٹیک کی طرف سے بھیجی جانے والی کووڈ ویکسین کو وصول کرنے سے منع کردیا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button