بین الاقوامی خبریں

شہید ابوعاقلہ کی آخری رسومات کی ادائی، میت بیت المقدس منتقل

رملہ ،13مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے شہید ہونیوالی فلسطینی خاتون صحافی شیرین ابو عاقلہ کی جمعرات کے روز رملہ میں کنسلٹنٹ اسپتال میں آ خری رسومات کی ادائی کے بعد میت کو بیت المقدس منتقل کردیا گیا ہے جہاں آج جمعہ کو اس کی تدفین کی جائے گی۔رام اللہ کے ایک اسپتال میں پوسٹ مارٹم کے بعد شہیدہ کے جسد خاکی کو فلسطینی پرچم میں لپیٹنے کے بعد اسے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور اس کے بعد اس کا جسد خاکی بیت المقدس منتقل کردیا گیا ہے۔

شہید خاتون صحافی کے آخری رسومات کی ادائی کے بعد سرکردہ سیاسی، ابلاغی اور قومی شخصیات کی موجودگی میں میت کو قافلے کی صورت میںبیت المقدس منتقل کیا گیا۔ ادھر فلسطینی صدر محمود عباس نے ابو عاقلہ کے قتل کی تمام تر ذمہ داری اسرائیلی ریاست پر عاید کی ہے۔ایک بیان میں صدر عباس نے کہا کہ ہم اسرائیل کی طرف سے شیرین ابو عاقلہ کے قتل کی مشترکہ تحقیقات کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

ابو عاقلہ کا قتل سنگین نوعیت کا جرم ہے۔ ہمیں اسرائیلی ریاست پر کوئی اعتبار نہیں۔ ہم اس معاملے کو مجرموں کو کہٹریمیں لانے کے لیے عالمی فوج داری عدالت میں لے جائیں گے۔رام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر میں شہید کی آخری رسومات کی ادائی کے موقعے پر ہلال احمر فلسطین نے شہیدہ کا جسد خاکی موصول کیا جس کے بعد اسے قافلے کی شکل میں رام اللہ کے لیے روانہ کردیا گیا۔ ابو عاقلہ کی آخری رسومات آج جمعہ کو تین بجے ادا کرنے کے بعد باب الخلیل کے رومن کیتھولیک چرچ کے ’صہیون‘ قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔


اسرائیلی حکام فلسطینی نامہ نگارابوعاقلہ کی موت کے ذمہ دار ہیں:محمودعباس

غزہ ،13مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) فلسطینی صدرمحمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام مقبوضہ مغربی کنارے میں جھڑپوں کے دوران میں الجزیرہ کی تجربہ کار صحافیہ شیرین ابوعاقلہ کے قتل کے ’مکمل ذمہ دار‘ہیں۔انھوں نے اس واقعہ کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ محمودعباس نے فلسطینی نڑاد امریکی رپورٹرشیرین ابوعاقلہ کے اعزاز میں جمعرات کو منعقدہ سرکاری یادگاری تقریب میں کہا کہ ہم نے اسرائیلی قابض حکام کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کو مسترد کر دیا ہے کیونکہ انھوں نے یہ جرم کیا تھا اور ہمیں ان پرکوئی بھروسہ نہیں ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ فلسطینی اتھارٹی مجرموں کا سراغ لگانے کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کرے گی۔اسرائیل نے ابوعاقلہ کی موت پر افسوس کا اظہارکیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ان کے قتل کا جائزہ لے رہا ہے اور یہ جان لیوا گولی کسی فلسطینی بندوق بردار نے چلائی ہوگی۔اس نے فلسطینیوں کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کی تجویز پیش کی ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ مقتولہ کو لگنے والی گولی جانچ کے لیے مہیّا کریں۔

الجزیرہ کی نامہ نگار شیرین ابوعاقلہ بدھ کی صبح اسرائیلی فوج کی مقبوضہ مغربی کنارے میں جنین کے پناہ گزین کیمپ میں کارروائی اور اس کی فلسطینیوں سے جھڑپ کی کوریج کررہی تھیں۔اس دوران میں وہ اسرائیلی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئیں۔قطر کے ملکیتی الجزیرہ نیٹ ورک نے اسرائیل پرالزام عائد کیا ہے کہ اس نے اس کی خاتون رپورٹر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا اورانھیں قتل کیاہے۔الجزیرہ نے واضح کیا ہے کہ 51 سالہ ابوعاقلہ نے جنین میں رپورٹنگ کے دوران میں نیلے رنگ کی واسکٹ پہن رکھی تھی جس پر واضح طور پر’پریس‘ کا نشان تھا۔

وہ جنین میں اسرائیلی فوج کی جانب سے شروع کیے گئے گرفتاری آپریشن کی کوریج کر رہی تھیں۔جائے وقوعہ پر موجود ایک اور فلسطینی صحافی علی محمودی بھی گولی لگنے سے زخمی ہوگئے تھے۔ابوعاقلہ کی میت کو غربِ اردن کے مرکزی شہررام اللہ کے ایک اسپتال سے صدر محمودعباس کے دفاترکی طرف ایک موٹرکیڈ کے ساتھ لے جایا گیا جہاں سیکڑوں سوگوار سڑک کے دونوں اطراف قطار میں کھڑے تھے اور کچھ پھول پھینک رہے تھے۔امریکہ ، اقوام متحدہ ، پاکستان ، یورپی یونین اور عرب ممالک نے فلسطینی رپورٹر کے دن دہاڑے فرائض منصبی انجام دیتے ہوئے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ان کی موت کے واقعہ کی ’’جامع تحقیقات‘‘کا مطالبہ کیا ہے۔


اسرائیلی فوج کا جنین پر دھاوا ، فلسطینیوں کے ساتھ شدید جھڑپیں

غزہ،13مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اسرائیلی فوج نے آج جمعے کے روز مغربی کنارے میں واقع جین پناہ گزین کیمپ سے ملحقہ علاقے الہدف پر دھاوا بول دیا۔ اس دوران فائرنگ کا تبادلہ اور مسلح فلسطینیوں کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں۔نمائندے کے مطابق اسرائیلی فورسز نے علاقے میں الدبعی خاندان کے گھر کا گھیراؤ کر لیا اور لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے گھر میں روپوش دو نوجوانوں کو باہر آنے کے لیے کہا۔نمائندے کا کہنا ہے کہ دو میں سے ایک نوجوان نے خود کو حوالے کر دیا جب کہ دوسرا ابھی تک گھر میں موجود ہے۔

واقعے سے متعلق سامنے آنے والے ویڈیو کلپوں میں اسرائیلی فوج کو شدید فائرنگ اور جھڑپوں کے بیچ شہر کے وسطے علاقے پر دھاوا بولتے دیکھا جا سکتا ہے۔جھڑپوں میں 10 افراد زخمی ہوئے۔ ان میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔کارروائی کے دوران میں اسرائیلی فوج نے کئی مقامات اور گھروں کی چھتوں پر نشانچیوں کو تعینات کر دیا۔ یہ بات فلسطینی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔ یاد رہے کہ گذشتہ دونں کے دوران میں جنین میں غیر معمولی نوعیت کی کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

بالخصوص فلسطینی خاتون صحافی شیرین ابو عاقلہ کی ہلاکت کے بعد جو جنین کیمپ کے واقعات کی کوریج کے دوران میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اپنی جان دھو بیٹھیں۔رواں سال 22 مارچ سے مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے بیچ کشیدگی کے کئی واقعات رونما ہوئے۔ بالخصوص مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں جہاں اسرائیلی فورسز وار فلسطینی نمازیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ان کے علاوہ چاقو سے حملوں کے مختلف واقعات بھی پیش آئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button