بین الاقوامی خبریں

سعودی عرب میں کم عمروں کو ستانے کی کیا سزا مقرر ہے؟

ریاض، 26/مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سعودی عرب میں ہم جماعت دوست طالبہ سے مار پیٹ اور ستانے والی ایک لڑکی کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو پر بہت لے دے ہو رہی ہے، ایسے میں قانونی مشیر بندر العمودی ایڈووکیٹ نے اس واقعہ پر تبصرہ کیا ہے۔العمودی نے کہا کہ مردم آزاری معاشرے میں ناپسندیدہ فعل سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کی سزا زمان اور مکان کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دفتر اورا سکول میں ایک دوسرے کو بلا جواز تنگ کرنے کی سزا مختلف ہوتی ہے۔ کم عمر بچوں کی باہمی مار پیٹ پر بھی سزا کا تعین روا رکھی جانے والی زیادتی اور ظلم کے تناظر میں ہی کیا جاتا ہے۔

کم عمر بچوں کی جانب سے دوسروں کو تنگ کرنے کی پاداش میں ان کے والدین کو اسکول بلوا کر زیادتی کے مرتکب بچے کی سرزنش کی جاتی ہے اور انہیں اس امر کا پابند بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آئندہ ان کا بچہ ایسی حرکت کا ارتکاب نہ کرے۔انہوں نے بتایا کہ کم عمر بچوں کو اپنے ہم عمروں کو ستانے پر امتحانی نمبر کاٹنے سے لے کر پچھلی جماعت میں بھجوانے کی سزا دی جاتی ہے، تاہم اگر بچے کی مردم آزاری اگر زیادہ خطرات نوعیت کی ہو تو اس کا اسکول بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ عمر اور حالات کے لحاظ سے مردم آزاری کی سزا مختلف ہو سکتی ہے۔ قانونی طور پر عدالتیں 15 برس کے بچے کو عاقل بالغ سمجھتی ہیں۔

تاہم مجلس شوری کے ایک فیصلے کی روشنی میں سن بلوغت 18 برس مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ قوانین اٹھارہ برس سے کم عمر کو نابالغ ہی تصور کرتے ہیں اور اس اعتبار سے انہیں وہی سزا دی جاتی ہے۔مملکت میں کسی بھی عاقل بالغ شخص کو دوسروں کو ستانے کی سزا پانچ لاکھ سعودی ریال اور کم سے کم ایک برس کے لیے قید کیا جا سکتا ہے۔ یہ سزا bullying کا جرم ثابت ہونے پر دی جائے گی۔

یاد رہے کہ ساتھی طالبہ سے مار پیٹ کی ویڈیو مملکت کے اندر جنگل کی آگ کی طرح پھیلی جس میں زیادتی کی مرتکب طالبہ کے کردار پر سخت تنقید کی جاتی رہی، جس کے بعد ریاض کی پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔اس کے بعد پولیس ہیڈ کوارٹر کو ساتھی طالبہ سے مارپیٹ اور ستانے کا ناپسندیدہ اقدام کرنے والی طالبہ کی شناخت پبلک کرنا پڑی جس کے بعد متعلقہ اداروں کو اس کے خلاف ضروری قانونی کارروائی کرنا پڑی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button