بین الاقوامی خبریں

یوکرین میں شدید لڑائی، ڈونباس کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا : یوکرینی صدر

کیف؍لندن، 9 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ شہر سیورودونستک پر قبضے کے لیے شدید لڑائی جاری ہے اور یہی دونباس خطے کے مستقبل کا تعین کرے گی۔خبررساں اداے روئٹرز کے مطابق دارالحکومت کیف پر قبضے میں ناکامی کے بعد کریملن کا کہنا ہے کہ اب وہ یوکرین سے الگ ہونے والے دونباس کو مکمل طور پر آزاد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جہاں 2014 میں روسی حمایت یافتہ علیحدگی پسند یوکرینی حکومت کے کنٹرول سے الگ ہوئے تھے۔روس کی جانب سے 24 فروری کو کیے جانے والے حملے سے قبل دونباس کا ایک تہائی حصہ علیحدگی پسندوں کے پاس تھا۔

رپورٹ کے مطابق یوکرینی صدر زیلنسکی نے بدھ کو ایک ویڈیو پیغام میں کہاکہ یہ بہت سفاکانہ جنگ ہے جو شاید اب تک ہونے والی پوری جنگ کا مشکل ترین مرحلہ ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سیورودونستک ڈونباس میں جاری وسیع تصادم کا مرکز بنا ہوا ہے اور یہی وہ مقام ہے، جو ڈونباس کی قسمت کا فیصلہ کرے گا۔بدھ کے روز روسی فوج نے سیورودونستک شہر سے یوکرینی فوجیوں کو پیچھے دھکیل دیا تھا اور وہ مضافاتی علاقوں تک محدود ہو گئے تاہم انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جتنا ہو سکے وہ لڑیں گے۔صوبہ لوہانسک کے گورنر سرہی گیدائے کا کہنا ہے کہ بھاری گولہ باری نے شہر شدید نقصان پہنچایا ہے اور مزید تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے رات گئے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے جنگجو اس وقت سیورودونستک کے صنعتی زون میں موجود ہیں تاہم لڑائی صرف صنعتی زون تک محدود نہیں بلکہ شہر کے اندر بھی ہو رہی ہے۔گیدائے کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تک یوکرین کی فوج سیورودونستک کے چھوٹے شہر لائیسی چینسک کا کنٹرول سنبھالے ہوئے ہے تاہم روسی فوجی وہاں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں یوکرین کے سفیر اوکسنا مارکراروفا نے سی این این کو بتایا کہ یوکرین لوہانسک اور ڈونسٹک میں یوکرین کے فوجیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی جو کہ ڈونباس کے اہم علاقے ہیں اور وہاں زیادہ تر روسی زبان بولی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button