لندن، 20 جون:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پناہ گزین بچوں کے مسائل اجاگر کرنے کے لیے ایک شامی بچی کا دیوہیکل پتلا اتوار کو انگلینڈ پہنچا جہاں اسے اہم مقامات پر لے جایا جائے گا۔ نیوز کے مطابق یہ پتلا ایک 10 سالہ شامی پناہ گزین بچی ’امل‘ کا ہے جو گزشتہ برس جولائی ترک شام سرحد سے مانچسٹر پہنچا ُاور عالمی سطح پر انسانی حقوق کی علامت بن گیا۔ عربی زبان میں امل کا مطلب ’اُمید‘ ہے۔
رواں برس ساڑھے تین میٹر لمبے اس پتلے نے مانچسٹر کا دورہ کیا اور اب وہ وہاں ہزاروں فیملیز اور بچوں کے ساتھ مانچسٹر ڈے پریڈ کا مہمان خصوصی ہو گا۔یہ پتلا انگلینڈ کے 10 شہروں اور قصبوں کا دورہ کرے گا اور پیغام دے گا کہ ہمارے بارے میں مت بھولیں۔آرٹسٹک ڈائریکٹر امیر نذر زوابی نے کہا کہ اس وقت دنیا کی توجہ کسی اور طرف ہے۔ یہ پہلے سے زیادہ اہم ہے کہ پناہ گزینوں کے بحران پر بات کی جائے۔ہاں! پناہ گزینوں کو خوراک اور کمبلوں کی ضرورت ہے، لیکن انہیں آواز کی ضرورت ہے۔
امل کا پتلا ساڑھے تین میٹر اونچا ہے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ دنیا اس کو خوش آمدید کہنے کے لیے بڑی ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں متاثر کرے تاکہ ہم بڑا سوچیں اور بڑے کام کریں۔مانچسٹر ڈے پریڈ کے بعد امل کا پتلا بریڈ فورڈ، لیڈز اور لیور پول ڈاکس کا دورہ کرے گا۔ وہ برمنگھم، چیلتن ہام، برسٹل میں کمیونٹیز سے ملاقات کرے گا۔
اس کے بعد وہ لندن کے ساؤتھ بینک سنٹرل پہنچے گا اور کینٹ میں اپنے سفر کا اختتام کرے گا۔مئی میں امل کا یہ پتلا یوکرین میں بچوں اور خواتین کے لیے امداد لے کر پولینڈ پہنچا تھا۔رواں برس ستمبر میں یہ پتلا امریکہ کے شہر نیویارک جائے گا۔



