بین الاقوامی خبریں

افغانستان میں زلزلہ کے بعد قیامت صغریٰ: لوگ ایک کے بعد ایک قبر کھود رہے ہیں

کابل، 23جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) افغانستان میں بدھ کے روز آنے والے زلزلے کے بعد جمعرات کو بھی امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جب کہ 1500 کے قریب زخمی ہیں جن میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔زلزلے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے پکتیکا کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ محمد امین حذیفہ کا کہنا ہے کہ صرف پکتیکا صوبے میں زلزلے کے باعث کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک ہوئے ہیں جہاں لوگ ایک کے بعد ایک قبر کھود رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق محمد امین حذیفہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ زلزلے سے 1500 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے جب کہ اب بھی کئی افراد مختلف مقامات پر ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے طالبان حکومت نے عالمی اداروں سے امداد کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ متاثرین کی مدد کے لیے پہنچیں اور اس حوالے سے عالمی پابندیوں کی صورت میں افغان حکومت پر عائد پابندیوں کو بھی ختم کیا جائے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا کہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن جاری ہے اور اس قدرتی آفت سے ہونے والے نقصان پر ہر شہری دکھ کا شکار ہے۔انہوں نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے بدھ کی شب قطر سے ایک طیارہ کابل پہنچا ہے۔ تاہم ذبیح اللہ مجاہد نے یہ نہیں بتایا کہ امدادی طیارے میں کیا سامان لایا گیا ہے۔

طالبان حکومت کے سینئر رہنما انس حقانی نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ حکومت اپنی تمام صلاحیت کے مطابق کام کر رہی ہے تاہم انہیں امید ہے کہ عالمی برادری اور امدادی تنظیمیں مشکل کی گھڑی میں افغان عوام کی مدد کریں گے۔افغان کرکٹر راشد خان نے بھی اپیل کی ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں لوگ افغان عوام کی مدد کریں۔ انہوں نے متاثرین کے لیے عطیات جمع کرنے کے لیے کرکٹرز شاہد آفریدی، ہاردک پانڈیا اور ڈیوائن براوو سے بھی کہا ہے کہ وہ ویڈیوز بنائیں اور اس عظیم کام میں اپنا حصہ ڈالیں۔

دوسری جانب امریکہ نے افغانستان میں زلزلہ متاثرین کی امداد کا اعادہ کیا ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن کا کہنا ہے کہ امریکہ اس بات کاجائزہ لے رہا ہے کہ متاثرین تک امداد کیسے پہنچائی جائے۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ زلزلے سے متاثرہ افغان عوام کی مدد کے لیے عالمی تنظیم مکمل طور پر متحرک ہو چکی ہے اور متاثرہ علاقوں میں خوراک، ادویات، خیمے اور دیگر ضروری اشیا روانہ کر دی گئی ہیں۔واضح رہے کہ زلزلے سے متاثرہ علاقے پہلے ہی شدید بارشوں کے نتیجے میں قدرتی آفات سے دوچار تھے جہاں امدادی رضاکاروں کو کام جاری رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ہر طرف چیخ و پکار تھی‘، افغانستان میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں

افغانستان میں بدھ کو آنے والے زلزلے کے بعد امدادی کاررائیوں میں بارش کے باعث مشکلات پیش آئیں اور حکام نے کہا ہے کہ لوگ ابھی تک ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو زلزلے سے متاثرہ علاقے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے ریسکیو کا کام جاری ہے اور امدادی کارکنوں کو دشواری کا سامنا ہے۔

اس حوالے سے طالبان کے سپریم لیڈر ہبۃ اللہ اخوندزادہ نے بھی خبردار کیا کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔زلزلہ زدہ علاقے پہلے ہی طوفانی بارشوں سے متاثر تھے جس کی وجہ سے پہاڑی چٹانیں اور مٹی کے تودے گرے، جو اب امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ کا باعث ہیں۔پکتیکا صوبے کے دارالحکومت شاران کے ہسپتال میں داخل 22 سالہ اروپ خان کا کہنا ہے ’یہ ایک خوفناک صورتحال تھی۔ہر طرف چیخ و پکار تھی۔ بچے اور میرا خاندان مٹی تلے دب گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button