بین الاقوامی خبریں

میانمار: آنگ سان سوچی جیل میں قید تنہائی میں منتقل

ینگون، 24جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)میانمار کی فوجی حکومت نے معزول رہنما آنگ سان سوچی کو ایک خفیہ مقام سے اب ایک جیل میں قید تنہائی میں منتقل کر دیا ہے۔فوجی جنٹا نے اس اقدام کو ملکی مجرمانہ قوانین کے عین مطابق قرار دیا۔میانمار کی فوجی حکومت کے ایک ترجمان زاو من ٹن نے بتایا کہ آنگ سان سوچی کو ایک خفیہ مقام پر رکھا گیا تھا لیکن بدھ کے روز سے اب انہیں دارالحکومت نیپی داو میں ایک جیل میں قید تنہائی میں منتقل کردیا گیا ہے۔آنگ سان سوچی کو یکم فروری 2021 کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا تھا جب فوج نے ان کی منتخب حکومت کو معزو ل کردیا تھا۔ ابتدا میں انہیں دارالحکومت میں ان کی رہائش گاہ پر رکھا گیا تھا تاہم بعد میں انہیں ایک دیگر مقام پر منتقل کردیا گیا۔ پچھلے ایک سال سے ان کے ٹھکانے کے بارے میں کسی کو نہیں بتایا گیا۔

تاہم سمجھا جاتا ہے کہ انہیں کسی فوجی اڈے پر رکھا گیا تھا۔بعض ذرائع کے مطابق ان کی رہائش گاہ پر مدد کے لیے نو افراد کو تعینات کیا گیا تھا۔ ان کا کتا بھی ان کے ساتھ ہے جسے ان کے بیٹوں نے انہیں تحفے کے طور پر پیش کیا تھا۔آنگ سان سوچی کی قید تنہائی میں منتقلی کا علم رکھنے والے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ 77سالہ رہنما پہلے کی طرح کی خوش اور جوش سے لبریز تھیں۔ذرائع نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کوا پنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتا یا کہ وہ ہر طرح کے حالات کا نہایت سکون کے ساتھ مقابلہ کرنے کی عادی ہوچکی ہیں۔سوچی کے وکلا کو بھی میڈیا کے ساتھ بات چیت کرنے پر پابندی عائد ہے جب کہ صحافیوں کو بھی مقدمہ کی کارروائی کی رپورٹنگ کرنے سے دور رکھا گیا ہے۔

ان سے ملاقات کے لیے سفارت کاروں کی درخواستیں بھی مسترد کردی گئی ہیں۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریش کے ایک ترجمان نے بتایا کہ عالمی ادارے کے حکام سوچی کے سلسلے میں نہایت فکر مند ہیں۔گوٹریش کے ترجمان اسٹیفین دوجارک نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ فوجی جنتا کایہ اقدام ہماری تمام درخواستوں کے خلاف ہے۔ ہم انہیں اور تمام دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کی مسلسل اپیلیں کررہے ہیں۔خیال رہے کہ اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے میانمار کی فوجی حکومت نے ہزاروں جمہوریت نواز مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے اور ان کے خلاف خفیہ مقدمات چلائے جارہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button