بین الاقوامی خبریں

صدر بائیڈن نے گن سیفٹی بل پر دستخط کر دیئے

واشنگٹن ، 27جون :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی صدر جو بائیڈن نے ہفتے کے روز امریکی سینیٹ سے منظور ہونے والے گن سیفٹی بل پر دستخط کر دیئے ہیں جس کے بعد اسے قانون کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ اس بل کے حق میں سینیٹ میں موجود تمام ڈیموکریٹ سینیٹرز کے علاوہ ری پبلکن پارٹی کے بھی 15 سینیٹرز نے ووٹ دیے تھے۔بائیڈن نے خاتون اول جل بائیڈن کے ساتھ مل کر وائٹ ہاؤس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی دن ہے۔ اس قانون کی وجہ سے بہت سی جانیں ضائع ہونے سے بچیں گی۔جمعرات کے روز امریکی سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں عوامی جگہ پر اسلحہ لے جانے کو آئینی حق قرار دیا تھا۔

امریکہ میں گن کنٹرول کا مسئلہ ایک عرصے سے تنازع کا سبب ہے اور اسلحہ خریدنے سے متعلق نئے ضوابط کی منظوری کی متعدد کوششیں ماضی میں ناکام ہو چکی ہیں۔ا س سے قبل امریکی سینیٹ میں گن وائلنس کے خلاف ایک بل کو ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کی مدد سے منظور کیا گیا تھا۔ڈیموکریٹک پارٹی کی کئی برس کی محنت کے بعد بالآخر سینیٹ میں 15 ری پبلکن ارکان نے ملک میں لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کے خلاف اقدامات میں ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا جس کے بعد 13 ارب ڈالر کا بل منظور ہو سکا تھا۔

ملک میں کئی دہائیوں کے بعد کسی قانون پر دونوں سیاسی جماعتوں کے ارکان میں اس بڑے پیمانے میں اتفاق ہوا۔سینیٹ میں اس بل کی حمایت میں 65 جب کہ مخالفت میں 33 ووٹ آئے تھے۔گزشتہ ماہ بفلو اور یووالڈے میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات کے بعد کئی ہفتوں تک دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، جس کے بعد یہ بل پاس ہوا ہے۔سینیٹ میں پاس ہونے والے اس بل کے تحت ہتھیار خریدنے والے افراد کے پس منظر کی جانچ پڑتال کو سخت کیا جائے گا۔

اس سے قبل سینیٹ میں اس معاملے پر ری پبلکن پارٹی کی جانب سے عائد کئے گئے فلی بسٹر کو ختم کرنے کے لیے ووٹنگ کی گئی۔ووٹنگ کے دوران فلی بسٹر کو ختم کرنے کے لیے بھی 65 ووٹ حمایت میں ڈالے گئے۔یہ بل گھریلو تشدد کے جرم میں سزایافتہ افراد سے ہتھیاروں کو دور رکھے گا جب کہ ریاستوں کو ریڈ فلیگ قوانین نافذ کرنے میں مدد ملے گی۔اس بل سے حکام کے لیے خطرناک قرار دیے گئے افراد سے ہتھیار ضبط کرنا آسان بنایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اس بل کے تحت اسکولوں میں مزید حفاظتی اقدامات کرنے، ذہنی صحت اور تشدد کو روکنے سے متعلق مقامی سطح پر پروگرامز کے لیے فنڈ کا اجرا کیا جائے گا۔دوسری جانب دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنما اس بل کی منظوری کو اپنی فتح قرار دے رہے ہیں۔ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنما چک شومر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ مرض کا اگرچہ مکمل علاج نہیں ہے لیکن درست سمت میں ایک قدم ضرور ہے۔دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں یادگار کے قریب واقع نیشنل مال پر لگ بھگ 40 ہزار مظاہرین وقفے وقفے سے جاری رہنے والی بارش کے دوران جمع ہوئے۔

سینیٹ میں اقلیتی رہنما مچ مکونل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کے شہری اپنے ا?ئینی حقوق کے تحفظ کے ساتھ اپنے بچوں کی حفاظت بھی چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بل کے تحت یہ دونوں اقدامات کیے گئے ہیں۔دہائیوں سے گن کنٹرول پر قانون سازی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی گن لابی نیشنل رائفل ایسوسی ایشن (این آر اے)نے اِس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہر سطح پر نامکمل ہے کیوں کہ یہ پرتشدد جرائم سے نمٹنے کی بجائے قانون کی پاسداری کرنے والے امریکیوں کے لیے دوسری ترمیم پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔واضح رہے کہ یہ بل ایسے وقت میں منظور ہوا ہے جب جمعرات کو امریکی سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا تھا کہ امریکیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع کی غرض سے عوامی مقامات پر بھی اسلحہ ساتھ لے کر جاسکتے ہیں۔

جی سیون ممالک روس سے سونے کی درآمد پر پابندی عائد کریں گے: صدر بائیڈن

واشنگٹن، 27جون امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ جی سیون ممالک یوکرین میں روسی جارحیت کے باعث روس سے سونے کی درآمد پر پابندی کا اعلان کریں گے۔امریکی صدر کا اتوار کو یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کی سات بڑی معیشتوں (جی سیون) ملکوں کا اجلاس اتوار سے جرمنی میں شروع ہو رہا ہے۔ صدر بائیڈن اجلاس میں شرکت کے لیے ہفتے کو میونخ پہنچے تھے۔امریکی صدر کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کیے جانے والے اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ روس اپنے سونے کی فروخت سے دسیوں ارب ڈالر کماتا ہے جو توانائی کے بعد اس کی دوسری سب سے بڑی برآمد ہے۔روس سے سونے کی درآمد کا باضابطہ فیصلہ منگل کو متوقع ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق جی سیون رہنماؤں کو امید ہے کہ روسی سونے کی درآمد پر پا بندی ایک ایسا اقدام ہوگا جو یوکرین پر حملے کے بعد ماسکو کو اقتصادی طور پر دنیا میں مزید تنہا کر دے گا۔صدر بائیڈن اور سات اتحادی ممالک کے رہنما اتوار کو سربراہی اجلاس کے افتتاحی دن توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانے اور افراط زر سے نمٹنے کی حکمت عملی پر بات چیت کریں گے۔ان مذاکرات کا مقصد یوکرین پر روسی حملے کے بعد ماسکو کے خلاف سزا کے طور پر کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتِ حال سے نبردآزما ہونے کے لیے مشترکہ حکمت عملی طے کرنا ہے۔

اتوار کو جی سیون سربراہی اجلاس کے باضابطہ آغاز سے چند گھنٹے قبل روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر میزائل حملے کیے جس میں دو رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔خیال رہے کہ گزشتہ تین ہفتوں میں روس کی طرف سے اس نوعیت کے یہ پہلے حملے تھے۔بائیڈن انتظامیہ کے سینئر عہدیداروں نے کہا کہ توانائی کے بعد سونا ماسکو کی دوسری سب سے بڑی برآمد ہے اور اس کی درآمدات پر پابندی عائد کرنے سے روس کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی مزید مشکل ہو جائے گی۔

تین روزہ اجلاس میں جی سیون میں شامل ملکوں امریکہ، جاپان، فرانس، کینیڈا، اٹلی، جرمنی اور برطانیہ کے اعلٰٰی حکام شریک ہوں گے۔یہ اجلاس میونخ میں آلپس کے پہاڑی سلسلے کے دامن میں آلماؤ کے ایک تاریخی قلعے میں ہو رہا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توقع ہے کہ جی سیون گروپ کے رہنما روس کے ساتھ جنگ میں یوکرین کی حمایت کا اعادہ کریں گے۔ْ

جرمن چانسلر اولاف شولس نے حال ہی میں جرمن پارلیمنٹ کو بتایا کہ سربراہی اجلاس کو نہ صرف یہ پیغام دینا چاہیے کہ نیٹو اتحاد اور جی سیون گروپ پہلے سے کہیں زیادہ متحد ہیں، بلکہ یہ بھی کہ دنیا کی جمہوریتیں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی سامراجیت کے خلاف یک آواز ہیں۔ یہ ایک ساتھ کھڑی ہیں جس طرح وہ بھوک اور غربت کے خلاف جنگ میں یکجا ہیں۔یاد رہے کہ روس پر عائد پابندیوں نے خوراک اور توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔جی سیون سربراہی اجلاس کے بعد عالمی رہنما نیٹو سربراہی اجلاس کے لیے میڈرڈ جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button