بین الاقوامی خبریں

پاکستان کے مفادات روس سے جڑے ہوئے ہیں: عمران خان نیازیؔ

اسلام آباد،3جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)عمران خان نیازیؔ نے کہا ہے کہ پاکستان کو روسی گیس، تیل اور بالخصوص گندم کی ضرورت ہے، اس لیے یوکرین جنگ میں پاکستان کسی کی طرف داری کا متحمل نہیں ہو سکتا۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے جرمن ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں کئی اہم امور پر گفتگو کی، جس میں یوکرین جنگ کے علاوہ پاکستانی خارجہ پالیسی کے کئی اہم معاملات بھی زیر بحث آئے۔ انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو روس کی ضرورت ہے، اس لیے انہوں نے بطور وزیر اعظم روس کی طرف سے یوکرین جنگ شروع کرنے پر ماسکو حکومت کی مذمت نہیں کی تھی۔

عمران خان نے کہا کہ بنیادی طور پر وہ جنگ مخالف ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مسائل کے حل کے لیے عسکری کارروائی صورتحال کو صرف بگاڑتی ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر موقع پر انہوں نے جنگ کی مخالفت کی ہے۔ عمران خان نے اس انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں استہزائیہ انداز میں کہا کہ روس نے اس جنگ کا آغاز کرنے سے قبل ان سے مشاورت نہیں کی تھی۔عمران خان نے روسی جارحیت کی مذمت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں علم ہوتا کہ روس یوکرین پر حملہ کرنے والا ہے تو وہ ماسکو جاتے ہی نہیں۔یاد رہے کہ جب چوبیس فروری کو روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا تو تب وزرات عظمی کے منصب پر فائز عمران خان ایک سرکاری دورے پر ماسکو میں ہی تھے۔ عمران خان نے یوکرین جنگ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھ سے پوچھا جاتا تو یقینی طور پر میں یہ مشورہ دیتا کہ یہ جنگ شروع نہیں کی جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ وزیر اعظم نہیں تھے تو انہوں نے عراق اور افغان جنگ کی کھلی عام مخالفت اس لیے کہ تھی کہ وہ پاکستانی حکومت کا موقف نہیں تھا لیکن جب یوکرین جنگ شروع ہوئی تو وہ وزیر اعظم بن چکے تھے اور ان کی اولین ترجیح پاکستان کی دو سو بیس ملین کی آبادی کی نمائندگی کرنا بن چکی تھی۔عمران خان نے واضح انداز میں کہا کہ جب کوئی کسی کی مذمت کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی کی طرف داری بھی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی معاملات پر اخلاقی طور پر کوئی موقف اختیار کرنا بہت اچھا ہے لیکن جب آپ کے مؤقف کی وجہ سے پورا ملک متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو نیوٹرل رہنا ہی بہتر ہے۔عمران خان نے مزید کہا کہ اگر کوئی ملک امیر اور مضبوط ہے تو اسے کسی کی طرف داری کرنے پر شائد کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن بطور پاکستانی وزیر اعظم ان کی اولین ترجیح یہی تھی کہ وہ اپنے عوام کی نمائندگی کریں اور ان مسائل پر توجہ مرکوز کریں، جو حقیقی طور پر عوامی ہیں۔ انہوں نے یوکرین جنگ کو یورپ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مسائل مختلف ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button