اسلام آباد، 6جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر دیوار سے لگایا گیا اور ہراساں کیا گیا تو وہ مجبور ہو کر سب کچھ قوم کے سامنے لے آئیں گی کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ان کے خلاف مبینہ سازش میں کون کون شریک تھا۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے ملک میں کبھی ایسا فاشزم نہیں دیکھا۔ پہلے ٹی وی چینلز پر ان کا بلیک آؤٹ کیا گیا لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے بلیک آ ؤٹ نہیں ہوسکا اور کئی ٹی وی چینلز نے جرات کا مظاہرہ کیا۔انہوں ںے کسی ادارے یا حکومتی عہدیدار کا نام لیے بغیر الزام عائد کیا کہ صحافیوں اور ان کی حامی سوشل میڈیا شخصیات اور تحریکِ انصاف کے کارکنان کو ہراساں کیا جارہا ہے۔عمران خان نے کہا کہ اگر آپ صحافیوں کو ڈرا دھمکا کر، ان کے خلاف ایف آئی آر زکٹوا کر یا لفافے دے کر خاموش بھی کرادیں گے تو سوشل میڈیا خاموش نہیں رہے گا۔
انہوں نے حال ہی میں نامعلوم افراد کی جانب سے تشدد کا نشانہ بننے والے سینیئر صحافی ایاز امیر کے بارے میں کہا کہ وہ ایک دیانت دار صحافی ہیں۔ ان کے ساتھ یہ سلوک دوسرے صحافیوں کو پیغام دینے کے لیے کیا گیا ہے۔عمران خان نے کئی دیگر صحافیوں کے علاوہ اپنی جماعت کے سوشل میڈیا کے کارکنان، حامی یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز کو ہراساں کیے جانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔اس کے علاوہ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ رواں ماہ پنجاب میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں ان کے کارکنان اور امیدواروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔
سابق وزیراعظم کے بقول 25 مئی کو پی ٹی آئی کے ‘حقیقی آزادی مارچ’ کے خلاف بھی ریاستی طاقت کا استعمال کیا گیا تھا۔عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ خوف کے حربے استعمال کرکے چوروں کو ہم پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میرے خلاف 15 ایف آئی آرز کٹی ہوئی ہیں۔ ہماری لیڈرشپ پر مقدمات بنائے گئے ہیں اور ہمارے خلاف دہشت گردی کی ایف آئی آر بنائی جارہی ہیں تاکہ ہم خاموش ہو کر بیٹھ جائیں۔سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ میں چپ ہوں جب سے یہ سب کچھ ہوا ہے۔ مجھے سب پتہ ہے کس نے کیا کیا ہے۔
صرف اس لیے خاموش ہوں کے ملک کو نقصان نہ پہنچے ورنہ مجھے معلوم ہے کہ سازش میں کون کون ملوث تھا۔ اگر مجھے کچھ ہو جاتا ہے تو میں نے ایک ویڈیو بھی بنا کر رکھی ہوئی ہے جس میں سب تفصیلات بتادی ہیں کہ کس کس نے ملک کے ساتھ غداری کی ہے۔ لیکن اگر اسی طرح ہمیں دیوار سے لگایا گیا اور ہراساں کیا گیا تو میں بولنے پر مجبور ہوں گا اور سب کچھ قوم کے سامنے رکھ دوں گا۔سابق وزیراعظم نے اپنے ویڈیو پیغام میں پانچ جولائی 1977 کو پاکستان میں لگنے والے مارشل لا کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر امریکہ پر پاکستان کی خارجہ پالیسی پہ اثرانداز ہونے کے الزامات کو دہرایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست سے کئی اختلافات ہیں لیکن وہ پاکستان کو ایک آزاد خارجہ پالیسی کی طرف لے کر جارہے تھے جس کی انہیں سزا دی گئی۔ ایسی خارجہ پالیسی جو عوام کے مفاد کے لیے بنائی جائے کسی اور ملک کو خوش کرنے کے لیے نہ ہو۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت کے اور اب کے پاکستان میں حکومت کی تبدیلی میں ایک بات مشترک ہے کہ امریکہ خوش نہیں تھا۔



