بین الاقوامی خبریں

انسانی حقوق یا اسٹریٹجک مفادات: سعودی عرب کے دورے میںصدر بائیڈن کے لیے کیا اہم ہے؟

واشنگٹن، 6جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکہ کے صدر جو بائیڈن اس ماہ اپنی توجہ مشرق وسطی کے اپنے حساس دورے پر مبذول کر رہے ہیں جو سعودی عرب کے طاقتور ولی عہد کے ساتھ تعلقات کی ترتیب نو میں ان کی صلاحیتوں کا امتحان ہو گا کیونکہ بائیڈن اس سے قبل ان کی مذمت کر چکے ہیں۔ابھی تک صدر بائیڈن اس بارے میں واضح نہیں ہیں کہ آیا ان کی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ بالمشافہ ملاقات ہو گی یا نہیں، جن کے بارے میں امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سال 2018 میں واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ صحافی جمال خشوگی کے قتل کے پیچھے ان کا کردار تھا۔ایسے میں جب توقع کی جا رہی ہے کہ امریکی صدر سعودی عرب کے شاہ سلمان اور ولی عہد سے ملاقات کریں گے۔

بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کے جدہ کے دورے کا مقصد خلیجی ممالک کے ایک سربراہ اجلاس میں شریک ہونا ہے نہ کہ ولی عہد کے ساتھ ملاقات کرنا۔بائیڈن کے الفاظ میں ’یہ سعودی عرب میں ہے لیکن سعودی عرب کے بارے میں نہیں ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ ایسا کوئی عہد نہیں کیا جا رہا۔ میں خود بھی ابھی کچھ یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ میرا خیال ہے کہ سعودی شاہ اور فرماں روا کے ساتھ میری ملاقات ہو گی لیکن یہ کوئی ایسی ملاقات نہیں جس کے لیے میں خاص طور پر جا رہا ہوں۔ وہ بڑی ملاقاتوں کا ایک حصہ ہوں گی۔ بائیڈن نے یہ بات گزشتہ جمعرات کوا سپین کے شہر میڈرڈ میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی تھی۔

اس حوالے سے واقفیت رکھنے والے ایک ذریعے کے مطابق صدر بائیڈن کیان بیانات پر ان سعودی حکام میں اضطراب پیدا ہوا ہے جو ولی عہد کی حمایت کرتے ہیں اور صدر کے تبصروں کو توہین آمیز خیال کرتے ہیں۔جب بھی وہ یہ کہتے ہیں کہ میں ولی عہد سے نہیں ملوں گا، اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ ان سے فائدہ بھی مانگیں اور ملاقات تک سے انکارکریں۔بائیڈن نے محمد بن سلمان کو، جنہیں ایم بی ایس بھی کہا جاتا ہے۔

خشوگی کی موت کے بعد ’ پاریہ‘ یعنی ’ کم ذات‘ کہا تھاا اور اپنی صدارت کے ابتدائی دنوں میں یہ بھی کہا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں وہ شاہ سلمان پر توجہ مرکوز رکھیں گے نہ کہ ان کے صاحبزادے پر۔ایسے میں جب یوکرین پر روس کے حملے کے سبب امریکہ کو متعدد مسائل کا سامنا ہے، صدر بائیڈن کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش کریں۔تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے بعد بائیڈن کو تیل سے مالا مال سعودی عرب کی ضرورت ہے۔

جبکہ سعودی عرب کی طرف سے یمن میں جنگ بندی میں توسیع کے بعدامریکی صدر اس جنگ کے خاتمے کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں۔اسکے علاوہ مشرق وسطی میں ایران اور عالمی سطح پر چین کے اثر و رسوخ کو کم کرنا بھی امریکی ترجیحات میں شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button