ٹوکیو ،8جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے جاپان کے سابق وزیراعظم شنزو ایبے دم توڑ گئے ہیں۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ واقعہ جمعے کی صبح نارا کے علاقے میں اس وقت پیش آیا جب شنزو ایبے انتخابی مہم کے سلسلے میں وہاں موجود تھے۔مقامی چینل نیشنل براڈکاسٹر این ایچ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حملے کے بعد ایک 40 سالہ کو گرفتار کیا گیا ہے جس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔رپورٹس کے مطابق سابق وزیراعظم اتوار کو ہونے والے ایوان بالا کے انتخابات کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں شریک تھے۔ ان کے خطاب کے دوران اچانک فائرنگ ہوئی۔
ایک عینی شاہد خاتون نے این ایچ کے کو بتایا ’جب شنزو ایبے خطاب کر رہے تھے اس وقت ایک شخص پیچھے سے ان کے قریب آیا تھا۔ن کا مزید کہنا تھا کہ پہلی گولی کی آواز کسی پٹاخے جیسی تھی اور وہ کھڑے رہے تاہم دوسری آواز بہت تیز تھی اس کے ساتھ ہی لوگوں نے چنگاری اور دھواں بھی اٹھتا دیکھا۔ حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی سے ایک سورس نے جیجی نیوز کو بتایا کہ جب 67 سالہ شنزو ایبے کو گرتے ہوئے دیکھا گیا تب ان کی گردن سے خون نکل رہا تھا۔
این ای ایچ کے اور کیوڈو کا کہنا ہے کہ ایبے کو ہسپتال لے جایا گیا، جہاں کچھ دیر بعد وہ چل بسے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے ان کو پیچھے سے شاٹ گن سے گولی ماری گئی۔جاپان کی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے جبکہ حکومتی ترجمان جلد واقعے کے حوالے سے میڈیا سے بات کریں گے۔
شنزو ایبے سب سے طویل عرصہ تک جاپان کے وزیراعظم رہے۔وہ اپنے دور میں معاشی اصلاحات کے حامی کے طور پر سامنے آئے۔شنزو ایبے پہلی بار 2006 میں وزیراعظم بنے اس وقت ان کی عمر 52 سال تھی۔ان کا دور کافی ہنگامہ خیز تھا جس میں کئی سکینڈلز بھی سامنے آئے جس کے بعد انہوں نے اچانک استعفٰی دے دیا تھا۔
گرفتار ملزم کا سابق جاپانی وزیراعظم کو جان سے مارنے کی کوشش کا اعتراف
جاپان کے سابق وزیراعظم شنزو آبے جمعہ کی صبح ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ہیں۔دوسری طرف جاپانی پولیس نے جمعہ کو کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم شنزو آبے پر فائرنگ میں ملوث مشتبہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ وہ آبے سے ناراض ہے اور انہیں قتل کے ارادے سے نشانہ بنایا تھا۔جاپانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق مشتبہ شخص جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورسز کا سابق رکن تھا پولیس کی حراست میں ہے۔آبے کو جمعہ کو مغربی شہر نارا میں انتخابی مہم کے موقعے پرتقریر کے دوران گولی ماری گئی تھی۔
انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔جاپانی میڈیا نے سابق وزیر اعظم شنزو آبے کو گولی مارنے کے لمحے کے ویڈیو کلپس نشر کیے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک بندوق بردار شخص انہیں پیچھے سے گولی مار رہا ہے۔’کیوڈو‘ نیوز ایجنسی ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کارپوریشن نے اطلاع دی ہے کہ 67 سالہ آبے کا اسپتال منتقلی کے دوران بظاہر دل بند ہوگیا۔گلی میں زمین پر لیٹے ہوئے آبے کی تصویر میں ان کا چہرہ کی طرف ہے اور ان کی شرٹ پر خون دکھائی دے رہا ہے۔ لوگ ان کے گرد جمع ہیں اور ان میں سے ایک شخص ان کے سینے کی مالش کررہا ہے۔
’اے ایف پی‘کے مطابق حکمران لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک ذریعے نے جیجی پریس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ آبے زمین پر گر گئے اور ان کی گردن سے خون بہہ رہا تھا۔ایک ذریعے نے بتایا کہ آبے کی صحت کی حالت پر امید نہیں ہے۔ شنزو ایبے پر حملہ کرنے والے ملزم کی عمر 41 سال ہے جو ایک ریٹائرڈ فوجی ہے۔ذرائع نے واضح کیا کہ حملہ کرنے والے گروپ کے بارے میں ابھی تک کوئی معلومات نہیں ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہ ایک انفرادی فعل ہوسکتا ہے۔



