بین الاقوامی خبریں

سری لنکا ئی صدر پاکشے کا استعفیٰ منظور، مظاہرین میں جشن، ڈھول کے تھاپ پر رقص

کولمبو، 15جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سری لنکن پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا ہے کہ صدر گوتابایا راجا پاکشے کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مہندا یاپا ابیوردانا نے صحافیوں کو بتایا کہ گوتابایا راجا پاکشے نے استعفیٰ دیا ہے جس کو جمعرات کو منظور کیا گیا۔سری لنکن صدر نے ملک سے نکلنے کے بعد سنگاپور سے اسپیکر مطلع کیا تھا کہ وہ استعفیٰ دے رہے ہیں۔مہندا یاپا ابیوردانا کا کہنا تھا کہ یہاں سے اب ہم آئینی طور پر نئے صدر کے انتخاب کی طرف بڑھیں گے۔شدید احتجاج کے بعد ملک سے صدر کے نکل جانے کے بعد سری لنکن شہری ان کے استعفیٰ کے اعلان کا انتظار کر رہے تھے۔

خیال رہے چند ماہ سے جاری معاشی بحران پر حکومت کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا تھا اور حالات کو حکومت کی نااہلی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا تھا۔قبل ازیں پارلیمنٹ کے اسپیکر کی جانب سے کہا گیا تھا کہ صدر کا استعفیٰ ای میل کے ذریعے موصول ہوا ہے اور باقاعدہ طور پر اعلان سے قبل اس کی تصدیق کی جائے گی۔راجا پکشے ملک کے پہلے صدر ہیں جنہوں نے عہدے سے استعفے دیا، سری لنکا میں صدارتی نظام 1978 میں رائج ہوا تھا۔جمعرات کو استعفیٰ کی اطلاع آنے پر سمندر کنارے اس مقام پر کچھ لوگوں نے جشن بھی منایا اور رقص کی محفلیں بھی برپا کیں، جہاں سے احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔خیال رہے 13 جولائی کو صدر گوتابایا راجا پکشے ملک چھوڑ گئے تھے۔ حکومتی ذرائع نے ان کے مالدیپ پہنچ جانے کی تصدیق کی تھی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ملک چھوڑنے سے چند گھنٹے قبل انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ بھی کیا تھا۔امیگریشن حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ راجا پا کشے اپنی اہلیہ اور دو باڈی گارڈز کے ہمراہ ایئرفورس کے جہاز میں ملک سے نکلے۔حکومتی ذرائع کا یہ بھی کہنا تھا کہ زیادہ امکان یہی ہے کہ راجا پاکشے وہاں سے کسی اور ایشیائی ملک منتقل ہو جائیں گے۔گذشتہ ہفتے ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین کے وزیراعظم ہاؤس میں گھسنے کے بعد راجا پکاسا نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔رپورٹ کے مطابق صدر کو جمعے کے بعد سے کسی ملک میں کہیں دکھائی نہیں دیئے تھے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button