بین الاقوامی خبریں

جو بائیڈن مقتولہ صحافی ابو عاقلہ کے اہل خانہ سے یروشلم میں نہیں ملیں گے

غزہ ، 15جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ نے الجزیرہ سے وابستہ خاتون صحافی اور فلسطینی امریکی شہری شیریں ابو عاقلہ کے اہل خانہ کو امریکا میں ملاقات کے لیے آنے کی دعوت دی ہے، یہ بات امریکی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے گذشتہ روز ایک اعلان میں بتائی ہے۔جیک سلیوان نے رپورٹرز کو بتایاکہ امریکی وزیر خارجہ انتھنی بلنکن نے ابو عاقلہ کے خاندان کے افراد کو امریکا بلایا ہے تاکہ وہ براہ راست اس خاندان کے ساتھ رابطے میں آسکیں اور اس معاملے پر ان کیساتھ بیٹھ کر بات کر سکیں۔ابو عاقلہ کے اہل خانہ نے امریکی صدر جو بائیڈن سے اسرائیلی دورے کے دوران ملاقات کا مطالبہ کیا تھا۔ تاکہ وہ ابو عاقلہ کے بہیمانہ قتل کے بارے میں حقائق سے آگاہ کر سکیں۔

ابو عاقلہ ماہ مئی میں جنین پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فوج کی کارروائی کی اپنے ٹی وی چینل ’الجزیرہ‘کے لیے کوریج کر رہی تھیں کہ اسرائیلی فوج کی گولی سے جاں بحق ہو گئیں۔اس بارے میں اب تک اقوم متحدہ کے ایک ادارے اور مقامی اداروں کی تحقیقات سامنے آچکی ہیں۔ اقوم متحدہ کے ادارے نے اس صحافی کے قتل کا ذمہ دار اسرائیلی فوجیوں کو قرار دیا تھا۔ جبکہ امریکی تحقیقات میں کہا گیا ہے ابو عاقلہ کا قتل اسرائیلی گولی سے ہی ہوا لگتا ہے۔ تاہم امریکہ نے اس میں اسرائیلی فوجیوں کی ابو عاقلہ کو قتل کرنے کی شہادت نہ ملنے کا کہا ہے۔ابو عاقلہ کے اہل خانہ نے امریکی تحقیقات کے اس نتیجے پر غصے کا اظہار کیا اور امریکی صدر جو بائیڈن کو ایک خط لکھ کر اس انسانی جان کے بلا جواز ضائع ہونے پر متوجہ کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے دورہ اسرائیل کے دوران ان سے بھی ملاقات کریں۔ لیکن وائٹ ہاوس نے جو بائیڈن کی ایسی کسی ملاقات کی حامی نہیں بھری۔

ابو عاقلہ کی بھانجی لینا نے میڈیا کو بتایا ہے کہ انہیں بدھ کے روز دوپہر کے وقت ایک فون کال موصول ہوئی۔ جس میں بلنکن نے بات کی۔ اس فون کال کے دوران ہماری طرف سے صدر جو بائیڈن کے ساتھ ان کے دورے کے دوران یہاں یروشلم میں ملاقات کے مطالبے کا اعادہ کیا گیا تھا۔ جو بائیڈن آج اسرائیلی دورہ مکمل کر کے سعودی عرب روانہ ہوں گے۔فلسطینی اٹارنی جنرل نے الجزیرہ سے وابستہ اس سینئر صحافی ابو عاقلہ کے قتل کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ابو عاقلہ کو ماری گئی گولی 5،56 ایم ایم کی تھی جو ایک سیمی آٹو میٹک سنائپر رائفل سے فائر کی گئی تھی۔ اس ہتھیار کے بارے میں فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیلی فوج کے زیر استعمال ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button