بین الاقوامی خبریں

مقتدیٰ الصدر کی اپیل پر لاکھوں مظاہرین بغداد کی سڑکوں پر نکل آئے

بغداد، 16 جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)عراقی شیعہ عالم مقتدیٰ الصدر کے لاکھوں پیروکاروں نے بغداد کی سڑکوں پر جمعہ کے روز طاقت کا بھر پور مظاہرہ کیا ہے۔ مقبول شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر کے یہ حامی ان کی کال پر نکلے تھے ،تاکہ سیاسی مخالفین پر اپنی دھاک بٹھا سکیں۔ مقتدیٰ الصدر وہ شیعہ رہنما ہیں جنہوں نے پچھلے سال اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ ایران کی حامی شیعہ ملیشیا کے خاتمے اور کرپٹ عراقی سیاستدانوں کے احتساب کا اعلان کر رکھا ہے۔لیکن مقتدیٰ الصدر نے پچھلے ماہ اپنے 74 قانون ساز کو استعفیٰ دینے کے لیے کہہ دیا تھا۔

وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایران کی حامی جماعتوں سے الگ رہتے ہوئے حکومت بنائیں۔ لیکن ایرانی حمایت یافتہ افراد کی بہت بڑی تعداد عراقی اداروں میں بھی ہر جگہ موجود ہے۔اس پس منظر میں ایران اور الصدر کے حامی کردوں کے باہم تقسیم ہو جانے کی وجہ سے ملک منتخب حکومت کے بغیر ہی دوسرے سال میں داخل ہونا پڑا۔

اسی وجہ سے ملک کو سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی چلا رہے ہیں۔مقتدیٰ الصدر کی قوت نے عراقی حکام کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی اس پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے کہ وہ اپنی عوامی مقبولیت اور مزدور طبقے میں اپنی بڑھتی ہوئی ہر دلعزیزی کی وجہ سے حکومت کو گرانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ جمعہ کے روز الصدر کے حمایوں میں بھی ان شیعہ مزدوروں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکلی۔انہی میں سے ایک 42 سالہ ریاض حسینی مزدور ہے۔ جو ان مطاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ ہم آج لاکھوں ہیں اور مضبوط ہیں۔ یہ لوگ جنوبی قصبے ھیلہ سے سفر کر کے بغداد پہنچے تھے۔

ان مزدوروں نے رات بغداد کی گلیوں اور سڑکوں کے فٹ پاتھوں پر گزاری۔ یہ لوگ ساری رات اس انتطار میں رہے کہ الصدر کو آتے ہوئے دیکھیں گے۔ریاض حسینی نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ اگر الصدر ہمیں حکم دیں کہ ملک پر مسلط کرپٹ جماعتوں کو اتار پھینکیں تو چند گھنٹوں میں کر دکھائیں گے۔مقتدیٰ الصدر کے وفاداروں نے جنوبی اور وسطی عراق سے الصدر کی کال پر جمعہ کی نماز ادا کرنے بغداد پہنچے تھے۔سخت گرمی کے باجود الصدر کے لاکھوں حامی جمع تھے اور ان کے اس مظاہرے کو براہ راست دیکھا جارہا تھا۔ الصدر نے ان کے درمیان نماز جمعہ نہ ادا کی اگرچہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ مظاہرین کے سامنے شعلہ بیانی کریں گے۔ الصدر کے بجائے ایک اور لیڈر کو خطاب کے لیے بھیجا گیا، جس نے حکومت سے ایران کی حامی ملیشیاوں کو ختم کرنے اور عراق کی دولت لوٹنے والے کرپٹ سیاستدانوں کے احتساب کا مطالبہ کیا۔الصدر کے نمائندہ رہنما محمود الجیاشی نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ‘توبہ کا پہلا قدم یہ ہے کہ ان کرپٹ لوگوں کو برطرف کیا جائے اور انہیں سزا دی جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button