بین الاقوامی خبریں

چین مشرق وسطیٰ میں امریکی صدر کے مشن کے بارے میں بول پڑا

بیجنگ ، 16 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین نے مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکہ سے پیچھے نچلے نہ بیٹھے رہنے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کسی کے گھر کا عقبی حصہ نہیں ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے دورے کے پس منظر میں یہ بات کہی ہے۔وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ کسی ملک کا پچھواڑا نہیں ہے اور نہ ہی خطے میں ایسا کوئی خلا ہے، جسے امریکہ بھرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چینی ترجمان نے اپنے ملک کی فروغ امن اور مسائل کے منصفانہ حل کے لیے کوششوں کے حوالے سے کہا چین بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے تاکہ امن کی ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھ سکے۔چینی ترجمان وانگ نے یہ بھی کہا ‘چین پوری طرح پیسفک آئی لینڈ کے ملکوں کی خواہش کو سنے گا اور ان کی خواہش کا احترام کرے گا۔واضح رہے چین کی طرف سے یہ بات پیسفک آئی لینڈ فورم کی طرف سے الزامات سامنے آنے کے بعد کہی گئی ہے۔

پی آئی ایف کا کہنا ہے کہ چین ایک ایسے معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے جو ہر چیز بشمول سکیورٹی اور ماہی گیری ہر چیز پر محیط ہے۔چینی ترجمان کے بیان سے محض ایک روز پہلے جمعرات کے دن پی آئی ایف کے سیکرٹری جنرل ہنری پونا نے رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا’ چینی وزیر خارجہ وانگ بحرالکاہل ملکوں میں اپنے پہلے سے تیار کردہ دستاویز کے ساتھ آئے تاکہ متعلقہ ملکوں سے مشاورت کر سکیں۔

لیکن یہ ابھی نہیں ہوسکی ہے۔اس موقع پر وانگ نے اس پر اصرار کیا تھا کہ چین نے بحرالکاہل کے ملکوں سے بڑی سنجیدہ مشاورت کی ہے۔ ہم اس پراسس کو جاری رکھیں گے۔وانگ نے بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر سری لنکا کے عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بیجنگ نے سری لنکا کے لیے 75 ملین ڈالر کی امداد کا پہلے ہی وعدہ کر رکھا ہے۔ جبکہ خوراک کی دوسری شپمنٹ بھی بھیج چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button