کولمبو ، 18 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سری لنکا کے قائم مقام صدر رانیل وکرما سنگھے نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔خبررساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سری لنکن حکومت کی جانب سے اتوار اور پیر کی درمیانی شب جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اقدام معاشی بحران اور افراتفری سے نمٹنے کے لیے کیا گیا ہے۔حکومتی بیان میں مزید کہا گیا ہے ’عوام کی سلامتی، امن عامہ کے تحفظ، ضروریات زندگی اور سروسز کی بحالی کے لیے یہ قدم فائدہ مند تھا، اِس لیے اٹھایا گیا۔سری لنکا کے سابق صدر گوتابایا راجا پکشے جو اپنی حکومت کے خلاف شدید عوام احتجاج کے بعد اسی ہفتے ملک سے فرار ہو گئے تھے، کا کہنا ہے انہوں نے ملکی بحران حل کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے تھے۔
سابق صدر کے ملک سے نکل جانے کے بعد رپورٹ سامنے آئی تھی کہ وہ مالدیپ پہنچ گئے جہاں سے وہ سنگاپور گئے اور وہیں سے ہی جمعے کو ای میل کے ذریعے ا سپیکر پارلیمنٹ کو استعفیٰ بھجوا دیا تھا۔سری لنکا میں تقریباً دو ماہ سے جاری معاشی بحران کے نتیجے میں دو ہفتے قبل احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور مظاہرین صدر کی رہائش گاہ اور دفتر کی عمارات میں گھس گئے تھے، تاہم اس سے قبل صدر کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا تھا۔
سابق صدر کے ملک سے نکل جانے کے بعد بھی مظاہرین عمارات میں موجود رہے اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے رہے اور استعفے کی خبر سامنے آنے کے بعد انہوں نے جشن بھی منایا۔سری لنکن پارلیمنٹ نے سنیچر کو نئے صدر کے انتخاب کے عمل کا آغاز کر دیا تھا جبکہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے کچھ اقدامات کا آغاز کیاگیا۔راجا پکشے کے اتحادی اور قائم مقام صدر وکرما سنگھے کل وقتی صدارت حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں میں سرفہرست ہیں، تاہم مظاہرین ان کے حق میں نہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ سربراہ نہ بنیں، اس تناظر میں اگر وہ صدر منتخب ہو جاتے ہیں تو مزید بدامنی کا امکان ہے۔
سری لنکا میں معاشی بحران، ہوٹل کا مالک پاپڑ فروخت کرنے پر مجبور
سری لنکا میں شدید معاشی بحران کے باعث جہاں غریب اور متوسط طبقہ پریشان ہے وہیں کاروباری لوگوں کے لیے بھی زندگی کا پہیہ چلانا مشکل ہو رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق عبد اللہ محمد شفیع نامی بزنس مین گزشتہ 14 سال سے سری لنکا میں آرام دہ زندگی گزار رہے تھے، وہ ایک بڑے ہوٹل کے مالک تھے تاہم معاشی بحران نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی۔عبداللہ زندگی گزارنے کے لیے پاپڑ فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ایل پی جی حاصل کرنا بہت مشکل ہوگیا، ایل پی جی ہم ریسٹورنٹ میں کھانا پکانے کے لیے استعمال کرتے تھے، میرے پاس ہوٹل کو بند کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔
وہ بھارتی ریاست کیرلا میں اپنے آبائی گھر کاسرگوڈ میں پاپڑ فروخت کر رہے ہیں۔ عبد اللہ نے کہا کہ میرے دوست سری لنکا سے فون کر کے بتاتے ہیں کہ حالات مزید سخت ہونے والے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگوں کو روزانہ کھانا حاصل کرنا بھی مشکل ہو رہا ہے، سری لنکا میں بہت سے کیرالی باشندے ہیں اور تمام کے تمام تکلیف میں ہیں



