نیویارک،19جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پہلے کرونا اور اس کے بعد یوکرین کی جنگ، یکے بعد دیگر دو آفتوں نے یورپ کی معیشیت اور روز مرّہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ یورپ بھر میں پریشانی کے آثار بڑھ رہے ہیں۔ اٹلی میں فوڈ بینک پہلے کی نسبت زیادہ لوگوں کو کھانا کھلا رہے ہیں۔ جرمن حکام ایئر کنڈیشنگ کو ترک کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی وہ قدرتی گیس کو حصہ رسد بنانے اور کوئلے کے پلانٹس کو دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے تیار کر رہے ہیں۔دودھ فروخت کرنے والے پریشان ہیں کہ وہ دودھ کو محفوظ کیسے کریں گے۔ یورو ڈالر کے مقابلے میں 20 سال کی کم ترین سطح پر آگیا ہے، اور کساد بازاری کی پیش گوئیاں بڑھ رہی ہیں۔دباؤ کے یہ حالات اس بات کی علامت ہیں کہ کس طرح اس تنازعہ کے گہرے بادل یورپ پر چھا رہے ہیں۔
کریملن نے قدرتی گیس کو آہستہ آہستہ بند کر دیا ہے ، جس نے یورپ میں توانائی کے بحران کو ہوا دی۔ ابھی یورپی معیشت کووڈ۔ 19 سے دوبارہ بحال بھی نہیں ہو پائی تھی کہ کساد بازاری میں ڈوبنے کے امکانات بڑھنے لگے۔جنگ کی وجہ سے توانائی کی زیادہ قیمت روس کو فائدہ پہنچا رہی ہے، جو تیل اور قدرتی گیس کا ایک بڑا برآمد کنندہ ہے۔ پابندیوں کے ساتھ رہنے کے برسوں کے تجربے نے روس کے مرکزی بینک اقتصادی تنہائی کے باوجود روبل اور مستحکم اور افراط زر کو روکے رکھا ہے۔تاہم، اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل مدتی بنیاد پر روس کو مکمل تباہی سے گریز کرتے ہوئے، جنگ کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
اس کی سرمایہ کاری پر زد پڑ رہی ہے اور یہاں کے کم آمدنی والے لوگ معاشی جمود کا سامنا کر رہے ہیں۔یورپ کا سب سے بڑا چیلنج فوری نوعیت کا ہے۔ ایک طرف 8.6 فیصد کی مہنگائی کا مقابلہ دوسری طرف توانائی کی کمی کو ختم کیے بغیر موسم سرما کا گزارنا۔ براعظم یورپ روسی قدرتی گیس پر انحصار کرتا ہے، اور توانائی کی ہوشربا قیمتیں ،فیکٹریوں، خوراک کے اخراجات اور ایندھن کے ٹینکوں تک پہنچ رہی ہیں۔غیر یقینی صورتحال کا اسٹیل اور زراعت جیسی توانائی پر مبنی صنعتوں کے علاوہ عام زندگی پر بھی پڑے گا،بحران بڑھنے کی صورت میں گھروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قدرتی گیس کو راشن کی صورت یعنی حصہ رسد کے طور پر فراہمی کا امکان بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ڈیری فارموں کے حالات خاصے نازک ہیں، ایک ڈیری فارم جہاں کی پچاس ہزار گائیں ایک دن میں ایک ملین لیٹر دودھ پیدا کرتی ہیں۔
دودھ کو اگر محفوظ نہ کیا جاسکا تو "پھر کسانوں کو اپنا دودھ ضائع کرنا پڑے گا۔ایک گھنٹے میں، ڈیری ایک گھر کے لیے ایک سال کی بجلی کے مساوی استعمال کرتی ہے تاکہ دودھ کے 20 ہزار پیلیٹوں کو ٹھنڈا رکھا جا سکے۔کھانے کی میز پر بھی معاشی بد حالی نظر آنے لگی ہے۔ صارفین کے گروپوں کا اندازہ ہے کہ ایک عام اطالوی خاندان اس سال اپنا پیٹ پالنے کے لیے 681 یورو زیادہ خرچ کر رہا ہے۔فوڈ بینک آف لومبارڈی کے صدر ڈاریو بوگیو مارزیٹ نے کہا کہ ہم صورتحال اور ایسے خاندانوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے بارے میں فکر مند ہیں جن کی ہم مدد کر رہے ہیں،ہم درجنوں خیراتی ادارے چلاتے ہیں جو سوپ کچن چلاتے ہیں اور انہیں کھانا فراہم کرتے ہیں۔
اس سال ان کے ماہانہ اخراجات میں پانچ ہزار یورو اضافہ ہوا ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد رات کے وقت پبلک لائٹس بند کرکے اور دیگر اقدامات اٹھا کر توانائی کا تحفظ کرنا ہے۔ اسی طرح جرمن حکام لوگوں اور کاروباری اداروں سے توانائی کی بچت کے لیے آمادہ کر رہے ہیں اور عوامی عمارتوں میں کم گرمی اور کم ایئر کنڈیشننگ کا حکم دے رہے ہیں۔
یہ وقت روس کی طرف سے ایک درجن یورپی ممالک میں قدرتی گیس کی کٹوتی یا کمی کے بعد ہوا ہے۔ ایک بڑی گیس پائپ لائن بھی گزشتہ ہفتے طے شدہ دیکھ بھال کے لیے بند ہو گئی تھی، اور خدشہ ہے کہ روس اور جرمنی کے درمیان نورڈ سٹریم 1 سے گزرنے والی پائپ لائن دوبارہ شروع نہیں ہو گی۔دوسری طرف فی الحال روس نے وسیع حکومتی مداخلت کے ذریعے اپنے روبل کی شرح تبادلہ، اسٹاک مارکیٹ اور افراط زر کو مستحکم رکھا ہوا ہے۔ روس اپنے تیل کی فروخت کے لیے ایشیا میں زیادہ خریدار تلاش کر رہا ہے۔



