لندن، 20جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) پرتگال میں گرمی کی حالیہ تقریبا تین ہفتوں سے جاری شدید لہر کی وجہ سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔گرمی کی یہ لہر سات جولائی سے شروع ہوئی تھی۔ اس دوران سات سے تیرہ جولائی کے دوران مجموعی طور پر 238 پرتگالی ہلاک ہو گئے۔شعبہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں کے ماحول میں کی وجہ سے موسم میں آنے والی شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے انتظامات کو بڑھانا پڑے گا۔ کیونکہ گرمی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
واضح رہے پرتگال اس خطے کے ان ملکوں میں سے ایک ہے جن کے گرمی کی شدت کے باعث زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ پرتگالی شعبہ صحت کے سربراہ غراسا فریتاس کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ہمیں اونچے درجہ حرارت کے دنوں میں زیادہ ہوشیار اور تیار رہنا ہو گا۔فریتاس نے کہا خشک سالی سے دوچار پرتگال میں پچھلے ہفتے درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا گیا تھا۔ تاہم یہ حالیہ چند دنوں میں کچھ نیچے آیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود سال کے ان دنوں کے معمول سے درجہ حرارت زیادہ ہے۔انہوں نے مزید بتایا سات جولائی سے 18 جولائی 2022 تک 1063 پرتگالی گرمی کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
جبکہ سات سے تیرہ جولائی کے درمیان گرمی سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 238 رہی۔پرتگال میں اس غیر معمولی گرمی کی وجوہات ایک سے زائد بتائی جاتی ہیں۔ خشک سالی کے علاوہ جنگلات کی مناسب دیکھ بھال کا نہ کیا جانا۔ جنگلات میں متعدد بار آگ کا لگ جانا بھی درجہ حرارت کے بڑھنے کا ذریعہ بنا ہے۔پرتگال کے علاوہ جنوبی یورپ کے کئی دوسرے ملکوں میں بھی جنگلوں میں لگنے والی آگ کو بجھانے میں مصروف ہیں۔ ان میں سپین بھی شامل ہے۔لزبن یونیورسٹی میں ایک محقق کارلوس انتیونس نے اس بارے میں کہاکہ گرمی کی حالیہ شدید لہر کی وجہ سے انتقال کرنے والوں میں زیادہ تعداد بڑی عمر کے لوگوں کی ہے۔
یورپ میں شدید گرمی، ہزاروں ایکڑ جنگلات شعلوں کی لپیٹ میں
برطانیہ، فرانس اور مغربی یورپ کے دوسرے ممالک کا درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے اور منگل کوجنوبی مغربی فرانس کے جنگلات میں لگی آگ پر قابو نہیں کیا جاسکا، دوسری طرف برطانیہ میں پہلی باردرجہ حرارت چالیس سینٹی گریڈ سے اوپر پہنچ گیا۔ جرمنی اور بلجیم میں بھی تقریباً یہی صورت حال ہے۔ سائنس دان اس کی وجہ موسمیاتی تبدیلی کوقراردے رہے ہیں۔برطانیہ میں اس شدید درجہ حرارت کو دیکھتے ہوئے قومی سطح پر ہنگامی صورت حال کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ برطانیہ کے ٹرانسپورٹ کے وزیرگرانٹ شیپن نے کہا ہے کہ برطانوی ٹرانسپورٹ کے نظام کو اس طرح کے شدید گرم موسم سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنا ہوگی، جس کے لیے کئی سال درکار ہیں۔
اس وقت ہوائی اڈّے کے دو رن ویز اور کچھ ریل کی پٹریاں اس درجہ حرارت کو برداشت نہیں کر سکیں اور وہ ناکارہ ہو گئی ہیں۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ہمارا انفرا سٹرکچر بہت پرانا ہے اور اس طرح کے اونچے درجہ حرارت کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔جنوب مغربی فرانس میں گیرونڈے کے علاقے میں 30 سال بعد اتنی شدید جنگل کی آگ دیکھی گئی ہے، حکام نے کہا کہ ایک شخص کو آتش زنی کے شبے میں حراست میں لیا گیا ہے۔یہ آگ 12 جولائی سے بورڈو کے آس پاس کے دیہی علاقوں میں 19,300 ایکڑ (تقریباً 75 مربع میل) میں پھیل چکی ہے، جس سے کل 34 ہزار افراد اپنے گھر خالی کرنے پر مجبور ہوئے۔تقریباً دو ہزار فائر فائٹرز، جن کی مدد آٹھ طیاروں نے کی، آگ بجھانے میں مصروف رہے۔
ریاستی حکام ایک بیان میں کہاکہ زمین اور فضا سے کارروائیوں کے باوجود، صورتحال اب بھی قابو میں نہیں آسکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔موسمیاتی سائنس دانوں کی طرف سے جون میں جریدے انوائرنمنٹل ریسرچ: کلائمیٹ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ بہت زیادہ امکان ہے کہ موسمیاتی تبدیلی گرمی کی اس لہر کو مزید بڑھا رہی ہے۔اقوام متحدہ کی فروری 2022 کی ایک رپورٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث خشک سالی بڑھ رہی ہے اور اگلے 28 سالوں میں جنگل کی آگ کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ متوقع ہے۔



