بین الاقوامی خبریں

جنگ میں مدد کا کریڈٹ لینے کیلئے کویت کو اسلحہ فروخت کی سر توڑ برطانوی کوششیں

دبئی، 20جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) برطانوی سرکاری دستاویزات کی بنیاد پر سامنے آنے والی معلومات کے نتیجے میں انکشاف ہواہے کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے خلیج جنگ میں عراق کے خلاف کویت کی مدد کے بدلے میں کویت کو برطانوی ساختہ مہنگی توپیں فروخت کرنے کی سر توڑ کوششیں کی تھیں۔ مگر ناکام رہے۔دستاویزات کے مطابق ٹونی بلئیر نے کویت کے حکمران شیخ سعد کو 1998 اور 1999 کے درمیان قائل کرنے کی کوششیں کیں۔ یہ قائل کرنے کی کوششیں ملاقاتوں کے دوران بھی ہوئیں۔ حتی کہ ٹونی بلئیر نے جنوبی افریقہ سے واپس لندن آتے ہوئے بھی ایک مختصر ملاقات میں کویتی سربراہ سے اس پرقائل کرنے کی تھی۔

حکومتی سطح پر ہونے والی بریفنگز کے حوالے سے سرکاری دستاویزات سے متعلق نوٹس سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ برطانیہ یہ یقین رکھتا تھا کہ اس نے کویت پرعراقی حملے میں جس طرح کویت کی مدد کی تھی ا س کے بعد یہ اس کا حق بنتا ہے کہ اس مدد کا بدلہ چکانے کے لیے کویت جنگی ہتھیاروں کا ایک بڑا معاہدہ کرے۔کویت اور برطانیہ کے درمیان ہونیوالے مذاکرات کے حوالے سے عجلت میں تیارکردہ نوٹس سے بھی یہ بار ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلئیر نے جنوری 1999 میں دفتر خارجہ کے حکام کو یہ باور کرایا کہ کویت کے ساتھ اے ایس 90 توپوں کی فروخت کے لیے بات چیت شروع کی جائے۔

برطانوی دستاویزات کے مطابق ٹونی بلئیر کا یہ کہنا تھا کہ برطانوی ساختہ اے ایس 90 خود کار توپ خانہ ایک انتہائی موثر ہتھیار ہے۔ یہ بات ٹونی بلئیر نے اسکے باوجود کویت تک پہنچائی کہ امریکہ بھی اپنی ایم 109 توپ خانے کی فروخت کی پیش کش کر چکا تھا۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا ہمیں یہ توقع ہے کہ کویت عراق کے خلاف ہماری مدد کو یاد رکھے گا۔اس پس منظر میں ایک یادداشت ڈاوننگ سٹریٹ کے پرائیویٹ سیکرٹری فلپ بارٹن نے دفتر خارجہ کے افسر ٹم بیرو کو بھیجی، جو بلئیر اور کویتی ولی عہد کے درمیان مذاکرات کے نکات پر مبنی تھی۔ ولی عہد کا اس یادداشت میں کہنا تھا کہ اے ایس 90 خود کار توپوں کی قیمت بہت زیادہ ہے بلکہ بہت ہی زیادہ ہے۔

اس پر وزیر اعظم بلئیر نے کہا یہ کام بھی بہت ٹھیک کرے گا، جوابا وزیر دفاع نے کہا وہ برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو سامنے رکھیں گے۔دستاویزات کے مطابق بعد ازاں وزیر اعظم کو یہ بتایا گیا کہ کھلی حقیقت یہ ہے کہ کویت جنگ کے خاتمے کے بعد سے لے کراب کویت کے ساتھ اسلحے کی چھوٹی سی ڈیل کرنے کے سلسلے میں بھی مایوسی رہی۔ اس کے باوجود کہ وہ برسوں سے کویت کے ایک وفادار دوست تھا۔

بارٹن کو کویت کے دورے کے بعد بس یہ جواب ملا کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو سامنے رکھیں گے۔دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ جب بالآخر برطانوی حکومت کی کئی کوششوں کے بعد کویت کے ساتھ اسلحہ ڈیل کے لیے قائل کرنے کے وقت سے تین ماہ قبل ٹونی بلئیر نے ولی عہد کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا اے اسی 90 توپ خانہ دنیا میں اس وقت بہترین 155 ایم ایم گن کے طور پر موجود ہے ، انہوں نے اس خط میں یہ بھی لکھا امریکی توپ خانے کی اس کے مقابلے کی گن سے زیادہ بہتر اور مؤثر ہے۔بلئیر نے مزید لکھا کہ دفاعی صنعت کے لیے موجودہ مشکل وقت میں ہمارے لیے یہ ڈیل بہت اہم ہے۔ اس لیے ہم بڑی بے چینی سے ا س ڈیل کے منتظر ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button