بین الاقوامی خبریں

منکی پاکس کی وبا ہم جنس پرستانہ غیر فطری تعلقات کے ذریعہ پھیلی :ماہرین

عالمی ادارۂ صحت نے منکی پاسک کو عالمی ایمرجنسی قرار دے دیا

نیویارک24جولائی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 70 سے زیادہ ممالک میں پھیلنے والی آبلہ بندر(منکی پاکس) کی وَبا کوغیر معمولی صورت حال کے پیش نظرعالمی ایمرجنسی قراردے دیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے طبی ماہرین کی کمیٹی نے اسی ہفتے آبلہ بندر کی پھیلتی ہوئی وبا سے پیداہونے والی صورت حال غورکیا تھا اور اس کو ہفتے کے روزعالمی ایمرجنسی قراردیا ہے۔اس اعلان کا یہ مطلب ہے کہ منکی پاکس کی وبا ایک غیرمعمولی واقعہ ہے اور یہ مزید ممالک میں پھیل سکتی ہے۔

اس سے نمٹنے کے لیے مربوط عالمی ردعمل کی ضرورت ہے۔ڈبلیو ایچ او نے اس سے قبل صحت عامہ کے بحرانوں جیسے کووِڈ-19 وبا، 2014 میں مغربی افریقہ میں پھیلنے والی ایبولا کی وبا، 2016 میں لاطینی امریکا میں زِکا وائرس اور پولیو کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کے لیے ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا تھا۔ہنگامی اعلان عام طورپرمزید عالمی وسائل کا رْخ وبا کی طرف مبذول کرانے کی درخواست کے طورپرکام کرتا ہے۔

ماضی کے اعلانات نے ملے جلے اثرات مرتب کیے کیونکہ اقوام متحدہ کا ادارہ صحت رکن ممالک سے کارروائی کروانے میں بڑی حد تک بے اختیارہے۔گذشتہ ماہ ڈبلیوایچ او کے ماہرین کی کمیٹی نے کہا تھا کہ دنیا بھرمیں منکی پاکس کی وبا ابھی تک بین الاقوامی ایمرجنسی کے مترادف نہیں ہے۔تاہم اس پینل کا صورت حال کا ازسرنوجائزہ لینے کے لیے رواں ہفتے اجلاس طلب کیا گیاتھا۔امریکا کے مرکز برائے انسداد امراض اوربچاؤ(سنٹرفار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن) کے مطابق قریباًمئی سے اب تک 74 ممالک میں منکی پاکس کے 16 ہزار سے زیادہ کیس رپورٹ ہو چکے ہیں۔

البتہ آج تک صرف براعظم افریقہ میں آبلہ بندر سے اموات کی اطلاع ملی ہے جہاں اس وائرس کی زیادہ خطرناک قسم پھیل رہی ہے اور بنیادی طور پر نائیجیریا اور کانگو میں اس سے زیادہ متاثرہ مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔افریقہ میں، منکی پاکس بنیادی طور پر چوہوں جیسے متاثرہ جنگلی جانوروں سے لوگوں میں پھیلتا ہے۔ڈبلیوایچ او کے منکی پاکس کے سرکردہ ماہر ڈاکٹر روزمنڈ لیوس نے رواں ہفتے کہا تھا کہ افریقہ سے ماورا دوسرے ممالک میں منکی پاکس کے تمام متاثرہ کیسوں میں سے 99 فیصد مرد تھے اور ان میں بھی 98 فیصد وہ مرد شامل تھے جن کے دوسرے مردوں کے ساتھ غیر فطری جنسی تعلقات تھے۔

ماہرین کو شبہ ہے کہ یورپ اور شمالی امریکہ میں منکی پاکس کی وَبابلجیم اوراسپین میں ہم جنس پرستوں کے درمیان تعلقات کے ذریعہ پھیلی تھی۔ساؤتھمپٹن یونیورسٹی میں عالمی صحت کے ایک سینئر ریسرچ فیلو مائیکل ہیڈ کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات پر حیرت ہے کہ ڈبلیوایچ او نے پہلے ہی منکی پاکس کو عالمی ایمرجنسی کیوں قرارنہیں دیا تھا، کیونکہ اس کے حالات تو ہفتوں پہلے ہی پورے ہو چکے تھے۔

Join Urdu Duniya WhatsApp Group

https://chat.whatsapp.com/JBmc63JLoOS1vj9SSY2QZp

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.urdu.urduduniya

متعلقہ خبریں

Back to top button