ریاض، 26 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے سوموار کو مملکت میں آبلہ بندر(منکی پاکس) کے تین کیسوں کی تشخیص کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ وائرس سے متاثرہ یہ تینوں افراد یورپ سے آئے ہیں۔سعودی وزارت صحت نے 14 جولائی کو بیرون ملک سے مملکت میں لوٹنے والے شخص میں منکی پاکس کے وائرس کاپتہ لگانے کا اعلان کیا تھا۔یہ مملکت میں اس نئے وائرس کا پہلا کیس تھا۔وزارت نے تب سب کو یقین دلایا تھاکہ اس کیس کی صحت کے منظورشدہ طریق کار کے مطابق طبی دیکھ بھال کی جارہی ہے اور اس کے تمام رابطوں کا سراغ لیا گیا ہے۔
وزارتِ صحت نے واضح کیا ہے کہ وہ منکی پاکس وائرس سے لاحق ہونے والی بیماری کی نگرانی اور پیروی کا کام جاری رکھے گی اوررپورٹ ہونے والے کسی بھی کیس کا مکمل شفافیت کے ساتھ اعلان کرے گی۔اس نے اس بیماری سے نمٹنے کے لیے اپنی صلاحیت کواجاگر کیاہے۔اس نے ہدایت کی ہے کہ ہر کوئی صحت کی ہدایات پرعمل کرے، خاص طور پر سفر کے دوران میں سرکاری چینلز کے ذریعے نیز پبلک ہیلتھ اتھارٹی (وقایا) سے معلومات لے اور منکی پاکس کی بیماری سے متعلق کسی بھی مسئلے کی صورت میں کال سنٹر(937) سے رابطہ کرے۔
عالمی ادارۂ صحت نے ہفتے کے روزمنکی پاکس کوعالمی ایمرجنسی قراردیا ہیتاکہ اس وباپربروقت قابو پایا جاسکے اوراس کو عالمی سطح پر مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے دستیاب وسائل بروئے کارلائے جاسکیں۔اس بیماری سے اب تک 74 ممالک میں قریباً17 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ان میں زیادہ ترمریض یورپ میں ہیں۔سعودی وزارتِ صحت نے قبل ازیں 21مئی کوکہا تھا کہ وہ منکی پاکس کے کسی بھی کیس کی نگرانی اور اس سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پرتیار ہے۔اس نے اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کے لیے رہ نما خطوط بھی جاری کیے تھے۔
واضح رہے کہ آبلہ بندروائرس کی سب سے پہلے بندروں میں شناخت کی گئی تھی۔ یہ بیماری عام طور پر قریبی رابطے کے ذریعے پھیلتی ہے اور ماضی قریب میں افریقہ سے باہرشاذ و نادرہی پھیلی ہے۔البتہ اب اس سے مغربی ممالک میں انفیکشن کے نئے سلسلے نے تشویش کوجنم دیا ہے۔تاہم سائنس دانوں کو نہیں لگتا کہ اس وائرس سے لاحق ہونے والی بیماری کووڈ-19 کی طرح ایک بڑی عالمی وَبا میں تبدیل ہوجائے گی کیونکہ یہ وائرس سارس-کوو-2 کی طرح آسانی سے نہیں پھیلتا ہے۔منکی پاکس کا وائرس انسانوں اورجانوروں،دونوں میں بیماری کا سبب بنتا ہے۔ یہ وائرس بنیادی طورپروسطی اور مغربی آفریقا کے ٹراپیکل برساتی جنگلات کے علاقوں میں پایاجاتا ہے۔یہ وائرس جانور سیانسان اور انسان سے انسان میں پھیل سکتا ہے۔
نیوم کا کاروباری زون 2024 تک پبلکلی لسٹڈ ہو جائے گا: شہزادہ محمد بن سلمان
ریاض، 26 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اعلان کیا کہ نیوم کاروباری زون 2024 تک پبلکلی لسٹڈ ہو گا۔ بن سلمان نے منگل کو کہا کہ نیوم، جس کی تعمیر شروع ہوگئی ہے، سعودی سٹاک مارکیٹ کی قدر میں ایک کھرب ریال (266 ارب ڈالر) شامل کرے گا۔ولی عہد نے اس امر کا اظہار صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں اس وقت کیا جب دا لائن سٹی کے ڈیزائن کا اعلان کر رہے تھے۔
اس پروجیکٹ پر 500 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی۔ولی عہد نے کہا ‘ نیوم سٹی کے حوالے سے پیش رفت پر مبنی منصوبوں کی وجہ سے سعودی سٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں ابتدائی طور پر کم از کم 320 ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا جبکہ مجموعی طور پر 1،3 ٹریلین ڈالر تک جائے گی۔ جو کہ پانچ ٹریلینز سعودی ریال کے برابر ہو گی۔انہوں نے دا لائن کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا دا لائن کے تحت 2030 تک 320 ارب ڈالر تک سٹاک مارکیٹ جائے گی اور سعودی حکومت کی یہ سپورٹ 53 ارب ڈالر سے 80 ارب ڈالر تک جائے گی۔ سعودی حکومت مختلف فنڈز سے یہ سپورٹ دے گی جو حتمی طور پر 133 ارب ڈالر تک جائے گی۔واضح رہے کہ سعودی عرب کا پبلک انویسٹمنٹ فنڈ، ایک خود مختار ویلتھ فنڈ ہے۔
نیوم سٹی میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پبلک انوسٹمنٹ فنڈ کی سٹریٹجک اہمیت ہے۔نیوم کا ایریا اے 26500 مربعہ کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ یہ ہائی ٹیک نوعیت کا ایک ساحلی شہر ہو گا، جس کے ساتھ متعدد زون ہوں گے۔ ان ایریاز میں صنعتی اور لاجسٹک ایریا ہو گا، جسے 2025 تک مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔سعودی عرب میں ولی عہد کے وڑن 2030 کے تحت نیوم کی تعمیر کا آغاز 2017 میں ہوا تھا۔ یہ شہر مملکت میں تجارت اور سیاحت کے حوالے سے فلیگ شپ کی حیثیت کا حامل ہو گا۔ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پیر کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دا لائن سٹی نیوم میں مستقبل میں نوے لاکھ شہریوں کو رہائش فراہم کر سکے گا۔اس شہر کے ڈیزائن میں انسانی آبادی کو اولیں ترجیح کے طور ماحول دوست ماحول فراہم کیا جائے گا۔ اس لیے اس شہر کے ارد گرد بھی قدرتی ماحول کو برقرار رکھنے کی کوشش ہو گی۔
سعودی عرب میں پاسپورٹ کی معلومات تبدیل کرنے پر جرمانہ
ریاض، 26 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سعودی عرب کے جنرل ڈاریکٹوریٹ پاسپورٹ نے کہا ہے کہ پاسپورٹ میں موجود معلومات کوحذف کرنے یا تبدیل کرنے، یا جان بوجھ کرتباہ کرنے، مسخ کرنے یا تصویر میں تبدیلی کا عمل قابل سزا جرم ہے۔ پاسپورٹ کی معلومات تبدیل کرنے والے کو ایک لاکھ ریال اور پانچ سال تک بیرون ملک سفر پرپابندی کی سزا دی جائے گی۔پاسپورٹ ڈایکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ پاسپورٹ کو نقصان پہنچانے سے بچانے کے لیے اسے محفوظ جگہوں پر رکھنے اور اس کے غلط استعمال سے بچنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بیان میں کہا گیا ہے کہ شہری اپنے پاسپورٹ کی تیاری کے دوران درست معلومات فراہم کریں اور غلط معلومات کے اندراج سے بچیں۔
سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں: ایردوآن
انقرہ، 26 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ انقرہ کے تعلقات کو فروغ دینے کی کوششیں ابھی بھی جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصر کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے ملاقاتیں بھی بڑی رکاوٹوں کے بغیر جاری ہیں۔انہوں نے قاہرہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لیے انقرہ کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مصر کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔دوہوک میں ایک عراقی پہاڑی تفریحی مقام پر بمباری کے حوالے سے، جس میں 9 افراد ہلاک ہوئے تھے ایردوآن نے زور دے کر کہا کہ یہ حملہ دہشت گردوں نے ترکیہ اور عراقی تعلقات کو نقصان پہنچانے کے لیے کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے اپنے نیٹو اتحادیوں بشمول امریکا اور عراقی حکام کو حملے کے بارے میں اپنے موقف سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے عراق سے مطالبہ کیا کہ وہ کرد عسکریت پسندوں کے پروپیگنڈے کے جال میں نہ پھنسے۔عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یوکرین میں جنگ کی پیش رفت کے بارے میں صدر ایردوآن نے کہا کہ وہ چند روز قبل یوکرین کے غلہ کی برآمد کے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد تمام فریقین کی طرف سے اس کی شرائط کے عملی نفاذ کا انتظار کر رہے ہیں۔
ترکیہ چینل (ٹی آر ٹی) کو انٹرویو دیتے ہوئے ایردوآن نے کہا کہ یوکرینی اناج کو دنیا میں منتقل کرنے کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے بات چیت کافی عرصہ پہلے شروع ہوئی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان مفاہمت کے لیے ہماری کوششیں جنگ سے پہلے شروع ہوئی تھیں اور ہم اب بھی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔



