بین الاقوامی خبریں

بارش اور سیلاب نے بلوچستان میں تباہی ، ایک سو سے زائد ہلاک

کوئٹہ ؍اسلام آباد، 27 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مون سون کی بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ کئی اضلاع میں سیلاب کے باعث درجنوں افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق حالیہ مون سون سیزن میں اب تک 100 سے زائد افراد صوبے میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔پیر کو بھی صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جب کہ ضلع لسبیلہ میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی۔ادھر حب ڈیم کے اسپل ویز سے پانی کا غیر معمولی اخراج جاری ہے جس سے حب ندی میں سیلابی صورتَ حال پیدا ہو گئی ہے اور علاقے میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ حب ندی کے اطراف کی آبادیوں سے لوگوں کا انخلا جاری ہے جب کہ اب بھی کئی علاقوں میں پانی موجود ہے جن میں تحصیل لاکھڑا، وندر اور بیلا شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ضلع لسبیلہ کے علاقے بیلا میں ڈیم ٹوٹنے سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں اور اب تک 400 سو کے قریب لوگ پھنس چکے ہیں جن کو تاحال ریسکیو نہیں کیا گیا۔ لاکھڑا، بیلا اور وندر کے علاقوں میں بھی درجنوں لوگ حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔ علاقے میں متعدد افراد پانی کے ریلے میں بہہ کر ہلاک ہو چکے ہیں اور لوگ فضائی آپریشن کے ذریعے امداد کی اپیل کر رہے ہیں۔ علاقے میں انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ لوگوں کی فصلوں اور مال مویشی کو بھی نقصان پہنچا ہے اور درجنوں جانور سیلابی پانی میں بہہ گئے ہیں۔دریں اثنا وزیرِ اعلٰی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے سیلابی پانی میں گھرے لوگوں کو ریسکیو کرنے کے لیے فضائی آپریشن کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیرِ اعلٰی نے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق لسبیلہ کے علاقے گوٹھ غلام قادر میں 4 افراد سیلابی ریلے میں بہہ گئے جن میں سے دو کی لاشیں نکال کی گئی ہیں جب کہ باقی دو افراد کی تلاش تاحال جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لسبیلہ کی خراب صورتِ حال کے باعث رات گئے لوگوں نے مختلف دیہات سے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ ریسکیو اہلکاروں نے سیلابی ریلے میں پھنسے 80 سے زائد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا ہے۔مون سون کی حالیہ بارشوں سے بلوچستان کے ضلع قلعہ سیف اللہ میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیل گئی ہے۔ خصنوب کے علاقے میں ڈیم ٹوٹنے سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے مقامی افراد کو محفوظ مقام پر خیمہ بستیوں میں منتقل کر دیا ہے تاہم خیموں کی تعداد کم ہونے سے متاثرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ضلع پنج گور میں بھی مونسون کی بارشوں کے بعد سیلابی صورتِ حال ہے۔ چند روز قبل دو بچے سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہو گئے تھے۔ ادھر بلوچستان کے علاقے زہری میں ایک بند ٹوٹنے سے کئی علاقے زیر آب آ گئے جب کہ پانی نورگامہ قدیم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر خضدار نے مقامی لیویز فورس کو لوگوں کو بروقت ریسکیو کرنے کی ہدایت کی ہے۔بلوچستان میں قدرتی آفات کے دوران کام کرنے والے ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبے کے 15 اضلاع میں 14 جون سے اب تک ہونے والے بارشوں اور سیلابی صورتِ حال سے 108 افراد ہلاک جب کہ 150 کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے بلوچستان ایمرجنسی سیل کے مطابق مون سون کی حالیہ بارشوں کے باعث بلوچستان کے ضلع کوئٹہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، سبی، واشک، چمن، آواران، نوشکی، زیارت، شیرانی، ہرنائی، جعفرآباد، ڑوب، ڈیرہ بگٹی، خضدار،مستونگ، پنج گور، کوہلو اور لسبیلہ میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ حالیہ بارشوں سے چھ ہزار سے زائد مکانات کو مکمل یا جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ضلع لسبیلہ میں اتوار کی شب ہونے والے بارشوں سے تین افراد کے سیلابی ریلے میں بہہ کر ہلاک ہونے کی اطلاع ملی ہے تاہم اب تک ضلعی انتظامیہ نے ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button