سعودی ولی عہد کا پیرس میں صدر میکروں کی طرف سے استقبال
پیرس ،29 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)فرانسیسی صدر سے توقع کی جا رہی تھی کہ محمد بن سلمان کے ساتھ اپنی ملاقات میں انسانی حقوق کا مسئلہ بھی اٹھائیں گے، تاہم سعودی عرب کے عملاً حکمراں کے ساتھ پیرس میں ہونے والی بات چیت میں توانائی کی فراہمی ہی اہم ایجنڈا تھا۔فرانس کے صدر ایمانوئل ماکروں دارالحکومت پیرس میں جمعرات کی شام کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ایک ورکنگ ڈنر کی میزبانی کر رہے تھے۔ تاہم ملک کے بعض سیاست دانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کے اس رویے پر شدید تنقید کی ہے۔
سعودی ولی عہد گزشتہ منگل سے یورپ میں ہیں، وہ سن 2018 میں استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سے یورپ کے اپنے پہلے سرکاری دورے پر پہلے یونان اور پھر فرانس پہنچے۔اس قتل کی وجہ سے تقریباً چار برس تک بین الاقوامی سطح پر الگ تھلگ پڑنے کے بعد ان کے اس دورے کو محمد بن سلمان کی عالمی امور میں دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ سمیت بعض تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم خود محمد بن سلمان نے ہی دیا تھا۔
لیکن ان کا یہ دورہ یورپ ایک ایسے وقت میں ہوا جب یوکرین میں جنگ اور ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے سبب، مغربی ممالک تیل پیدا کرنے والی بڑی ریاست سعودی عرب کے ساتھ دوبارہ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش میں ہیں۔ فرانسیسی وزیر اعظم الزبتھ بورن کا کہنا تھا کہ صدر ماکروں سعودی شہزادے کے ساتھ ملاقات کے دوران انسانی حقوق پر اپنے تحفظات پر بات چیت کریں گے اور روس کے علاوہ کہیں دوسری جگہ سے توانائی کی فراہمی کو محفوظ بنانے کی بھی کوشش کریں گے۔بورن نے کہا کہ ظاہر ہے، یہ اپنے اصولوں کو پس پشت ڈالنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ انسانی حقوق سے متعلق ہماری وابستگی پر سوالیہ نشان لگانے کے بارے میں بھی نہیں ہے۔
یقینی طور پر صدر کو محمد بن سلمان کے ساتھ اس بارے میں بات کرنے کا موقع ملے گا۔ان کا مزید کہنا تھاکہ اس سیاق و سباق میں، جہاں ہمیں معلوم ہے کہ روس کٹوتیاں کر رہا ہے، کٹوتی کرنے کی دھمکی دے رہا ہے اور گیس کی سپلائی میں پھر کمی کر رہا ہے، اور جہاں ہم توانائی کی قیمتوں پر تناؤ کا شکار ہیں، میرے خیال میں اگر ہم توانائی پیدا کرنے والے ممالک سے بات نہیں کرتے، تو فرانس کی عوام اسے سمجھ نہیں پائیں گے۔
جمال خاشقجی کی منگیتر خدیجہ چنگیزی نے ماکروں کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت غصے میں ہوں کہ ایمانوئل ماکروں میرے منگیتر جمال خاشقجی کے قاتل کا تمام اعزازات کے ساتھ خیر مقدم کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین میں جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اس بات کا قطی جواز پیش نہیں کر سکتا کہ حقیقی سیاست کے نام پر، ہم سعودی عرب میں سیاسی مخالفین کے ساتھ پالیسیوں کے لیے ذمہ دار شخص کو بری کر دیں۔
واشنگٹن میں سرگرم انسانی حقوق کے ادارے ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ (ڈی اے ڈبلیو این) نے فرانس میں سعودی رہنما محمد بن سلمان کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ادارے کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سارہ لیہ وٹسن نے کہا کہ تشدد اور جبری گمشدگیوں کے خلاف اقوام متحدہ کے کنونشنز کے ایک فریق کے طور پر، فرانس اس بات کا پابند ہے کہ اگر محمد بن سلمان جیسے مشتبہ افراد فرانس کی سرزمین پر موجود ہوں، تو ان سے تفتیش کی جائے۔



