بین الاقوامی خبریں

سوڈان:فوجی حکومت کیخلاف ایک مرتبہ پھر ہزاروں افراد کا سڑکوں پراحتجاج

خرطوم، یکم اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں ہزاروں مظاہرین نے فوجی حکومت کے خاتمے کے لیے ایک مرتبہ پھر ریلی نکالی ہے۔انھوں نے قبائل کے درمیان جھڑپوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے،جن میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے فوجی حکمران جنرل عبدالفتاح البرہان کے خلاف نعرے بازی کی جنھوں نے گذشتہ سال سویلین قیادت کی حامل حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی قیادت کی تھی اور اقتدار پرقبضہ کر لیا تھا۔

جمہوریت کے حامی طبی عملہ کے مطابق مظاہرین کیخلاف مہلک کریک ڈاؤن کے باوجودگذشتہ ایک سال سے ہفتہ وار مظاہرے کیے جارہے ہیں اور ان میں 116 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مظاہرین نے فوجی حکمرانوں سے اپنی بیرکوں میں واپس جانے کا مطالبہ کیا اور وہ یہ نعرے بازی کررہے تھے کہ حق حکمرانی عوام کا ہونا چاہیے۔

گذشتہ سال کی فوجی بغاوت کے بعد سے سوڈان بڑھتے ہوئے معاشی بحران اورامن وامان کی ابترصورت حال سے دوچار ہے جس کی وجہ سے اس کے دور دراز علاقوں میں نسلی جھڑپوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔واضح رہے کہ سوڈان کا دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمارہوتا ہے۔سوڈان کی جنوبی ریاست بلیو نیل میں زمینی تنازع پر قبائلی جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔ ان کے نتیجے میں کم سے کم 105افراد ہلاک اور 291 زخمی ہو گئے تھے۔اب مظاہرین ان مقتولین کا انصاف دلانے قبائل میں تشدد ختم کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ فوجی کونسل نے قبائلی تشدد سے آنکھیں بند کرلی ہیں ؛کیونکہ یہ مسائل اسے اقتدار میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں۔ جمہوریت کے حامی کارکنان طویل عرصے سے سوڈان کے فوجی اور سابق باغی رہنماؤں کو تشدد کے واقعات کا موردالزام ٹھہراتے رہتے ہیں۔انھوں نے 2020 میں ایک امن معاہدے پردست خط کیے تھے مگر سیاسی فائدے کے لیے طے کیے گئے اس معاہدے کے نتیجے میں نسلی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button