کیف؍لندن، یکم اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرین کے شہر مائیکولیف پر اتوار کو میزائل حملوں میں اناج کی سب سے بڑی ایکسپورٹ کمپنی کے مالک اہلیہ سمیت ہلاک ہو گئے جبکہ بحیرہ اسود میں روسی فوج کے اڈے پر ڈرون حملہ ہوا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے مائیکولیف شہر کے گورنر وٹالی کِم کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ زرعی کمپنی نیبولون کے بانی اور مالک اولیسکی ویداٹرسکے اپنی اہلیہ سمیت اس وقت حملے کا نشانہ بنے جب وہ اپنے گھر پر موجود تھے۔رپورٹ کے مطابق مائیکولیف برآمدات کے حوالے سے بہت اہمیت کا حامل ہے جس کی زیادہ تر سرحد خیرسن کے ان علاقوں کے ساتھ لگتی ہے جو روس کے قبضے میں ہیں۔
نیبولون گندم، جو اور مکئی کی پیداوار کرنے کے ساتھ ساتھ برآمد بھی کرتی ہے۔ اس کے پاس اپنا شپ یارڈ اور مال سپلائی کرنے والے جہاز بھی ہیں۔مائیکولیف کے میئر اولیکسینڈر سینکیوئچ کا کہنا ہے کہ علاقے پر 12 سے زائد طاقتور میزائل داغے گئے اور گھروں کے علاوہ سکولوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں تین افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔اتوار کو ہی مزید حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں تاہم ان میں ہلاکتوں یا اور کسی نقصان کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔دوسری جانب روس کے قبضے میں چلے جانے والے شہر سیتاپول کے گورنر میخائل رزوزائف نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ بحیرہ اسود میں روسی فوجیوں کے ایک اڈے پر ڈرون کی پرواز کے بعد شدید دھماکہ ہوا، جس سے پانچ فوجی زخمی ہوئے۔انہوں نے حملے کا الزام یوکرین پر لگایا۔
روئٹرز آزادنہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔روس کے ایوان بالا کے رکن اولگا کوویتیدی نے سرکاری نیوز ایجنسی ریا کو بتایا کہ حملہ یقینی طور پر بیرونی ہے تاہم ہوا سیویستاپول کی حدود کے اندر سے ہے۔ان کے مطابق ’حملے کے بعد تلاش کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور ان عناصر کو جلد ہی ڈھونڈ لیا جائے گا۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ویداٹرسکے کی ہلاکت کو ملک کے لیے ’بڑا نقصان‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اناج کی ایکسپورٹ کے حوالے سے جدید نیٹ ورک بنا رہے تھے۔
خیال رہے آپس میں برسرپیکار یوکرین اور روس دونوں ممالک ہی اناج کی پیداوار اور برآمد کے حوالے سے اہم کردار کرتے آرہے ہیں تاہم فروری میں چھڑنے والی جنگ کے بعد سے اناج کی پیداوار اور برآمد شدید متاثر ہوئی ہے اور دنیا میں غذائی بحران سے سر اٹھایا ہے۔
روسی حملوں میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ،مشرقی ڈونیٹسک خالی کرنے کی اپیل
کیف؍لندن، یکم اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے شدید جنگ کا سامنا کرنے والے مشرقی ڈونیٹسک علاقے کو خالی کرنے کی اپیل کی ہے کیوں کہ روس اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔صدر زیلنسکی نے مشرقی ڈونیٹسک صوبے کو خالی کرانے کا مطالبہ ہفتے کی رات جاری کردہ ویڈیو پیغام میں کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈونیٹسک سے جتنے زیادہ لوگ نکلیں گے، روس کی فوج اتنے ہی کم افراد کو نشانہ بنا سکے گی۔اس وقت لاکھوں افراد، جن میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں، ڈونباس خطے میں موجود ہیں۔
واضح رہے کہ ڈونیٹسک اور لوہانسک ڈونباس کا حصہ ہیں۔اسی خطے میں رواں ہفتے کے اوائل میں یوکرین کے جنگی قیدی روس کے میزائل حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق زیلنسکی نے ویڈیو میں مزید کہا کہ جو لوگ یہاں سے نکلیں گے انہیں معاوضہ دیا جائے گا۔انہوں نے خطے سے نکلنے والے افراد کو لاجسٹک امداد فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ وہاں سے جانے سے انکار کر رہے ہیں تاہم یہاں سے اںخلا ضروری ہے۔
زیلنسکی کے بقول اگر وہاں سے نکلنے والوں کو موقع ملتا ہے تو وہ ڈونباس میں ابھی بھی موجود لوگوں سے رابطہ کریں اور راضی کرنے کی کوشش کریں ،کیونکہ یہ خطہ چھوڑنا ضروری ہے۔اس سے قبل ہفتے کو یوکرین نے مطالبہ کیا تھا کہ روس کو یوکرین کے مشرقی حصے میں درجنوں جنگی قیدیوں کو میزائل حملے کے ذریعے ہلاک کرنے پر جواب دہ ہونا چاہیے۔
جمعے کو کیے گئے حملوں پر یوکرین کی حکومت نے اقوامِ متحدہ اور بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی سیان حملوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔خیال رہے کہ میزائل حملوں کی وجہ سے بین الاقوامی ردِ عمل میں اضافہ ہو رہا ہے، اقوام متحدہ نے بھی جیل پر کیے جانے والے حملے کی تحقیقات زور دیا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق کا ہفتے کو جاری کردہ بیان میں کہنا تھا کہ اولینیوکا کی جیل میں ہونے والے حالیہ سانحے کے سلسلے میں وہ تحقیقات کے لیے ماہرین کا ایک گروپ بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔
تاہم اس سلسلے میں فریقین کی رضا مندی درکار ہے۔واضح رہے کہ روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔ تاہم دونوں دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔اب تک کسی بھی بین الاقوامی امدادی تنظیم کو جائے وقوع کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ریڈ کراس کی طرف سے اس مقام کا دورہ کرنے کی درخواست کی گئی ہے تا کہ زخمیوں کی امداد کی جا سکے۔رائٹرز کے مطابق روس کا اتوار کو جاری کردہ بیان میں کہنا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کے ماہرین کو جیل میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے کے لیے مدعو کیا ہے۔وزارتِ دفاع کی طرف سے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہفتے کو جیل پر ہونے والے حملے کی معروضی تحقیقات کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔
روسی بحریہ کو ہائپر سونک میزائل فراہم کرنے کا اعلان
ماسکو، یکم اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ’نیو نیوی ڈاکٹرائن‘ پر دستخط کر دیے ہیں۔ صدر پوٹن کا کہنا تھا کہ نئی پالیسیوں سے روسی بحریہ ایک عظیم سمندری طاقت بن کر ابھرے گی۔روسی صدر نے نیوی ڈے کے موقع پر سینٹ پیٹرز برگ میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران اس بات کا اعلان کیا کہ روسی بحریہ کو جلد ہائپر سونک میزائل فراہم کر دیے جائیں گے۔ ہائپر سونک میزائل آواز سے بھی پانچ گنا تیز رفتار ہوتے ہیں۔ تاہم روسی صدر کے مطابق یہ میزائل انہی علاقوں میں تعینات کیے جائیں گے، جہاں روسی مفادات کی حفاظت ضروری ہے۔جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ میزائل آئندہ چند ماہ کے اندر اندر روسی بحریہ کو فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔
روس کی’’نیو نیوی ڈاکٹرائن‘‘ کی مزید تفصیلات فی الحال خفیہ رکھی گئی ہیں۔ اس موقع پر روسی صدر نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ ایڈمرل گورِش کوف ان طاقتور ہتھیاروں کے ساتھ اپنی جنگی فرائض سر انجام دینے والے پہلے افسر ہوں گے۔ صدر پوٹن نے مزید کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب روسی بحریہ تمام مخالفین کو بجلی کی رفتار سے جواب دینے کے قابل ہے۔زرکون ہائپرسونک کروز میزائل دنیا میں منفرد خیال کیے جاتے ہیں۔ ہائپرسونک ہتھیار فضا میں آواز سے بھی نو گنا زیادہ کی رفتار سے سفر کر سکتا ہے۔
روس نے ہائپر سونک میزائل کا پہلا کامیاب تجربہ 2018میں کیا تھا۔ اس کروز میزائل کو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے ایس ایس این تھری تھری کا نام دے رکھا ہے۔ برق رفتار زرکون میزائل چار سو کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔روس نے کچھ عرصہ پہلے زرکون میزائلوں کو آبدوز اور جنگی بحری جہاز سے فائر کرنے کے کامیاب تجربات کیے تھے۔ صدر پوٹن کی کوشش ہے کہ خطے میں بحری حوالے سے اپنی برتری کو برقرار رکھا جائے۔



