
واشنگٹن،5 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی حکومت کے اس اقدام سے اس بیماری سے لڑنے کے لیے مزید وفاقی فنڈنگ اور اقدامات کا بند و بست ہو سکے گا۔ عالمی ادارہ صحت نے پہلے اسی طرح کا اعلان کیا تھا اور اب امریکی انتظامیہ نے بھی اسے ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔امریکہ میں صحت اور انسانی خدمات کے وزیر زیویئر بیسرا نے اعلان کیا کہ حکومت نے منکی پاکس کے پھیلاؤ کو صحت عامہ کی ایمرجنسی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس سے نمٹنے کی تیاریوں پر خصوصی توجہ دینے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس وائرس سے نمٹنے کے لیے اپنے رد عمل کو اگلے سطح تک لے جانے کے لیے تیار ہیں، اور ہم ہر امریکی پر زور دیتے ہیں کہ وہ منکی پاکس کو سنجیدگی سے لے اور اس وائرس سے نمٹنے میں ہماری مدد کرنے کے لیے ذمہ داری بھی قبول کرے۔ایمرجنسی قرار دینے سے اس بیماری سے لڑنے کے لیے جہاں مزید وفاقی فنڈنگ کا بند و بست ہوجاتا ہے، وہیں اضافی اقدامات کرنے کی سہولیات بھی مل جاتی ہیں۔سب سے پہلے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منکی پاکس کو ایمرجنسی قرار دیا تھا اس کے بعد امریکہ نے ملکی سطح پر اس کا اعلان کیا ہے۔امریکی ریاست کیلیفورنیا، الینوائے اور نیویارک پہلے ہی اپنی ریاستوں میں منکی پاکس کو صحت عامہ کی ایمرجنسی قرار دے چکے تھے۔
امریکہ میں منکی پاکس کی وبا سے اب تک چھ ہزار سے بھی زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہے۔ امریکی کانگریس میں حکمراں ڈیموکریٹس نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پر اس بات کے لیے نکتہ چینی کی ہے کہ انہوں نے اس وبا پر قابو پانے کے لیے تیزی سے اقدامات نہیں کیے۔ان کے مطابق اس وبا کے لیے جتنی مقدار میں ویکسین کی مانگ ہے سپلائی اس سے کہیں کم ہے اور یہ انتظامیہ کی ناکامی ہے۔نیو یارک کے ڈیموکریٹک سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ نے بائیڈن انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ موجودہ صورت حال میں ویکسین کی فراہمی کو بڑھانے کے لیے ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ (ڈی پی اے) کا استعمال کرے۔
ڈی پی اے ایکٹ صدر کو اس بات کے اختیارات فراہم کرتا ہے کہ وہ نجی فرموں کو بھی وفاقی حکومت کے احکامات کو ترجیح دینے پر مجبور کر سکیں۔ امریکہ نے اب تک تقریباً چھ لاکھ ویکسین تقسیم کی ہیں۔ تاہم اس وائرس سے تقریباً سولہ لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ لاحق ہے اور اس تعداد کو پیش نظر ویکسین کی یہ تعداد بہت کم ہے۔منکی پاکس کی عام علامات میں سر درد، بخار اور سردی لگنا شامل ہیں۔ امریکہ میں زیادہ تر کیس ایسے مردوں میں پائے گئے ہیں جو دیگرمردوں کے ساتھ جنسی تعلق رکھتے ہیں۔منکی پاکس سے متاثرہ شخض کی موت شاذ و نادر ہی ہوتی ہے، تاہم بھارت سمیت بعض ممالک میں اس سے متاثرہ افراد کی موت کی اطلاعات ہیں۔یہ بیماری قریبی جسمانی رابطے سے پھیلتی ہے۔ اب تک اس بیماری سے زیادہ تر وہ مرد متاثر پائے گئے ہیں، جو ہم جنس پرست ہیں۔
سازشی نظریات پھیلانے والے الیکس جونز کو لاکھوں ڈالر کا جرمانہ
نیویارک،5 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یہ پہلا موقع ہے جب سازشی نظریات گھڑنے والے الیکس جونز کو 2012 کے سینڈی ہوک اسکول میں فائرنگ سے انکار کے لیے مالی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ انفووارز کے میزبان دائیں بازو کے سخت گیر جونز سازشی نظریات کے لیے معروف ہیں۔امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک جیوری نے چار اگست جمعرات کے روز انتہائی دائیں بازو کے نظریات کے حامل میڈیا ادارے انفو وارز کے میزبان الیکس جونز کو حکم دیا کہ وہ سن 2012 کے سینڈی ہوک اسکول میں ہونے والی فائرنگ کے متاثرین میں سے ایک کے والدین کو 41 لاکھ ڈالر کی رقم بطور ہرجانہ ادا کریں۔
یہ پہلا موقع ہے جب سازشی نظریات کی تشہیر کے لیے معروف جونز کو سینڈی ہوک کے اس کے قتل عام سے انکار کے لیے قانونی طور پر جوابدہ ٹھہرایا گیا ہے، جس میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔سن 2012 میں کنیکٹی کٹ کے سینڈی ہک ایلیمنٹری اسکول میں ہونے والی فائرنگ میں 20 بچوں اور چھ بالغ افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ تاہم ایلکس جونز نے اسے فائرنگ کا ایک فرضی دعویٰ قرار دیا تھا۔دو ہفتے سے جاری اس مقدمے کی سماعت کے دوران الیکس جونز نے اپنے دفاع میں یہ دلیل پیش کی تھی کہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت انہیں اپنے خیالات کی تشہیر کا آزادانہ حق حاصل ہے۔
لیکن متاثرین کے اہل خانہ کے وکلا کا کہنا تھا کہ تقریر کی تو بالکل آزادی ہے، تاہم جھوٹ بولنے کی قیمت بھی آپ کو ادا کرنی پڑتی ہے۔بالآخر بدھ کے روز جونز نے بھی عدالت کے سامنے یہ بات تسلیم کی کہ سینڈی ہوک حملہ سو فیصدحقیقی تھا اور انہوں نے اپنے بیانوں سے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پرمعذرت بھی کی تھی۔اسکول میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ایک چھ سالہ بچے کے والدین، نیل ہیسلن اور اسکارلیٹ لیوس نے کہا کہ قتل عام کے بارے میں جونز کے جھوٹے دعوؤں کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملیں اور انہیں ہراساں کیا گیا۔ان والدین کے وکیل نے اپنے عرضی میں پندرہ کروڑ ڈالر ہرجانے کی درخواست کی تھی۔
تاہم جونز کا کہنا تھا کہ 40 لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ کا کوئی بھی جرمانہ ہمیں ڈبو کر رکھ دے گا۔ٹیکساس کی عدالت کو ابھی یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ انفو وارز کے میزبان الیکس جونز کو اس جھوٹے پروپیگنڈے کے لیے سزا کیا دی جائے۔الیکس جونز کے وکیل نے یہ بات تسلیم کی تھی کہ انفو وارز نے سینڈی ہوک کے بارے میں غلط اطلاعات فراہم کیں، تاہم متاثرہ کے والدین کو جس طرح ہراساں کیا گیا، اس کے لیے جونز کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔
چار امریکی پولیس اہلکاروں پر سیاہ فام خاتون کے قتل کی فرد جرم عائد
نیویارک، 5 اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی محکمہ انصاف نے 2020 میں کینٹکی میں واقع گھر پر چھاپے کے دورن ماری گئی سیاہ فام خاتون بریونا ٹیلر کی موت کے الزام میں 4 پولیس افسران پر فرد جرم عائد کردی۔رپورٹ کے مطابق اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ کا کہنا ہے کہ افسران کو وفاقی کی جانب سے شہری حقوق کی خلاف ورزیوں، غیر قانونی سازش، جھوٹے بیانات دینے اور طاقت کے غیر آئینی استعمال اور رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم الزام لگاتے ہیں کہ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں بریونا ٹیلر کی موت واقع ہوئی ورنہ وہ آ ج زندہ ہوتیں۔
مئی 2020 میں منیاپولس میں سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں قتل ہونے والے 46 سالہ سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ اور بریونا ٹیلر کی اموات امریکا سمیت دیگر ممالک میں نسلی بنیادوں پر کی جانے والی ناانصافی اور پولیس کی سفاکیت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کی لہر کا باعث بن گئی تھیں۔26 سالہ نریونا ٹیلر اور اس کا بوائے فرینڈ کینتھ واکر 13 مارچ 2020 کو اپنے اپارٹمنٹ میں سو رہے تھے جب انہوں نے آدھی رات کے وقت دروازے پرشور سنا۔کینتھ واکر نے یہ سمجھتے ہوئے کہ ان کے گھر پر حملہ کیا گیا ہے، اپنی بندوق سے فائر کر دیا جس کے نتیجے میں ایک پولیس افسر زخمی ہو گیا۔
منشیات سے متعلق جرائم میں گرفتاری کا وارنٹ رکھنے والی پولیس نے جواب میں 30 سے زیادہ گولیاں چلائیں جن سے بریونا ٹیلر کو جان لیوا زخم آئے اور وہ دم توڑ گئی۔میرک گارلینڈ نے کہا کہ 3 پولیس افسران بریونا ٹیلر کے سابق بوائے فرینڈ کے خلاف منشیات کی اسمگلنگ کے مقدمے میں جعلی سرچ وارنٹ بنانے میں ملوث تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پولیس افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے بریونا ٹیلر کے گھر کی تلاشی کے لیے وارنٹ کے ذریعے اس کے حقوق کی خلاف ورزی کی جب کہ وہ جانتے تھے کہ ان کے پاس اس کا قانونی جواز نہیں ہے۔میرک گارلینڈ نے افسران کو چارج چیٹ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم الزام لگاتے ہیں کہ وہ جانتے تھے کہ وارنٹ کو درست ثابت کرنے کے لیے حلف نامہ غلط اور گمراہ کن معلومات پر مشتمل ہے جب کہ اس میں ٹھوس معلومات موجود نہیں تھیں۔
فرد جرم میں چوتھے پولیس افسر بریٹ ہینکیسن پر چھاپے کے دوران وحشیانہ فائرنگ کرنے پر ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا جس کے نتیجے میں بریونا ٹیلر ہلاک ہوئی۔واقعہ میں ملوث افسران میں سے 2 کو نوکری سے برطرف کردیا گیا تھا لیکن ریٹ ہینکیسن کو ریاستی الزامات کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن ان الزامات کا تعلق بریونا ٹیلر کی موت سے نہیں بلکہ پڑوسی اپارٹمنٹس کے رہائشیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق تھے۔



