ریاض،5 اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی ہیریٹیج اتھارٹی نے جازان شہرسے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جزائر فرسان میں آثار قدیمہ کی نئی دریافتوں کا اعلان کیا ہے۔ ان دریافتوں سے ثابت ہوتا ہے جن مقامات سے یہ ملی ہیں وہاں پر 1400 قبل مسیح انسانی آبادی اور تہذیب موجود تھی۔یہ نوادرات پیرس ون یونیورسٹی کے تعاون سے ایک مشترکہ سعودی- فرانسیسی سائنسی ٹیم کے تحقیق اور کھدائی کے کام کے دوران ملیں۔ کھدائی کے نتیجے میں دوسری اور تیسری صدی عیسوی کے متعدد فن تعمیراتی مظاہر اور نمونے دریافت ہوئے۔
یہ نوادرات سعودی عرب میں ورثے کے تحفظ کے ادارے کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا تسلسل ہے۔سائنسی ٹیم کو کھدائی کے دوران نایاب نوادرات کی موجودگی کا پتا چلا۔ ان نوادرات میں تانبے کے کھوٹ سے بنی تہہ شدہ رومن شیلڈ اور ایک اور قسم کی لوریکا اسکوماٹا شامل ہے جو پہلی سے تیسری صدی عیسوی تک رومن دور میں سب سے زیادہ استعمال ہوتی تھیل۔یہ اب تک کی سب سے نایاب ٹکڑوں کی نمائندگی کرتی ہے۔
سعودی پریس ایجنسی ایس پی اے کے مطابق مشرقی رومن سلطنت جینوس کی تاریخ میں ایک مشہور رومن شخصیت کے ایک سلیمانی نوشتہ کی دریافت کے علاوہ ایک چھوٹے مجسمے کا سربھی ملا۔قابل ذکر ہے کہ ایک سعودی فرانسیسی ٹیم نے 2005میں جزیرہ فرسان پر تحقیقی کام کے لیے کھدائی کا دورہ کیا تھا جس نے 2011 میں جزیرے پر سروے کا کام شروع کرنے کے لیے آثار قدیمہ کی اہمیت کے حامل مقامات کی نشاندہی کی تھی۔
2011-2020 کی مدت کے دوران کی گئی پچھلی دریافتوں کے نتیجے میں بہت سی تعمیراتی اور آثار قدیمہ کی دریافتیں ہوئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ مقامات تقریباً 1400 قبل مسیح کے ہیں۔فرسان جزائر کے مقامات پر ہونے والے ان کاموں نے بہت سی آثار قدیمہ کی دریافتوں کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کیا، اور اہم مقامات کا انکشاف کیا، جو مملکت کے جنوب میں واقع تاریخی بندرگاہوں کے تہذیبی اور بحیرہ احمر کی تجارت کو کنٹرول کرنے میں ان کی اہمیت اور قدیم میری ٹائم کمرشل ٹرانسپورٹ لائنز کے حوالے سے ماضی میں اہم رہ چکے ہیں۔آثار قدیمہ کی یہ دریافتیں جزائر فراسان کی ثقافتی گہرائی، اور مملکت کی اہمیت اور مختلف تہذیبوں کے مرکز کے طور پر اس کے تزویراتی محل وقوع کی بھی تصدیق کرتی ہیں۔ سعودی ہیریٹیج اتھارٹی ثقافتی ورثے کے اجزاکو منظم کرنے، ثقافتی تحفظ کے لیے اپنی انتھک کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
تقدیس حرم کی توہین کا جرم ، 6 پاکستانیوں کو سزا سنادی گئی
ریاض 5، اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تقدیس حرم کی توہین پر 6 پاکستانیوں کو سعودی عرب میں سزا سنا دی گئی، تین پاکستانیوں کو10 ،10 سال اور تین پاکستانیوں کو 8، 8 سال کی سزا سنائی۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں حرمت حرم کی توہین پر 6 پاکستانیوں کو سزا سنادی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ سعودی عدالت نے مجرموں کو بیس ہزار ریال جرمانے اور موبائل فون ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ تین پاکستانیوں انس، ارشاد اور سلیم کو دس ،دس سال اور باقی تین خواجہ لقمان،افضل اورغلام محمد کو آٹھ ، آٹھ سال کی سزا سنائی گئی۔ذرائع کے مطابق سزا پانیوالے دو مجرموں کا تعلق ن لیگ سے ہے، خواجہ لقمان،انس کی رہائی کیلئے حکومتی سطح پرسفارتخانے کوخط بھی لکھا جا چکا ہے۔
یاد رہے رواں سال اپریل کے آخر میں مسجد نبویؐ واقعے پر سعودی حکام نے کارروائی کرتے ہوئے کچھ پاکستانیوں کو گرفتار کیا تھا۔ترجمان سعودی سفارتخانے نے بتایا تھا کہ کچھ پاکستانیوں کو قواعد کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف وفد کے ہمراہ مسجد نبوی ؐپہنچے تھے تو کچھ لوگوں کی جانب سے ’شہباز شریف چور چور‘ کے نعرے لگائے گئے تھے۔
جدہ: ایکسپائرڈ گوشت برآمد ہونے پر ریستوران کے خلاف کارروائی
ابو ظہبی 5، اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سعودی عرب کے شہر جدہ میں جدیدہ کی بلدیاتی کاؤنسل کے انسپکٹرز نے شہر کے معروف ریستوران پر چھاپہ مار کر زائد المیعاد گوشت بر آمد کرلیا۔میونسپلٹی کے ماتحت جدہ الجدیدہ بلدیاتی کاؤنسل کی چیئر پرسن عزۃالعسبلی نے کہا ہے کہ الزہرا محلے کے ایک فاسٹ فوڈ ریستوران سے چوتھائی ٹن زائد المیعاد گوشت برآمد ہوا ہے جو انسانی استعمال کے قابل نہیں تھا۔العسبلی نے مزید کہا کہ ریستوران کی انتظامیہ صفائی نظام کی پابندی نہیں کر رہی تھی، کھانے پینے کی اشیا جس جگہ ذخیرہ کی گئی تھیں وہاں صفائی غیر معیاری تھی۔بلدیاتی کاؤنسل نے خلاف ورزی پر ریستوران کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے خراب گوشت ضبط کرلیا اور اسے تلف کروا دیا۔بلدیاتی کاؤنسل کے انسپکٹرز ان دنوں تجارتی اور غذائی اشیا کا کاروبار کرنے والے اداروں پر چھاپے مار رہے ہیں اور مقررہ قوانین و ضوابط کی پابندی پر عمل یقینی بنا رہے ہیں۔
ایمن الظواہری کی ہلاکت کے بعد کیا امریکہ افغانستان میں انتہائی مطلوب حقانیوں کو بھی ہدف بنا سکتا ہے؟
واشنگٹن 5، اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)طالبان حکومت کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے اب تک ان الزامات کا جواب نہیں دیا کہ القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کابل میں ان کی حفاظت میں قیام پذیر تھے۔ امریکی ڈرون حملے میں الظواہری کی ہلاکت کی خبر آنے کے بعد سے سراج الدین حقانی منظر سے غائب ہیں۔امریکہ نے 42 سالہ سراج الدین حقانی کے سر کی قیمت 10 ملین ڈالر رکھی ہے جب کہ حقانی گروپ اپنی مبینہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کی بنا پر طالبان تحریک کے اندر ایک طاقت ور دھڑے کی حیثیت رکھتا ہے۔
سراج الدین حقانی اپنے خاندان کے واحد ایسے شخص نہیں جنہیں عالمی دہشت گرد نامزد کیا گیا ہے۔ اْن کے چچا خلیل حقانی، جو طالبان کابینہ میں وزیر بھی ہیں اور ان کے چھوٹے بھائی عزیز حقانی پر بھی، امریکہ کی جانب سے ایسی معلومات کی فراہمی پر پانچ پانچ ملین ڈالر کا انعام مقرر ہے جس سے ان کی گرفتاری میں مدد مل سکے۔اسی طرح سراج الدین حقانی کے قریبی ساتھی اور بہنوئی یحییٰ حقانی کو بھی امریکی حکومت نے فروری 2014 میں عالمی دہشت گرد نامزد کیا تھا، تاہم ان کی گرفتاری میں مدد کے سلسلے میں کوئی مالی انعام مقرر نہیں۔حقانی خاندان کے یہ افراد گزشتہ کئی برسوں کے دوران افغانستان میں سلسلے وار دہشت گرد انہ حملے کرنے اور انہیں منظم کرنے میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات میں مطلوب ہیں۔
سراج الدین حقانی پر الزام ہے کہ انہوں نے 14 جنوری 2008 کو کابل کے سرینا ہوٹل پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں ایک امریکی شہری تھور ڈیوڈ ہیسلا سمیت چھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جس کے بعد مارچ 2008 میں امریکی محکمہ خارجہ نے سراج الدین حقانی کو خصوصی طور پر عالمی دہشت گرد نامزد کرد یا تھا۔اسی طرح فروری 2008 میں خلیل حقانی کو بھی عالمی دہشت گرد نامزد کیا گیا تھا۔
ان پر دیگر دہشت گردانہ سرگرمیوں سمیت افغانستان میں القاعدہ کے کارندوں کو جنگجو، ہتھیاراور مالی وسائل کی فراہمی میں مدد دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔گزشتہ اگست تک، جب تک طالبان نے کابل پر قبضہ نہیں کیا، حقانی اتنے خفیہ طریقے سے زندگی بسر کر رہے تھے کہ سراج الدین اور خلیل حقانی کی کوئی تصویر بھی دستیاب نہیں تھی۔لیکن افغانستان سے امریکی فوجی انخلا اور کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد یہ دونوں شخصیات ملک کو بیرونی قبضے سے آزاد کرانے والوں کے طور پر کیمروں کے سامنے فخریہ انداز میں آتی رہی ہیں۔
افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر رحمت اللہ نیبل کا کہنا ہے کہ سراج الدین حقانی سمیت حقانی نیٹ ورک کے کئی رہنما، الظواہری کی ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد کابل چھوڑ کر جنوب مغربی افغانستان میں اپنے پوشیدہ ٹھکانوں میں واپس چلے گئے ہیں۔ افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق عہدے دار نبیل کہتے ہیں کہ الظواہری پر حملے کے بعد سراج الدین حقانی پکتیا چلے گئے اور ان کے تمام قریبی ساتھی بھی روپوش ہو گئے ہیں۔اب وہ وزارت داخلہ میں نظر نہیں آ رہے۔ سراج الدین حقانی اس حملے سے پہلے اور بعد میں اپنی پالیسیوں اور روابط کی بنا پر خوف زدہ ہیں۔
طالبان کا کہنا ہے کہ انہیں کابل کے مرکزی حصے میں الظواہری کی رہائش گاہ کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ جب کہ دلچسپ بات یہ کہ الظواہری کا خاندان جس عمارت میں رہ رہا تھا وہ طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی سے جب صحافیوں نے پوچھا کہ آیا طالبان کو کابل میں الظواہری کی موجودگی کا علم تھا؟ اس پر ان کا کہنا تھا کہ حقانی نیٹ ورک کے سینئر ارکان الظواہری کی موجودگی سے باخبر تھے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کو ایک بار پھر افغانستان کو بین الاقوامی دہشت گردوں کا مرکز بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔جان کربی نے منگل کو کہا تھا کہ اگر ہمارے پاس قابل اعتماد شواہد ہوئے کہ کوئی دہشت گرد افغانستان میں یا کہیں اور کام کر رہا ہے، تو امریکی صدر اس ملک اور امریکی عوام کے دفاع کے لیے کارروائی کریں گے۔



