بین الاقوامی خبریں

بدنام زمانہ ناول نویس سلمان رشدی پر قاتلانہ حملے پر ایران کا رد عمل کیا ہے؟

نیویارک ،13اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بدنام زمانہ اور متنازعہ ترین کتاب ’’شیطانی آیات ‘‘ کے مصنف سلمان رشدی کو جمعے کے روز نیویارک میں حملے کے بعد زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق حملہ آور نے ایسے میں سلمان رشدی کی گردن پر وار کیے ہیں جب وہ ایک انسٹی ٹیوٹ میں لیکچر دینے والے تھے۔سلمان رشدی کو 80 کی دہائی میں ایک ایسی کتاب لکھنے پر ایران سے قتل کی دھمکیاں ملی تھیں جس کتاب کو کئی مسلمان اہانت آمیز قرار دیتے ہیں۔مصنف سلمان رشدی کے ایجنٹ اینڈریو وائل نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بذریعہ ای میل مطلع کیا ہے کہ ان کی جانب سے اچھی خبر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلمان رشدی کی ایک آنکھ ضائع ہو سکتی ہے اور اس حملے میں ان کے بازو کی اعصابی نسیں کٹ گئی ہیں اور چاقو کے وار سے جگر کو نقصان پہنچا ہے۔

سلمان رشدی پر قاتلانہ حملے پر ایران کا رد عمل کیا ہے؟

چہرہ ڈھانپے شخص نے جب 75 سال قبل ہندوستانی مسلماں ماں باپ کے ہاں پیدا ہونے والے بدنام زمانہ سلمان رشدی پر حملہ آور ہوا تو اس نے رشدی پر چاقو سے 10 سے 15 وار کیے۔ یہ سب صرف بیس سیکنڈز میں ہوا جس کے نتیجے میں یہ بدنام زمانہ سلمان رشدی شدید زخمی ہو گئے۔

رشدی اس وقت نیویارک کے شاتاقوا انسٹی ٹیوٹ آف لیٹرز میں فنی آزادی پر اپنے لیکچر دینے کی تیاری کر رہا تھا۔اگر رشدی حملہ کے وقت پیچھے نہ ہٹتا تو شاید بائیس سالہ نوجوان ان کی جان لے لیتا۔

چونکہ سلمان رشدی کی ’شہرت‘ کے ساتھ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خمینی کا فتویٰ بھی جڑا ہوا جس میں خمینی نے سلمان رشدی کو ’شیطانی آیات‘ کتاب لکھنے پر واجب القتل قرار دیا تھا اور ایران نے رشدی کے قتل پر تیس لاکھ ڈالرکا انعام بھی رکھا ہے۔چنانچہ رشدی پر قاتلانہ حملے پر ایران کی طرف سے رد عمل فطری بات ہے۔ایرانی جوہری مذاکراتی ٹیم کے مشیر محمد مراندی نے ایک ٹویٹ میں رشدی پر حملے پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے امریکہ اور ایران تہران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب امریکی قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن پرحملے کی ایرانی سازش رچانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے ٹویٹ میں کہا کہ میں ایسے مصنف پر نہیں روؤں گا جو مسلمانوں اور اسلام کے لیے لامتناہی نفرت اور حقارت پھیلاتا ہے۔ عجیب بات ہے کہ جیسے ہی ہم ممکنہ جوہری معاہدے کے قریب پہنچتے ہیں،امریکہ بولٹن پر حملے کا الزام لگاتا ہے۔ پھر ایسا ہوتا ہے؟ ٹویٹ کے نیچے انہوں نے رشدی، بولٹن اور سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی تصاویر پوسٹ کیں۔رشدی نے 1988 میں شیطانی آیات کے نام سے ایک ناول شائع کیا تھا جس نے عالم اسلام میں غم وغصے کی لہر دوڑا دی تھی، کئی ممالک میں سخت مشتعل احتجاج کئے گئے تھے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button