بین الاقوامی خبریں

ٹرمپ کی تصویر پوسٹ کرنے پر خاتون نوکری سے برطرف

واشنگٹن ،13اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جہاز میں بطور فلائٹ اٹینڈڈ کام کرنے والی امریکی خاتون کو اس وقت ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑ گئے جب اس نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک کارٹون پوسٹ کیا تھا۔ دوران ملازمت خاتون فلائٹ اٹینڈنٹ کی یہ حرکت جرم بن گئی اور اسے ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔

امریکی شہری لیونڈرا ٹیلر ڈیلٹا ائیر لائن میں کام کرتی تھیں، ڈلٹا ائیر لائن کے خلاف ملازمت سے نکالنے کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ کہ اسے ملازمت سے نکال کر اس کے شہری حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ڈیلٹا نے امریکن شہری کی فیس بک پر اس پوسٹ کو نسل پرستانہ قرار دیا ہے اور یہ بھی موقف اختیار کیا ہے کہ ایسا کرنا کمپنی کی سوشل میڈیا پالیسی کے خلاف ورزی پر مبنی تھا، جس کا ارتکاب لیونڈرا ٹیلر نے کیا ہے۔

واضح رہے ائیر لائن کی اس ملازمہ کو 2021 میں ملازمت سے نکالا گیا تھا۔ٹرمپ کی اس کارٹونک تصویر میں انہیں موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کے مقابلے میں ایک ماڈریٹر کے طور پر دکھایا گیا ہے اور اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے شکریہ صدر اس ماسک پہننے پر۔یہ تصویر بنیادی طور پر مانٹریال گزٹ میں شائع کیا گیا تھا۔ اس کے بنانے والے کا نام ٹیری موشر ہے۔ ٹیلر نے کہا ہے کہ اس نے جو کارٹون شئیر کیا ہے وہ نسل پرستانہ، نفرت پر مبنی اور کسی کے لیے ہتک آمیز نہیں ہے۔’

تاہم کمپنی کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس امریکی شہری خاتون نے یہ کالوں کے خلاف تعصب کی بنیاد پر کیا ہے۔ ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ ڈیلٹا نے اپنی ایک سفید فام ملازمہ کو بھی سیاست کی وجہ سے ائیر لائنز سے نکالا ہے۔ نائب ترجمان نے مزید کہا ‘ ایرانی ڈرون امریکی افواج اور امریکی اتحادیوں کے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں ، اس لیے امریکہ صرف اقتصادی پابندیوں تک نہ رہے گا بلکہ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پیچھے تک جائے گا اور ایران کو ڈرونز سے متعلق لوازمات فراہم کرنے والوں اور ایرانی خریدداری کے پورے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے اقدامات بھی کرے گا۔

 ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر چھاپہ، ایف بی آئی نے خفیہ دستاویزات کے 20 ڈبے قبضے میں لیا

واشنگٹن ،13اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی محکمہ انصاف نے تصدیق کی ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران ایف بی آئی نے 20 بکسوں پر مشتمل خفیہ دستاویزات کے 11 سیٹ قبضے میں لیے ہیں۔محکمہ انصاف کے مطابق سابق صدر سے جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی سمیت دیگر جرائم کے تحت تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ فار سدرن ڈسٹرکٹ آف فلوریڈا نے جمعے کو ٹرمپ کے اعتراض کے باوجود سربمہر وارنٹ کو کھول دیا۔

وارنٹ کے مطابق سابق صدر سے جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی، انصاف کی راہ میں حائل ہونے اور اہم دستاویزات کو سنبھالنے میں مجرمانہ غفلت کے شبہ میں تحقیقات کی جار ہی ہیں۔ تاہم اس جرم کے تحت کسی پر کوئی الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔یہ چھاپہ اس تفتیشی کارروائی کا حصہ تھا جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ سابق صدر جنوری 2021 میں اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد وائٹ ہاؤس سے جاتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کی معلومات کے علاوہ کچھ حساس نوعیت کا ریکارڈ اپنے ساتھ لے گئے تھے۔وارنٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سابق صدر کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران ایف بی آئی نے دستاویزات کے 20 سے زائد ڈبے ضبط کر لیے ہیں۔

ان میں سے کچھ ڈبوں پر ٹاپ سیکریٹ، سیکریٹ اور کانفیڈینشل لکھا ہوا ہے۔ کچھ مواد پر پوٹینشل پریذیڈینشل سیکریٹ، متفرق خفیہ دستاویزات، لکھا ہوا ہے جن میں ہاتھ سے لکھے ہوئے کچھ نوٹس اور تصاویر بھی شامل ہیں۔وارنٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایف بی آئی کے چھاپے کے دوران ٹرمپ کی رہائش گاہ میں اُن کے دفتر، اسٹور رومز اور وہ تمام کمرے جو ٹرمپ یا اْن کے اسٹاف کے زیرِ استعمال ہیں کی تلاشی لی گئی۔

ٹرمپ کی رہائش گاہ پر چھاپے کے وارنٹ کی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے خود منظوری دی تھی, اْنہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ محکمہ انصاف ایسے فیصلے کو آسان نہیں سمجھتا۔ بلکہ کوشش کرتا ہے کہ بغیر کسی ناخوش گوار واقعے کے تلاش کے ایسے متبادل ذرائع استعمال کرتا ہے جس کے ذریعے صرف ان جگہوں کی تلاشی لی جائے، جہاں سے مطلوبہ مواد ملنے کی امید ہو۔امریکہ میں جاسوسی ایکٹ 1917 ایسی تصاویر لینے، اہم معلومات کی نقل کرنے اور امریکی دفاع سے متعلق حساس معلومات کے ذریعے امریکہ کو نقصان پہنچانے یا کسی دوسرے ملک کے فائدے کے لیے استعمال کرنے سے روکتا ہے۔

یہ ایکٹ جاسوسی کے علاوہ حساس معلومات کو سنبھالنے میں غیر محتاط یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔وہیں ٹرمپ نے اپنی رہائش گاہ پر چھاپے کے بعد سخت ردِعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ سابق صدر براک اوباما آفس چھوڑتے ہوئے اپنے ساتھ حساس دستاویزات لے گئے تھے۔

ایک بیان میں سابق صدر کا کہنا تھا کہ سابق صدر اوباما اپنے ساتھ 33 ملین صفحات پر مشتمل کلاسیفائیڈ دستاویزات لے گئے تھے، ان میں سے کتنی جوہری ہتھیاروں سے متعلق تھیں؟ جواب یہ ہے کہ بہت سی۔امریکی نیشنل آرکائیو نے سابق صدر ٹرمپ کے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے فوری بیان جاری کیا کہ اوباما کے آفس چھوڑتے ہی تمام حساس نوعیت کی دستاویزات قبضے میں لے لی گئی تھیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button