بین الاقوامی خبریں

بدنام زمانہ سلمان رشدی کو چاقو زنی کرنے والا مشتبہ ملزم لبنانی نژاد نکلا

نیویارک، 14اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکہ کے شہر نیویارک میں سلمان رشدی کو چاقو گھونپنے والے ملزم ہادی مطرکا آبائی تعلق لبنان کے جنوب میں واقع گاؤں یارون سے ہے۔لبنان کے روزنامہ النہار نے ہفتے کے روز خبردی ہے کہ نوجوان ملزم لبنانی نڑاد ہے۔یارون کی بلدیہ کے سربراہ علی قاسم طحفی نے اخبارکو بتایا کہ مطر کے والد اور والدہ دونوں کا تعلق ان کے گاؤں سے ہے۔

البتہ احمد مطر امریکہ میں پیدا ہوااور وہ کبھی یارون نہیں آیا۔لبنانی نڑاد حملہ آور نے بھارت نژاد ناول نگارسلمان رشدی پرجمعہ کو نیویارک ریاست میں ایک لیکچر کے دوران میں گردن پر چاقو سے وار کیا تھا۔پھررشدی کوہیلی کاپٹرکے ذریعے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔75سالہ رشدی کو اس وقت نیویارک کی مغرب میں واقع شوٹاکواانسٹی ٹیوشن میں فنکارانہ آزادی کے موضوع پر سیکڑوں سامعین سے گفتگو کرنے کے لیے متعارف کرایا جا رہا تھا۔تب ایک شخص اچانک اسٹیج پر پہنچا اوراس نے رشدی پر چاقو سے پے درپے وار شروع کردیے جس سے وہ زخمی ہوگیا۔

پولیس کے مطابق مشتبہ حملہ آور نیو جرسی کے علاقے فیئرویو سے تعلق رکھتا ہے۔اس کی عمر 24 سال اور نام ہادی مطر ہے۔اس نے بھی تقریب میں شرکت کا پاس خریدکررکھا تھا۔توہین رسالت کے مرتکب سلمان رشدی بھارت کے تجارتی شہربمبئی(اب ممبئی)میں ایک مسلم کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔اس کے بعد وہ برطانیہ چلے گئے تھے۔

وہ ایک طویل عرصے سے اپنے چوتھے ناول شیطانی آیات (دی سیٹینک ورسز) میں اسلام کی مقدس شخصیات کے خلاف توہین آمیزمواد لکھنے پرروپوشی کی زندگی گزاررہے ہیں۔رشدی کا یہ متنازع ناول 1988میں شائع ہوا تھا۔اس میں شامل توہین آمیزاور گستاخانہ مواد پر سب سے پہلے ہندوستان کے وزیراعظم آنجہانی راجیوگاندھی کی حکومت نے اس ناول کی اشاعت پرپابندی عائد کی تھی۔اس کے بعد کثیرمسلم آبادی والے بیشترممالک میں اس کی اشاعت پرپابندی عائد کردی گئی تھی۔

اس کے چند ماہ کے بعد 1989ء میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈرآیت اللہ روح اللہ خمینی نے ایک فتویٰ یا مذہبی فرمان جاری کیا تھاجس میں مسلمانوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس ناول نگاراورکتاب کی اشاعت میں شامل کسی بھی شخص کو توہین رسالت کے الزام میں قتل کردیں۔ایران نے رشدی کے سرکی قیمت بھی مقرر کررکھی ہے۔


سلمان رشدی کو باقاعدہ منصوبہ بندی سے ہدف بنایا گیا: امریکی استغاثہ

نیویارک، 14اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ہند برطانوی مصنف سلمان رشدی پر چاقو سے حملہ کرنے والے ملزم نے ارادہ قتل اور حملہ کرنے کے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ امریکی استغاثہ نے اسے منصوبہ بندی کے تحت ’سوچا سمجھا‘ جرم قرار دیا ہے۔امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سنیچر کو ملزم ہادی مطر کے وکیل نے مغربی نیو یارک میں پیشی کے دوران ان کی جانب سے درخواست داخل کی۔

ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ سیاہ اور سفید رنگ کے جمپ سوٹ میں ملبوس تھا اور چہرے پر سفید ماسک لگا رکھا تھا، جبکہ ان کو ہتھکڑی لگی ہوئی تھی۔ڈسٹرکٹ اٹارنی جیسن شمٹ کے یہ بتانے کے بعد کہ ہادی مطر نے جان بوجھ کر ایسے اقدامات اٹھائے جس سے وہ سلمان رشدی کو نقصان پہنچا سکیں، جج نے ان کی ضمانت مسترد کر دی۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے تقریب کا پیشگی پاس حاصل کیا تھا اور ایک روز قبل ہی جعلی آئی ڈی کے ساتھ پہنچ گیا تھا۔

جیسن شمٹ کے مطابق ’سلمان رشدی کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ ہدف بنایا گیا۔ہادی مطر کے وکیل نتھانیئل بارون نے شکایت کی کہ حکام نے ان کے موکل کو جج کے سامنے لانے میں بہت زیادہ وقت لیا۔ہادی مطر کے وکیل نتھانیئل بارون نے شکایت کی کہ حکام نے ان کے موکل کو جج کے سامنے لانے میں بہت زیادہ وقت لیا۔ آئین یہ حق دیتا ہے کہ ملزم کو جرم ثابت ہونے تک معصوم سمجھا جائے۔

واضح رہے کہ 24 سالہ ہادی مطر پر الزام ہے کہ انہوں نے جمعے کو سلمان رشدی پر شیتوقوا انسٹیٹیوٹ میں حملہ کیا تھا۔ان کے ایجنٹ اینڈریو وائلی نے جمعے کو بتایا تھا کہ سلمان رشدی کے جگر،ہاتھ کے اعصاب اور آنکھ کو نقصان پہنچا ہے اور وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔ ان کی زخمی آنکھ ضائع ہونے کا بھی امکان ہے۔تاہم مصنف آتش تاثیر نے سنیچر کو ٰایک ٹویٹ میں بتایا کہ سلمان رشدی کو وینٹی لیٹر سے ہٹا دیا گیا ہے اور وہ بات کر رہے ہیں۔اینڈریو وائلی نے بھی مزید تفصیلات بتائے بغیر اس بات کی تصدیق کی ہے۔سلمان رشدی پر حملے پر پوری دنیا نے صدمے اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button