بین الاقوامی خبریں

غربت سے تنگ خاتون نے دو بچیاں قتل کرکے خودکشی کرلی

صنعاء، 21اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) یمن میں غربت سے تنگ ایک خاتون نے اپنی دو کم سن بیٹیوں کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کرلی۔ یہ واقعہ جنوبی یمن کی لحج گورنری میں پیش آیا۔ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ بہ ظاہرلگتا ہے کہ خاتون نے غربت سے تنگ آکراپنی اور بچیوں کی جان لے لی۔المقاطرہ کے ڈائریکٹر ریسرچ میجر طارق الحمیدی نے تصدیق کی ہے کہ ڈائریکٹوریٹ کے الرفد علاقے میں ایک خاتون اور اس کی دو بیٹیوں کی پانی کی ٹینکی سے لاشیں ملی۔انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات میں اس کیس میں کسی مجرمانہ عنصر کی موجودگی کو مسترد کر دیا گیا ہے اور امکان ہے کہ موت کی وجہ غربت اور بھوک کی وجہ سے ماں کی اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ خودکشی تھی۔

الحمیدی نے کہا کہ والدہ خدیجہ عبدہ قائد السودہ العشبوت کی 35 سالہ رہائشی ہیں۔جاں بحق بچیوں کی کی شناخت الہام مختار عبدالکریم اور احلام مختار عبدالکریم کے نام سے کی گئی ہے۔ بڑی بیٹی کی عمر دس سال اور چھوٹی کی سات سال ہے۔ دونوں گذشتہ منگل سے لاپتہ تھیں۔ کسی خاتون نے بتایا کہ ان کی لاشیں پانی کے ایک تالاب میں پڑی ہیں۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔


لیبیا میں 5 کم سن حقیقی بھائیوں کی دَم گھٹنے سے المناک موت

طرابلس، 21اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اردن میں پانچ کمسن حقیقی بھائیوں کی موت کے سانحے کے چند روز بعد لیبیا میں بھی ایسا ہی ایک سانحہ رونما ہوا ہے جہاں کیڑے مار دوائی سونگھنے سے پانچ بچے جو آپس میں حقیقی بھائی تھے، دم توڑ گئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچوں نے مہلک کیڑے مار دوائی سونگھ لی اور جس سے ان کا دم گھٹ گیا۔ واقعے نے پورے لیبیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔دارالحکومت طرابلس کے یونیورسٹی اسپتال نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام کیسزجمعہ کی شب انتہائی خراب حالت میں پہنچے۔ان میں ایک 7 ماہ کی بچی بھی ہے۔ تین دیگر بچے جمعہ کی صبح چل بسے جب ایک دوپہر کو فوت ہوا۔انہوں نے نشاندہی کی کہ یونیورسٹی کے اسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر اور تمام عملہ اب بھی متوفی کے 3 دیگر بھائیوں کی جان بچانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

یہ تینوں بچے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہیں۔اسپتال نے تصدیق کی کہ تمام ڈاکٹروں اور ماہرین نے بچوں کو بچانے کی بھرپور کوشش کی تاہم زہر کی مقدار بہت زیادہ تھی اور بچے جب اسپتال لائے گئے تو وہ کومے میں تھے۔ہسپتال انتظامیہ نے تمام والدین سے اپیل کی کہ وہ کیڑے مار ادویات کے استعمال میں احتیاط برتیں کیونکہ ان میں زہریلے اور مہلک مادے ہوتے ہیں۔سوشل میڈیا پر سرگرم کارکنوں نے جاں بحق ہونے والے خاندان کے افراد کے نام شائع کیے، جن کا تعلق دارالحکومت طرابلس کے مشرق میں واقع علاقے زناطہ سے ہے۔بچوں کی عمریں چودہ سال سے سات ماہ کے درمیان ہیں۔


فرانسیسی صدر کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے الجزائرکا دورہ کریں گے

پیرس، 21اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) فرانس کے صدرعمانوایل ماکرون اگلے ہفتے الجزائر کا دورہ کریں گے۔ان کے اس دورے کا مقصد پیرس اورالجزائر کے درمیان کشیدہ تعلقات کو بہتربنانا ہے۔فرانسیسی صدارت نے ہفتے کے روزایک بیان میں کہا ہے کہ یہ دورہ مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔بیان کے مطابق ماکرون اورالجزائری صدرعبدالمجید تیببونے ٹیلی فون بات چیت کی ہے اور انھوں نے علاقائی چیلنجوں کے پیش نظر فرانکو،الجزائردوطرفہ تعاون کو تقویت دینے اور ماضی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے کام جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ماکرون آئندہ ہفتے جمعرات سے ہفتے کے روز تک الجزائر کا دورہ کرنے والے ہیں۔

فرانس اورالجزائر کے تعلقات گذشتہ سال کے آخرمیں اس وقت کشیدہ ہو گئے جب ماکرون نے مبینہ طورپرسوال اٹھایا تھا کہ کیا الجزائر فرانسیسی حملے سے پہلے ایک قوم کے طورپرموجود تھا؟انھوں نے اس ملک کے سیاسی فوجی نظام پرتاریخ کو دوبارہ لکھنے اورفرانس کے خلاف نفرت پھیلانے کا الزام عاید کیا تھا۔اس کے جواب میں الجزائرنے پیرس سے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کے بعد سے دونوں فریقوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں کچھ بہتری آئی ہے۔یادرہے کہ شمالی افریقہ مں واقع الجزائر نے آٹھ سالہ شدید جنگ کے بعد فرانسیسی استعمار سے آزادی حاصل کی تھی اور آزادی کی یہ جنگ مارچ 1962 میں ایویان معاہدے پر دست خط کے ساتھ ختم ہوئی تھی۔

اسی سال 5 جولائی کوالجزائر میں ایک ریفرینڈم منعقد ہواتھا۔اس میں 99.72 فیصد عوام نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔اس کے چند روز بعد الجزائر بالآخرفرانس کے نوآبادیاتی نظام سے آزاد ہو گیا تھا لیکن مسلم اکثریتی ملک پرفرانس کے 132 سالہ قبضے کی ناخوش گوار یادیں دونوں ملکوں کے درمیان خوش گواردوطرفہ تعلقات کی راہ میں حائل ہیں اور ان کی بازیافت اکثرالجزائریوں کو فرانسیسی چیرہ دستیوں کے خلاف برافروختہ کردیتی ہے۔


گرم موسم اور بارشوں میں کمی ، چین میں خشک سالی کا الرٹ جاری

بیجنگ ، 21اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چین نے کئی علاقوں میں شدید گرمی اور بارشوں کی کمی کے بعد رواں برس خشک سالی کا پہلا قومی الرٹ جاری کر دیا ہے۔حکام نے خشک سالی کے باعث دریائے یانگٹسی کے خشک ہو جانے والے حصے کے اطراف فصلوں کو جھلسا دینے والے درجہ حرارت سے بچانے کے لیے خصوصی ٹیمیں روانہ کر دی ہیں۔حکام نے خشک سالی کا الرٹ جمعرات کو ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب جنوب مغرب میں سچوان سے لے کر شنگھائی میں دریائے یانگسٹی کے ڈیلٹا کے علاقوں میں شدید گرمی پڑ رہی ہے۔

چینی حکام گلوبل وارمنگ کو شدید گرمی کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔خیال رہے کہ دریائے یانگٹسی کا شمار ہ دنیا کے طویل ترین دریاؤں میں ہوتا ہے جس کی کل لمبائی 6300 کلو میٹر ہے۔چین کے سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق چین کے شہر چونگ چنگ کے جنوب مغربی علاقے میں بارشیں معمول کے مقابلے میں 60 فی صد کم ہوئی ہیں۔ بارشوں میں کمی کی وجہ سے علاقے کی34 کاؤنٹیز میں 66 دریا سوکھ گئے۔ علاقے کی مٹی میں نمی کا تناسب بھی مسلسل کم ہو رہا ہے۔چین کے محکمہ موسمیات کے مطابق چونگ چنگ کے شمال میں واقع ضلعے بے بے میں جمعرات کو درجہ حرارت 45 ڈگری تک پہنچ گیا۔ملک کی وزارت برائے ہنگامی امور کے اعداد و شمار کے مطابق، صرف جولائی میں بلند درجہ حرارت نے 400 ملین ڈالر کا براہ راست اقتصادی نقصان پہنچایا، اور اس سے 55 لاکھ افراد متاثر ہوئے۔

دوسری جانب چین کے محکمہ موسمیات نے مسلسل 30 ویں روز جمعے کو بھی ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 4.5 ملین مربع کلومیٹر کے علاقے میں گزشتہ ماہ کے دوران اوسط درجہ? حرارت 35 ڈگری سیلسیس رہا۔چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق وسطی چین کے صوبے جانگشی میں خشک سالی کے باعث دریائے یانگٹسی سے نکلنے والی پویانگ جھیل میں ایک چوتھائی پانی رہ گیا ہے۔خیال رہے کہ چونگ چنگ میں چین کے 10 گرم ترین علاقے شامل ہیں جہاں بشن ضلعے کا درجہ حرارت 39 ڈگری تک پہنچ چکا ہے۔ شنگھائی میں پارہ 37 ڈگری سیلسس کو چھو چکا ہے۔اطلاعات کے مطابق چونگ چنگ میں گرمی کی شدت کے باعث انفراسٹرکچر اور ایمرجنسی سروسز پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ علاقے میں جنگلات میں بھڑکنے والی آگ کے باعث فائر فائٹرز ہائی الرٹ پر ہیں۔چینی میڈیا کے مطابق گرمی کی شدت میں اضافے کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں ہیٹ اسٹروک کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔


امریکہ کی جوہری معاہدے کے بارے میں اسرائیل کو یقین دہانی

نیویارک، 21اگست:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی اور اسرائیلی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں تل ابیب کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ واشنگٹن نے جوہری معاملے ایران کے ساتھ نئی رعایتوں پر اتفاق نہیں کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے اسرائیل کو مطلع کیا کہ 2015 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچنا آسان نہیں ہے۔دریں اثنا اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے حالیہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ اسرائیل کے قومی سلامتی کے مشیر ایال ہولاٹا اگلے منگل کو واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب جیک سلیوان سے ملاقات کریں گے۔

ایران پاسداران انقلاب کو بلیک لسٹ سے نکالنے کے مطالبے سے دست بردارصدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں ایک سینئر امریکی اہلکار نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے باضابطہ طور پر پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ ترک کر دیا ہے۔ اس سے قبل ایران کی طرف سے جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں میں یہ ایک اہم نکتہ تھا۔اہلکار نے جمعہ کو CNN کو بتایا کہ تہران نے پیر کو یورپی یونین کی جانب سے 2015 کے معاہدے کو بحال کرنے کی تجویز کے جواب میں پاسداران انقلاب کو دہشت گردی کی فہرست سے نکالنے کا مطالبہ نہیں کیا جو اس کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ متن کا موجودہ ورڑن اور جو کچھ وہ مانگ رہے ہیں اس سے اس مطالبے کو ختم کر دیا گیا ہے۔ امریکا بارہا اس درخواست کو مسترد کر چکا ہے۔ لہٰذا اگر ہم کسی معاہدے کے قریب ہیں تو اسی لیے ایران نے اس مطالبے کو مزید نہیں دہرایا۔انہوں نے واضح کیا کہ تہران نے پاسداران انقلاب سے منسلک کئی کمپنیوں کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنے کے اپنے مطالبات کو ترک کر دیا ہے ۔


میانمار کا بھی روس سے سستے داموں پٹرول خریدنے کا فیصلہ

ینگون، 21اگست :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)میانمار کے قابض فوجی حکمراں نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر روس سے تیل در آمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس طرح جنوبی ایشیائی ممالک میں میانمار بھارت کے بعد روس سے تیل خریدنے والا دوسرا ملک بن گیا ہے۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق میانمار میں گزشتہ برس جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر قابض ہونے والے فوجی حکمراں کے ترجمان نے بتایا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے باعث روس سے سستے داموں تیل خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔فوجی حکمراں کے ترجمان نے مزید کہا کہ روس سے ملنے والا پٹرول نہ صرف معیاری ہے بلکہ سستا بھی ہے۔ ہمارے ملک کو عالمی پابندیوں کی وجہ سے معاشی بحران کا سامنا ہے اس صورت حال کم قیمت تیل کی خریداری ضروری ہے۔میانمار کے فوجی حکمراں من آنگ نے گزشتہ ماہ روس کا دورہ کیا تھا جس کے دوران تیل کی درآمد سے متعلق معاملات طے پائے تھے۔

اس کے علاوہ میانمار، چین اور روس کء تعاون سے تیل کے کنوؤں کی تلاش کا کام بھی کرے گا۔دوسری جانب یورپ کی جانب سے تیل نہ خریدنے پر پریشانی کے شکار روس نے تیل کی فروخت کے لیے نئے خریدار کے لیے کوشاں ہے۔ اس لیے میانمار سے تیل معاہدہ بغیر کسی دشواری کے طے پاگیا۔خیال رہے کہ میانمار میں گزشتہ ہفتے پٹرول پمپس بند ہوگئے تھے اور ملک میں تیل کی قلت کا سامنا ہے تاہم روس سے تیل کی کھیپ ستمبر تک آنے کی توقع ہے جس سے ملک میں پٹرول کی کمی دور ہوجانے کا امکان ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button