بین الاقوامی خبریں

ممکن ہے کہ خاتون صحافی ہمارے فوجی کے ہاتھوں ماری گئی ہوں: اسرائیلی آرمی

فلسطین نے ابو عاقلہ کے قتل کی اسرائیلی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی

مقبوضہ بیت المقدس، 6ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اسرائیلی فوج نے مئی میں الجزیرہ کی ایک معروف صحافی shireen abu akleh کو قتل کی تحقیقات کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا ’ قوی‘ امکان ہے کہ وہ کسی فوجی کے ہاتھوں ہلاک ہوئی ہوں،۔ لیکن یہ بھی کہا ہے کہ وہ فائرنگ حادثاتی تھی اور کسی کو سزا نہیں دی جائے گی۔شیریں ابو عاقلہ مئی میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے ایک چھاپہ کی کوریج کے دوران ہلاک ہو گئی تھیں۔فلسطینیوں نے اس قتل کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

اسرائیل نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئی ہوں ،لیکن بعد میں کہا کہ ہو سکتا ہے کہ کسی فوجی نے فائرنگ کے تبادلے کے دوران غلطی سے انہیں نشانہ بنایا ہو۔فلسطینی نژاد امریکی صحافی شیریں ابو عاقلہ نے دو دہائیوں تک سیٹلائٹ چینل کے لیے مغربی کنارے کی کوریج کی تھی اور وہ پوری عرب دنیا میں مشہور تھیں۔صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ایک سینئر فوجی اہلکار نے کہا کہ فوج حتمی طور پر اس بات کا تعین نہیں کر سکی کہ فائرنگ کہاں سے ہوئی ، انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ اسی علاقے میں فلسطینی بندوق بردار موجود ہوں جہاں اسرائیلی فوجی تھا۔

لیکن کہا کہ بہت زیادہ امکان ہے کہ فوجی کے ہاتھوں صحافی کو گولی لگی ہو اورایسا غلطی سے ہوا ہو۔اہلکار نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ عینی شاہدین کے بیانات اور ویڈیوز میں کیوں علاقے میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیاں دکھائی نہیں دیتی ہیں، اور یہ کہ جب شیریں ابو عاقلہ کو نشانہ بنایا گیا اس وقت تک اس علاقے میں گولہ باری نہیں ہو رہی تھی۔اس وقت اور ایک اور رپورٹر زخمی ہوگیا تھا۔مئی میں مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی چھاپوں کی کوریج کے دوران ہلاکت کے وقت شیریں نے ہیلمٹ اور ایک جیکٹ پہن رکھی تھی جس پر پریس لکھا ہوا تھا۔

گزشتہ دنوں امریکی دباؤ پر یہ گولی فلسطینی حکام نے برآمد کی جس کا امریکی نگرانی میں اسرائیلی فارنسک ماہرین نے معائنہ کیا۔فوجی بریفنگ کی ہدایات کے تحت نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے اہلکار نے کہاکہ فوجی نے اس کی غلط شناخت کی۔تحقیقات کے نتائج، جن کا اعلان قتل کے تقریباً چار ماہ بعد کیا گیا، بڑی حد تک ان متعددغیر جانبدار تحقیقات سے مطابقت رکھتی ہیں، جو بہت پہلے مکمل کی گئی تھیں۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی عسکریت پسندوں کے ساتھ ایک پیچیدہ لڑائی کے دوران ماری گئی تھیں اور گولی کے صرف فرانزک تجزیے سے ہی اس بات کی تصدیق ہو سکتی ہے کہ ان پر اسرائیلی فوجی نے فائر کیا تھا یا کسی فلسطینی عسکریت پسند نے۔ تاہم، گزشتہ جولائی میں امریکی قیادت میں گولی کا تجزیہ غیر نتیجہ خیز تھا کیونکہ تفتیش کاروں کا کہنا تھا کہ گولی کو بری طرح نقصان پہنچا تھا۔شیریں کے اہل خانہ نے تحقیقات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے قتل کی حقیقت کو چھپانے اور ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارا خاندان اس نتیجے سے حیران نہیں ہے کیونکہ یہ کسی کے لیے بھی واضح ہے کہ اسرائیلی جنگی مجرم اپنے جرائم کی تفتیش نہیں کر سکتے۔ تاہم ہم شدید دکھی اور مایوس ہیں۔خاندان نے غیر جانبدار امریکی تحقیقات اور بین الاقوامی جرائم کی عدالت سے تحقیقات کے مطالبے کا بھی اعادہ کیا ہے۔

فلسطین نے ابو عاقلہ کے قتل کی اسرائیلی تحقیقاتی رپورٹ مسترد کردی

فلسطینی اتھارٹی اور ملک کی بڑی سیاسی اور سماجی تنظیموں اور صحافتی اداروں نے صحافیہ شیریں ابو عاقلہ کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے جاری کردہ اسرائیلی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔فلسطینی حلقوں کی طرف سے اپنے رد عمل میں کہا گیا ہے کہ یہ رپورٹ سراسر جانب داری پرمبنی ہے جس میں قابض فوج کو اس الزام سے بچانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی رپورٹ میں حقائق چھپانے اور مجرموں کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ انصاف اور قانون کا قتل ہے۔ شیریں ابو عاقلہ کا قتل ایک سوچا سمجھا پروگرام تھا اور اس حوالے سے مقامی اور عالمی سطح پر ہونے والی تحقیقات سے یہ ثابت بھی ہوچکا ہے۔تازہ ترین صورتحال میں اسرائیلی قابض فوج نے کہا ہے کہ شہید ابو عاقلہ کو اس کے ایک فوجی نے گذشتہ مئی میں جنین پر دھاوے کی کوریج کرتے ہوئے قتل کیا تھا جو اسرائیلی تحقیقات کے حتمی نتائج میں بیان کیا گیا تھا۔

اس اعتراف کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شیریں ابو عاقلہ کو اسرائیلی فوجی نے غلطی سے نشانہ بنایا، فوجی کو لگا کہ وہ کوئی مسلح شخص ہے جسے گولی ماری گئی جب کہ ذرائع ابلاغ اور دوسرے اداروں کی طرف سیکی جانے والی تحقیقات سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیریں ابو عاقلہ کو انتہائی قریب سے گولی ماری گئی۔ وہ صاف دکھائی دے رہی تھیں اور ان کی صحافتی جیکٹ اور اس پر’پریس‘ کے الفاظ بھی واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ قابض فوج نے کہا کہ ابو عاقلہ غالباً ایک فوجی کی فائرنگ سے ماری گئیں جس نے غلطی سے یہ سوچا کہ وہ فلسطینی بندوق بردار ہے۔ مگر اسرائیلی فوج کا یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد، انسانی حقوق کے منافی اور بین الاقوامی اداروں سمیت میڈیا کی تحقیقات کے خلاف ہے جس میں واضح پتہ چلتا ہے کہ ابو عاقلہ کو ایک اسرائیلی سنائپر نے براہ راست نشانہ بنایا ہے۔ اس نے اپنے صحافتی کام کے لیے ایک مخصوص حفاظتی جیکٹ اور ہیلمٹ پہن رکھا تھا ،جسے دیکھا جا سکتا ہے۔اسرائیلی تحقیقات کے نتائج شائع ہونے کے بعد آج شام جاری ہونے والے ایک بیان میں ابو عقیلہ کے خاندان نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔خاندان نے ایک تحریری بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکومت اور فوج نے ایک بیان جاری کیا جس میں سچائی کو چھپانے اور شیرین ابو عاقلہ کے قتل کی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کی گئی۔


اسرائیلی فوج کا غرب اردن میں متعدد دیواریں مسمار کرنے کا حکم

قابض صہیونی حکام نے بیت المقدس کے جنوب میں الخضر قصبے میں اراضی کے اردگرد قائم دیواروں کو مسمار کرنے کی اطلاع دی۔قابض فوج نے وادی الابیار کے علاقے میں واقع ایک زمین میں قائم دیواروں کو گرانے کا نوٹس رامی یوسف صابری صبح کو دیا۔ لائسنس نہ ہونے کی بنیاد پر دیواریں مسمار کرنے کا حکم دیا اور کہا گیا کہ وہ زمین کو پہلی حالت میں خالی کرے۔ قابض حکام نے الخضر کی اراضی پر آباد کاری کے حملے میں اضافہ کیا ہیاور اسے بلڈوز کر کے درختوں کو اکھاڑ پھینکا اور کمروں اور زرعی تنصیبات کو مسمار کر دیا۔اس سال 2022 کی پہلی ششماہی میں قابض حکام نے فلسطینی تنصیبات کو مسمار کرنے کے 572 نوٹس جاری کیے۔ یہ سب کچھ لائسنس نہ ہونے کی آڑ میں کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button