بین الاقوامی خبریں

اسرائیلی وزیر اعظم نے ابو عاقلہ کے قاتل کیخلاف کارروائی سے انکار کر دیا

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا 'میں اجازت نہیں دو ں گا کہ فوج کا جوسپاہی دہشت گردوں کے سامنے اپنی حفاظت کے لیے کھڑا تھا اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے،

بیت المقدس ، 8 ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اسرائیلی وزیر اعظم یائر لبید نے فلسطینی نڑاد امریکی اور الجزیرہ سے وابستہ خاتون صحافی شیریں ابو عاقلہ پر فائرنگ کر کے قتل کرنے والے اسرائیلی فوجی کے خلاف کیس چلانے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ یائرلبید کا دو ٹوک کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت اور قوم اپنے فوجیوں کے ساتھ ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نے پوری وضاحت کے ساتھ کہا ‘یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم صرف اس بات پراپنے رولز کو تبدیل کریں کہ اس طرح کا مطالبہ بیرون ملک سے آیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ‘میں اجازت نہیں دو ں گا کہ فوج کا جوسپاہی دہشت گردوں کے سامنے اپنی حفاظت کے لیے کھڑا تھا اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے، کوئی بھی ہمیں قواعد تبدیل کرنے کے حوالے ڈکٹیشن نہیں دے سکتا ہے۔اس سے قبل امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان وینڈت پٹیل نے شیریں ابو عاقلہ کی ہلاکت کے بارے میں اسرائیلی فوج کی دوسری تحقیقاتی رپورٹ منظر عام پر آنے پر کہا تھا کہ ہم اپنے اسرائیلی پارٹنرز پر دباو جاری رکھیں گے کہ وہ اپنی فوجی پالیسی اور پریکٹس پر نظرثانی کریں تاکہ سویلین کے لیے ایسے خطرات کم ہوں۔واضح رہے اسرائیلی فوج نے جنین کے پناہ گزیں کیمپ کے مکینوں کے خلاف کارروائی کے دوران شیریں ابو عاقلہ الجزیرہ کے لیے اس کوریج کرتے ہوئے ہلاک کر دیا تھا۔

شیریں ابو عاقلہ نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی تھی۔ اس جیکٹ پر اس کے میڈیا ورکر ہونے کی واضح نشاندہی تھی۔ نیز شیریں ابو عاقلہ نے سر پر ہیلمٹ بھی پہن رکھا تھا، جو اسے پناہ گزین اور اسرائیلی فوج کے زیر ہدف فلسطینیوں سے ممتاز کرتا تھا۔مگر اسرائیلی فوجی نے اس کے باوجود شیریں ابو عاقلہ کے سر کا نشانہ لے کر اسے گولی مار دی تھی، جبکہ اس کے ساتھی کیمرہ مین کو بھی زخمی کر دیا تھا۔اس امریکی شہریت کی حامل خاتون صحافی کی ہلاکت پر کافی شور ہوا تھا۔

اقوام متحدہ کے ایک ذیلی ادارے نے اس بارے میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں اسرائیلی فوج کو اس بے گناہ کی موت کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔اسرائیلی فوج نے اپنے نسبتا دیر سے کی گئی تحقیقات میں اپنے فائرنگ کرنے والے فوجیوں کو بچانے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ ابو عاقلہ فلسطینیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوئی ہے’۔ مگر اسرائیلی رپورٹ کو سب نے مسترد کر دیا تھا۔امریکہ ہی کے ایک اور ترجمان نیڈ پرائس نے بھی اسرائیل پر زور دیا ہے کہ اس واقعے کے ذمہ دار کا احتساب ہونا چاہیے۔ تاکہ اس طرح کے واقعات بار بار نہ ہو سکیں۔ دوسری جانب الجزیرہ ٹی وی نے اسرائیلی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اس رپورٹ کی مذمت ہے۔ الجزیرہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button