تہران،12ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایرانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا تیار کردہ عرش-2 ڈرون طیارہ اسرائیل کے شہروں تل ابیب اور حیفا کو کامیابی سے نشانہ بنا سکتا ہے۔ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’’مہر نیوز‘‘ نے ایران کی بری فوج کے سربراہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے ایک لمبے دورانیے تک پرواز کرنے والا خودکش جہاز تیار کیا ہے جس کی مدد سے تل ابیب اور حیفا تک کامیابی سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ایرانی فوج کے بریگیڈئر جنرل کیومرث حیدری کے مطابق یہ ڈرون طیارہ عرش 1 کو بہتر بنا کر ڈویلپ کیا گیا ہے اسی لیے اس ڈرون کا نام عرش 2 رکھا گیا ہے۔
ایرانی فوج نے جولائی میں مسلح ڈرون لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے بحری جہازوں اور آبدوزوں کی پہلی قسم کی رونمائی کی تھی۔ تب امریکی صدر جو بائیڈن مشرق اوسط کے دورے پر تھے۔مئی میں ایران کے سرکاری ٹیلی ویڑن نے ملک کے مغرب میں زغروس پہاڑی سلسلے کے دامن میں ڈرونز کے لیے ایک فضائی اڈے کی فوٹیج نشر کی تھی۔ ایران کے روایتی دشمن امریکا اور اسرائیل اس سے قبل اس پر یہ الزام عاید کر چکے ہیں کہ وہ خلیج میں امریکی افواج اور اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں پر حملے کے لیے ڈرون اور میزائل استعمال کر رہا ہے۔ واشنگٹن نے جولائی میں کہا تھا کہ ایران یوکرین کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے روس کو سیکڑوں ڈرون بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے مگر تہران نے اس الزام کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
ایران تیل اسمگلنگ کے الزام میں پکڑے گئے یونانی ملاحوں کی رہائی پر تیار
تہران،12ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایران نے تیل اسمگلنگ کے الزام میں پکڑے گئے یونانی شہریوں کو رہا کرنے کا اشارہ دے دیا ہے، امکان ہے کہ ان یونانیوں کو آج پیر کے روز ہی رہا کر دیا جائے گا۔ یہ یونانی شہری تقریبا ایک سو دن سے ایرانی قبضے میں تھے۔ ان کے لیے یونانی حکومت نے غیر معمولی کوشش کی تب جا کر ایران چھوڑنے پر تیار ہوا ہے۔بتایا گیا ہے کہ جب یہ تسلیم کر لیا گیا کہ تیل کی اسمگلنگ کرنے والوں نے یہ تیل واشنگٹن لے کر جاناتھا، اس کے بعد ایران نے ان افراد کی رہائی قبول کی ہے۔
واضح رہے ماہ مئی میں دویونانی ملکیت کے آئل ٹینکروں کوسمندر میں اس وقت پکڑ لیا گیا تھا جب وہ تیل لے کر جارہے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہ تیل امریکہ لے جایا جانا تھا۔یونان نے اس واقعے کی مذمت کی اور ایرانی اقدام کو شہریوں کو یرغمال بنانے کے مترادف قرار دیا۔ ان کی گرفتاری کی یہ کارروائی ایرانی پاسدران انقلاب نے کی تھی۔ خلیج میں گرفتار کیے گئے اپنے شہریوں کی بعد ازاں ایتھیز نے تصدیق کر دی تھی۔یونانی وزارت خارجہ نے بتایا تھا کہ ایران نے ہیلی کاپٹرز کی مدد سے اپنے کمانڈوز اتار کر جہاز کے 49 رکنی عملے کو پکڑا اور اس کے بعد تقریبا ایک سو دن تک انہیں یرغمال بنائے رکھا۔
تاہم اتوار کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنے پہلے سے اختیار کردہ موقف سے دستبرداری کر کے نرمی دکھائی ہے۔یہ پیش رفت یونان کے ایک اعلی سطح کے وفد کی ایران آمد کے بعد ہوئی۔ یونان نے امریکی درخواست پر ضبط کیے گئے ایرانی جہاز کے 100000ٹن تیل کی ایران کو واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے بدلے میں ایران یونانی ملاحوں کو چھوڑ رہا ہے۔



