بین الاقوامی خبریں

 بدلتے عالمی حالات میں ایران، پاکستان اور شمالی کوریا اسلحے کے نئے تاجربن گئے

لندن، 13ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے پس منظر اور اس کے طول پکڑنے کے نتیجے میں اس کے غیر متوقع نتائج کے پیش نظر ہتھیاروں کی فوری خریداری ضروری ہو گئی ہے۔کچھ ممالک ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے شمالی کوریا، ایران، پاکستان اور ترکی جیسے ممالک کا سہارا لینے پرمجبور ہیں۔ہتھیاروں کی مارکیٹ کے مبصرین نے تصدیق کی ہے کہ ہتھیاروں کی عالمی منڈی میں ایک نیا رجحان سامنے آیا ہے جس کی نمائندگی نئے فروخت کنندگان کرتے ہیں جو غیر متوقع طور پر مارکیٹ میں داخل ہوئے ہیں۔

فارسی زبان میں ریڈیو فرانس کی ویب سائٹ کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا، ایران، ترکی اور پاکستان نے اس انتہائی منافع بخش میدان میں ایک چھوٹا سا مقام بنا لیا ہے۔معلومات میں کہا گیا کہ کیوبا کے حوالے سے غریب ممالک میں اسلحے کی تیاری کوئی نئی بات نہیں ہے جو پہلے ہی سابق سوویت یونین کی مدد سے اس مرحلے تک پہنچ چکا تھا۔ترکی نے بھی تقریباً 40 سال پہلے اس میدان میں قدم اٹھایا، جس کا مقصد ہتھیاروں کی درآمد کے لیے اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنا تھا، نہ کہ انھیں برآمد کرنا۔اس حوالے سے گذشتہ ہفتے ایک امریکی رپورٹ میں ایسی دستاویزات سامنے آئی تھیں جن میں بتایا گیا تھا کہ روس شمالی کوریا سے لاکھوں میزائل اور مارٹر خریدتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اگرچہ اس معاہدے کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ امریکی جانتے ہیں کہ پیانگ یانگ روسی فوج کے زیر استعمال گولہ بارود تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ ہتھیار بظاہر یوکرینی محاذوں پر بھیجے جانے کے لیے خریدے گئے تھے۔امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نیچند ماہ قبل کہا تھا کہ تہران روس کو کئی سو ڈرون فراہم کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس کے بعد پینٹاگان نے اعلان کیا کہ ڈرونز کو ایک ایرانی ہوائی اڈے پر روسی کارگو طیاروں میں منتقل کر دیا گیا ہے اور اگست میں یہ طیارے روس کی طرف روانہ ہو گئے۔

ممکن ہے کہ یہ ڈرون شاہد 129 اورمہاجر 6 ماڈلز کے ہوں گے لیکن امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تک یوکرین کے محاذوں پر ان ڈرونز میں سے کسی کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ان میں تکنیکی خرابی اور مسائل ہیں۔ ایرانی ڈرون نے روسیوں کو اپنی ایرانی خریداریوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔نئے فروخت کنندگان سے ڈیلنگ میں روس اکیلا نہیں تھا۔ یوکرین کی ایک مانیٹرنگ سائٹ نے روسی افواج پر پاکستانی گولہ بارود کا انکشاف کیا، جہاں کچھ ویڈیوز میں یوکرین کے فوجیوں کو ایسے گولہ بارود کا انکشاف کرتے دکھایا جن پر "POF” (پاکستان آرڈیننس فیکٹریز) کی مہر موجود ہے۔

یعنی گولہ بارود کی دکانیں پاکستان میں ہیں اور یہ کمپنی پاکستان میں ہتھیار بنانے والی اہم کمپنی ہے۔دوسری طرف ایک امریکی سفارت کار نے فرانسیسی اخبار لی مونڈے کو بتایا کہ یوکرین کو پاکستانی ہتھیاروں کی ترسیل میں امریکا کی ثالثی ہو سکتی ہے۔امریکہ نے اسلام آباد کو 1.7 بلین ڈالر کا قرضہ حاصل کرنے میں مدد کی۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس معاہدے میں برطانیہ نے بھی کردار ادا کیا، جس میں برطانوی فضائیہ کے کارگو طیاروں کی راولپنڈی ایئرپورٹ سے بار بار ٹیک آف اور لینڈنگ ہوتی ہے۔جہاں تک ترکی کا تعلق ہے اگرچہ اس نے یوکرین کی جنگ سے فائدہ اٹھایا اور یوکرین کی فوج کو ڈرون فراہم کیے، مگرانقرہ کی جانب سے ہتھیار تیار کرنے کی کوششیں کئی دہائیاں پرانی ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک دنیا کے ان دس ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو جنگی جہازوں کو ڈیزائن، تعمیر اور مرمت کر سکتے ہیں۔سنہ 2010 سے ترکوں نے فوجی صنعت کاری کے میدان میں خود کفالت کے حصول کے لیے ایک گہرا اور پرجوش پروگرام شروع کیا ہے، جس میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button