کراچی، 16 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کراچی کی رہائشی خاتون کے ہاں ایک ساتھ پیدا ہونے والے 6 بچے انتقال کر گئے۔کراچی کے علاقے کالاپل کی رہائشی خاتون کے ہاں بیک وقت 6 بچے پیدا ہوئے تھے، تاہم ایک بچہ پیدائش سے پہلے ہی فوت ہو گیا تھا، جب کہ 5 بچوں کو این آئی سی میں داخل کیا گیا تھا، تاہم اب یہ افسوسناک خبر یہ ہے کہ خاتون کے باقی 5 بچے بھی فوت ہو گئے ہیں۔
این آئی سی ایچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصر کے مطابق جناح اسپتال سے پانچ بچوں این آئی سی کے نیونیٹل انسینٹو کیئر (این آئی سی یو) میں داخل کیا گیا تھا جو آج صبح انتقال کر گئے۔ڈاکٹر ناصر کا کہنا تھا کہ بچوں کی ولادت قبل از وقت ہوئی تھی اور ان کا وزن آدھے کلو سے بھی کم تھا، دنیا میں ایسے بچوں کے زندہ بچنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔اتوار کی رات کالا پل ہزارہ کالونی کی رہائشی خاتون حنا ناظم نے جناح اسپتال میں ایک ساتھ چھ بچوں کو جنم دیا تھا، جن میں سے چار بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔بچوں کی ڈلیوری جناح اسپتال کی ڈاکٹر عائشہ وارث نے کی تھی، اور انہوں نے بتایا تھا کہ ایک بچہ مردہ حالت میں پیدا ہوا تھا، جب کہ پانچ بچے زندہ تھے اور رو رہے تھے۔
ڈاکٹر عائشہ کے مطابق تمام بچوں کا وزن 700 گرام سے 900 گرام تھا، انہیں فوری طور پر نیونیٹل کیئر کی ضرورت تھی جس کی وجہ سے فوری طور پر بچوں کو این آئی سی ایچ اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بچوں کا وزن کم تھا، لیکن اگر انہیں اچھی نیونیٹل کیئر ملتی تو ان کی زندگیوں کو بچایا جا سکتا تھا۔
چینی شہری نے پاکستانی ملازمہ سے مبینہ زیادتی کے الزام میں گرفتار
اسلام آباد، 16 ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چینی باشندہ کو اپنی کمپنی میں کام کرنے والی پاکستانی دوشیزہ کو آٹھ ماہ تک مبینہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔معاملہ سامنے آنے پر اسلام آباد کے علاقے کورال پولیس نے ملزم کے خلاف کارروائی عمل میں لائی۔پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی کی جانب سے تھانہ کورال میں ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔ درج ایف آئی آر میں لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ مئی 2021سے مذکورہ چینی کمپنی میں پارٹ ٹائم ملازمت کر رہی ہے اور 15روپے تنخواہ لے رہی تھی۔درج ایف آئی آر میں لڑکی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کے چینی مالک قیمنگ ذہینگ نے جنوری2022میں اس کا ریپ کیا اور نوکری سے نکالنے کی دھمکی دے کر کسی کو بتانے سے منع کیا تھا۔
لڑکی کے مطابق چینی باشندہ نے اسے آٹھ ماہ تک متعدد بار ریپ کا نشانہ بنایا۔پولیس نے چینی باشندے کو گرفتار کر کے اس کا موبائل فون اور پاسپورٹ قبضے میں لے لیا ہے، جب کہ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل بھی کرا لیا گیا۔ لڑکی اور ملزم کے ڈی این اے کے لیے نمونے بھی حاصل کر لیے گئے ہیں۔درج ایف آئی آر کے مطابق لڑکی کا کہنا ہے کہ اس کی عمر 16 سال ہے، جب کہ وہ نویں جماعت کی اسٹوڈنٹ ہے۔ ایف آئی آر میں لڑکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ 7 ماہ اور 26 روز کی حاملہ ہے۔مقدمہ درج کروانے والی متاثرہ لڑکی کا تعلق ضلع لودھراں سے ہے تاہم وہ راولپنڈی میں رہائش پذیر ہے۔ چینی باشندے پر تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔



