نیویارک ، 21ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ترک صدر نے کہا کہ وہ کشمیر میں بھی انصاف پر مبنی مستقل امن اور خوشحالی کے قیام کے لیے دعاگو ہیں۔ اس سے قبل بھارت کشمیر کے حوالے سے ان کے بیان پرنکتہ چینی کرتا رہا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے عالمی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے تنازع کشمیر کے حل پر بھی زور دیا۔ان کا کہنا تھا کہ اسی مسئلے کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ابھی تک امن قائم نہیں ہو سکا ہے۔ترک صدر نے ابھی حال ہی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں ہندوستانی پی ایم مودی سے ملاقات کی تھی اور اس کے چند روز بعد ہی ان کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران رجب طیب ایردوآن نے جہاں کئی عالمی امور پر بات کی وہیں کشمیر کے حوالے سے خطے میں پائی جانے والی بے چینی کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان نے 75 برس قبل اپنی آزادی حاصل کر کے خود مختاری قائم کی تھی، اس کے بعد بھی ایک دوسرے کے درمیان اب تک امن اور یکجہتی قائم نہیں ہوپا ئی ہے۔
یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے۔ ہم امید اور دعا کرتے ہیں کہ کشمیر میں بھی انصاف پر مبنی مستقل امن اور خوشحالی قائم ہو۔ترک صدر کا یہ تازہ بیان پی ایم مودی سے ملاقات کے محض چند روز بعد آیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے گزشتہ جمعے کو ازبکستان کے شہر سمرقند میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی اور دو طرفہ تعلقات کی مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا تھا۔
اس موقع پر دونوں ملکوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا۔ترک صدر اس سے قبل بھی وقتاً فوقتا مسئلہ کشمیر کو اٹھاتے رہے ہیں اور اس سے پہلے بھی انہوں نے جنرل اسمبلی میں کشمیر کی کشیدہ صورت حال پر کھل کر بات کی تھی۔ اس مسئلے پر وہ کشمیریوں کے حقوق کی کھل کر حمایت بھی کرتے رہے ہیں۔



