بین الاقوامی خبریں

دفاع کی جنگ میں بیت المقدس کے مسلمان قبلہ اول کو تنہا نہ چھوڑیں: صبری

مقبوضہ بیت المقدس،26ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مسجد اقصیٰ کے مبلغ اور امام الشیخ عکرمہ صبری نے زور دے کر کہا ہے کہ بیت المقدس کے دفاع کے میدان میں مسجد اقصیٰ کو تنہا چھوڑنے کا کوئی جواز نہیں۔شیخ عکرمہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قابض ریاست بتدریج الاقصیٰ پر یہودیوں کی خودمختاری مسلط کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کا اندازہ یہودیوں کی قبلہ اول پر دراندازی سے ہوتا ہے جس کی رفتار ہرسال تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ بیت المقدس شہر اور مسجد اقصیٰ کے ارد گرد قابض ریاست ایک فوجی بیرک ہے اور چاہتا ہے کہ آباد کاروں کی دراندازی بغیر کسی تصادُم کے گزر جائے۔

الاقصیٰ کے مبلغ نے مسجد مبارک کے دفاع میں ہتھیار نہ ڈالنے اور اس میں بڑی تعداد میں ربط کو آباد کاروں کی دراندازی کو پسپا کرنے کے لیے جاری رکھنے پر زور دیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ آباد کار مسجد اقصیٰ کے تقدس کی بے حرمتی کرتے ہیں اور اسے اپنا مبینہ معبد سمجھتے ہیں۔

الشیخ عکرمہ نے عرب اور اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کی حمایت اور اسے قابض ریاست سے بچانے کے لیے اقدامات کریں۔درجنوں آباد کاروں نے آج صبح قابض اسرائیلی فوج کی بھاری نفری میں مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا۔یہ دراندازی نام نہاد عبرانی نئے سال کے موقع پر ہوئی ہے، جب بڑی تعداد میں قابض فوج آباد کاروں کی حفاظت کے لیے مسجد کے صحن میں تعینات ہے۔

مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کے’بگل‘ بجانے کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے

مقبوضہ بیت المقدس ،26ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مسجد اقصیٰ سے متصل باب الرحمہ قبرستان سے اور مسلمانوں کی قبروں پر انتہا پسند یہودا گلک نے چند روز قبل آباد کاروں کے ایک گروپ کے ساتھ بگل‘ بجانے[سینگ پھونکنے] یا جسے ’’شوفر‘‘ کہا جاتا ہے کی رسم ادا کی تھی۔ آہستہ آہستہ گلک نے اپنا بگل مسجد اقصیٰ کے دروازوں تک لے آیا۔مسجد اقصیٰ کے باب قطانین پربجایا گیا۔ یہ اقدام مسجد اقصیٰ اور حرم قدسی کو یہودیوں کے ناپاک قدموں سے بے حرمتی کا حصہ ہے۔اسرائیلی حکومت اور آبادکاری تنظیموں کے حمایت یافتہ انتہا پسند الاقصیٰ کے دروازوں پر کھڑے ہونے سے مطمئن نہیں تھے۔

گذشتہ دنوں مسجد میں ہنگامہ آرائی کے دوران گلِیک نے صحن میں ادا کی جانے والی تلمودی رسومات کے ساتھ ساتھ بگل بجانے کی ریکارڈنگ بھی استعمال کی۔آبادکار مسجد اقصیٰ کے اصل کنٹرول کے حوالے سے اپنے شوفروں کو مسجد اقصیٰ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔بگل بجانا ایک خطرناک پیش رفت ہے ،جوالاقصیٰ کے اندر قربانی کرنے کے خیال کے مترادف ہے کیونکہ یہودیوں کے مطابق ایک نئے وقت کا اعلان کیا گیا ہے جس میں مسجد مبارک ہیکل بن جائے گی۔صہیونی اسے شوفر کہتے ہیں جو ایک مینڈھے کا سینگ ہے اور اس کے کئی مفہوم ہیں۔ اس کا پھونکنا سرزمین مقدس پر اس کنٹرول کی خوشی کا اظہار ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button