بین الاقوامی خبریں

انٹر ٹینمنٹ کے منظرنامے کو بدلناچاہتی ہوں، ملالہ یوسف زئی ہالی وڈ پروڈیوسر بن گئیں

نیویارک، 30ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)دنیا کی کم عمر امن کی نوبیل انعام یافتہ اور لڑکیوں کی تعلیم کی سرگرم پاکستانی کارکن ملالہ یوسف زئی اب ہالی وڈ پروڈیوسر کی حیثیت سے کیریئر کا آغاز کر رہی ہیں۔ملالہ نے ایک تازہ انٹرویو میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ مختلف نسلوں سے تعلق رکھنے والی خواتین،نئے مصنفین اور مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ہدایت کاروں کو متعارف کراکے انٹرٹینمنٹ یعنی تفریح کے منظر نامے کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔ ملالہ نے ، جو سن 2012 میں طالبان کے حملے کے بعد دنیا بھر میں لڑکیوں کی تعلیم کی ایک علمبردار ہیں، یہ بات امریکی میگزین ورائٹی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔انہوں نے کہا کہ میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے سرگرم ہوں، اور میں نے محسوس کیا ہے کہ ہمیں ایکٹیوزم کو صرف این جی اوز کے کام تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔

اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ملالہ نے کہا کہ لوگوں کے ذہنوں اور نقطہ نظر کو تبدیل کرنے کا عنصر بھی ہے، اور اس کے لیے کچھ اور کام کرنے کی ضرورت ہے۔پچیس سالہ ملالہ نے، جو اب لندن میں مقیم ہیں، تین سا ل قبل ایکسٹرا کریکیولر کے نام سے اپنی فلم اور ٹی وی پروڈکشن کمپنی قائم کی تھی۔ کمپنی نے گزشتہ سال ایپل ٹی وی پلس کے ساتھ پروڈکشن کا ایک معاہدہ کیا تھا۔ ان کی شراکت داری سے اس وقت تائیوانی امریکی مصنف ایلین ہسیہ چو کے ناول ڈس اوریئنٹیشن پر ایک فلم تکمیل کے مراحل میں ہے، جو ایک تائیوانی پی ایچ ڈی کے طالب علم سے متعلق ہے۔

انٹرٹینمنٹ کے افق پر غالب رجحانات سے متعلق بات کرتے ہوئے ملالہ نے انٹرویومیں اپنی شناخت کے حوالے سے اظہار کچھ یوں کیا ۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے ڈرامہ سیریز سکسیشن، ٹیڈ لاسو اور ’سیورینس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان پروڈکشنز میں نمایاں کردار سفید فام لوگ ہیں ، خصو صاً بہت سارے سفید فام مرد۔ملالہ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ہم ایک وسیع تناظر کے ساتھہ، اپنے معاشروں میں موجود بعض لگے بندھے تصورات کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ میں یہ بھی امید کرتی ہوں کہ مواد تفریحی ہو گا، اور لوگ ان کرداروں سے پیار کریںگے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button